پاکستان کے کارکن صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے)کی 75 سال مکمل ہونے پر خیبر یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام پلاٹینیم جوبلی کی ایک باوقار تقریب منعقد کی گئی جس میں صحافیوں، سیاسی جماعتوں کے رہنماوں سمیت دیگر شعبوں کی سرکردہ شخصیات نے شرکت کی، اس موقع پر خیبر یونین کے صدر کاشف الدین سید اور جنرل سیکرٹری ارشاد علی نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔افتتاحی کلمات میں خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید اور سنیر صحافی شمیم شاہدکا کہناتھا کہ 75 سال قبل یعنی 2 اگست 1950 میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی بنیاد رکھی گئی جس کا مقصد نہ صرف صحافیوں کے حقوق بلکہ صحافتی آزادی، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے جدوجہد کرنا تھا۔ پی ایف یو جے کے پلیٹ فارم سے صحافیوں نے سخت اذیتیں برداشت کئے،ڈیکٹیٹرز شپ کے دوران آزادی صحافت کیلئے کوڑے برداشت کئے، جیلیں کاٹی لیکن کسی ڈیکٹیٹر کے سامنے نہیں جھکے۔انہوں نے 1950 سے لیکر اب تک کے حالات پر روشنی ڈالی، صحافیوں کو درپیش مشکلات اور خطرات پی بھی تفصیلی بحث کی ۔تقریب میں پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض ،سابق صدر ارشد عزیز ملک ،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز کے صدر شمیم شاہد ،عوامی نیشنل پارٹی کے صدر میاں افتخار حسین، پیپلز پارٹی کے رہنما سید ایوب شاہ، انور زیب، ڈاکٹر اختر علی شاہ، جے یو آئی کے سینیٹر عطاالحق درویش ،جلیل جان، قومی وطن پارٹی کے طارق پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے یاور آفتاب، پی ٹی آئی کے رہنما کامران بنگش، جماعت اسلامی کے بحر اللہ ایڈووکیٹ،سیکھ برادری سے ایم پی اے گورپال سنگھ اور ہندو رہنما سرب دیال سمیت صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔سیاسی رہنماں نے شہدا صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کی اور مشکل حالات میں صحافتی زمہ داروں پر صحافیوں کی تعریف کی۔ شرکا کا کہناتھا کہ موجودہ حالات میں جہاں تمام اداروں کو ایک ادارے نے یرغمال بنا رکھا ہے وہی مخصوص ادارہ اب صحافت کو بھی یرغمال بنا رہا ہے۔ آزادی رائے اظہار پر قدغن لگانے کیلئے پیکا ایکٹ جیسے کالے قوانین بنائے گئے ہیںپشاور پریس کلب میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ تاریخ بعض اوقات ایک دائرے کی صورت لوٹتی ہے، جہاں ماضی حال سے جڑتا ہے اور حال مستقبل کی سمت اشارہ کرتا ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی پچہترویں سالگرہ، یعنی پلاٹینم جوبلی کا جشن اسی دائرہ وقت کی ایک علامتی مگر بامعنی جھلک ہے۔یہ محض ایک سالگرہ نہیں، بلکہ آزادی اظہار، صحافتی مزاحمت اور پیشہ ورانہ یکجہتی کی ایک مسلسل تحریک کی یادگار ہے،ایک ایسی تحریک جو خالق دینا ہال سے اٹھی،کراچی کے دل میں واقع خالق دینا ہال نے پاکستان کی صحافتی تاریخ کا وہ باب رقم کیا جس نے اس ملک میں صحافت کو محض خبر رسانی نہیں بلکہ حق گوئی اور عوامی ترجمانی کا نام بنا دیا۔ سنہ 1950 میں جب ملک کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے صحافیوں نے اس ہال میں بیٹھ کر ایک نمائندہ تنظیم کے قیام کا فیصلہ کیا، تو کسی نے شاید نہ سوچا ہوگا کہ یہ تحریک آنے والی دہائیوں میں آمریتوں، سنسرشپ، اور ادارہ جاتی جبر کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائے گی۔وہ دن تاریخ کے اوراق میں اس لیے بھی یادگار ہے کہ اسی اجلاس میں پاکستان یونین آف جرنلسٹس کی بنیاد رکھی گئی، جو بعد صحافیوں کی واحد ملک گیر تنظیم کے طور پر ابھری،انہوں نے کہا کہ یہ لمحہ صرف ایک تقریبی جشن نہیں، بلکہ ماضی سے وفاداری، ورثے سے جڑت، اور جدوجہد کے تسلسل کی علامت ہے۔مقررین نے کہا کہ پی ایف یو جے ایک نظریہ ہے جس نے پاکستانی صحافت کو حوصلہ، اتحاد اور جدوجہد کا سبق دیا،یہ وہ تحریک ہے جس نے صحافت کو عوام کا ترجمان بنایا، اور ہر دور میں اپنی غیر جانبداری، بہادری اور اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کی روایت برقرار رکھی، پی ایف یو جے کی پلاٹینم جوبلی صرف ایک یادگار تقریب نہیں، بلکہ یہ ایک نیا عہد، ایک نیا وعدہ ہونا چاہیے۔ اس وعدے کا کہ ہم صحافت کو تجارت نہیں بننے دیں گے، ہم سچ کو جھوٹ کے شور میں دفن نہیں ہونے دیں گے، اور ہم آزادیِ اظہار کو ہر حال میں زندہ رکھیں گے۔کیونکہ اگر صحافت زندہ ہے، تو جمہوریت زندہ ہے؛ اگر پی ایف یو جے زندہ ہے، تو صحافت کی روح زندہ ہے تقریب میں مشترکہ طور پر قراردادیں بھی پاس کئے گئے۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کے زیر اہتمام پاکستان فیڈرل یونین آف چرنلسٹس کی پلاٹینیم جوبلی، جدوجہد کے 75 سال کے مناسبت سے منعقد ہ تقریب کے موقع پر پی ایف یو جے میں گروپ بندیوںپر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے اسے کارکنوں اور پیشہ ور صحافیوں اور اخباری صنعت سے منسلک ملازمین کے مالی اور معاشی مفادات کے لئے خطرناک قرار دیا تقریب میں پی ایف یو جے کے تمام گروپوں سے منسلک عہدیداروں اور کارکنوں سے متحد ہونے کی اپیل کی ، تقریب کے شرکاء نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے اس جاری لہر میں ملک بھر میں 120 کے لگ بھگ صحافی شہید ہو گئے ہیں ، حکومت سے ان صحافیوں کے اہل وعیال کیلئے مناسب معاوضہ ادا کرنے کی اپیل کی،تقریب کے اختتام پر صدر پشاور پریس کلب ایم ریاض نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کارکن صحافیوں کے حقوق کی جد وجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا
خیبر یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام پلاٹینیم جوبلی کا اہتمام۔۔
Facebook Comments
