کوئٹہ کی خواتین صحافی عدم تحفظ کا شکار۔۔

کوئٹہ پریس کلب میں چند روز قبل ہونے والے بیوروچیف کی ایک نشست میں خواتین صحافیوں کو نشانہ بنایاگیا۔۔ پپو نے انکشاف کیا ہے کہ  بیوروچیفس کی اس نشست میں ایک بیوروچیف نے دل کھول کر اور جی بھر کر خواتین صحافیوں کو مغلظات بکیں ، انہیں مادرپدر آزاد گالیاں دیں اور ان کی کردار کشی بھی کی۔۔ پپو کے مطابق دوہری ملازمت یعنی سرکاری ملازمت اور صحافی بن کر مال سمیٹنے والے یہ صاحب جب پکڑے گئے تو اب ان کی ذہنی حالت کنٹرول میں نہیں رہتی، پپو کا کہنا ہے کہ جب یہ صاحب خواتین صحافیوں کو گالیاں بک رہے تھے تو وہاں موجود دیگر صحافی انہیں روکتے رہے مگر طیش میں آیا وہ شخص غصے سے بے قابو تھا،اس لئے روکے جانے کے باوجود باز نہیں آیا۔۔المیہ یہ ہے کہ پریس کلب، بی  یوجے، بیوروچیف اور سینئر صحافیوں نے خواتین صحافیوں کی کردار کشی اور انہیں مغلظات بکنے والے شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور پراسرار خاموشی اختیارکی۔۔ جس کے بعد کوئٹہ میں موجود خواتین صحافی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں