پی ٹی وی اور اے آر وائی کنسورثیم کا متنازع بڈنگ میں حصہ لینا عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، پی ایس ایل کی متنازعہ بولیوں کے حقوق میں پی ٹی وی / اے آر وائی کنسورثیم نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، پی ایس ایل۔7 اور 8 کے براڈکاسٹنگ حقوق کی بولی پی ٹی وی اور اے آر وائی کے کنسورثیم نے حاصل کی ہے جو کہ لاہور ہائی کورٹ کے 2011 کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ سرکاری ٹی وی نے ایک نجی میڈیا گروپ اے آر وائی کے ساتھ کسی مقابلے کے بغیر یا بولیاں دیئے بغیر شراکت داری کی ہے جو کہ نہ صرف عدالتی احکام کی خلاف ورزی ہے بلکہ فیورٹ ازم کی بھی اعلیٰ مثال ہے۔ دونوں پارٹیز پی ایس ایل کی بولی میں غیر شفاف طریقے سے شامل ہوئیں۔ 2011 میں لاہور ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ کوئی کانٹریکٹ مسابقتی عمل کے بغیر نہیں دیا جاسکتا۔ پی ٹی وی / اے آر وائی کنسورثیم نے ابتدائی بولی 2.1 ارب روپے دی تھی ، جب کہ جیو سوپر نے بولیوں کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے 3.36 ارب روپے کی بولی دو سال کے لیے دی تھی۔ تاہم، پی ٹی وی/ اے آر وائی کنسورثیم نے بولی ایک سال کے لیے دی ہے۔ پی سی بی کی بولیوں کے عمل کی کمیٹی نے تمام بولی دہندگان سے دوبارہ بولی دینے کا کہا تھا، جس کے بعد اے آر وائی اور پی ٹی وی نے 4.35 ارب روپے کی بولی دو سال کے لیے دی۔ جب کہ جیو سوپر نے 3.74 ارب روپے کی بولی دو سال کے لیے دی۔ جیو مینجمنٹ نے پی ٹی وی اور اے آر وائی کے درمیان ہونے والی شراکت داری کے قیام پر احتجاج کیا کیوں کہ اس میں دیگر پارٹیوں کو مدعو نہیں کیا گیا جو کہ عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
