تحریر: اسرار ایوبی سابق افسر تعلقات عامہ ای او بی آئی
پاکستان میں خواتین کی صحافت کی ایک علمبردار اور محروم طبقات کی ایک مخلص آواز، زبیدہ مصطفیٰ بدھ کی شام کراچی میں انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر 84 برس تھی ۔زبیدہ مصطفیٰ کی پیدائش1941میں برطانوی ہندوستان میں ہوئی تھی۔ آزادی کے بعد انہوں نےاپنے خاندان کے ساتھ نئے وطن پاکستان کی جانب ہجرت کی ۔زبیدہ مصطفیٰ نے کراچی کے سینٹ جوزف کانوینٹ سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں کراچی یونیورسٹی سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے کامن ویلتھ اسکالرشپ پر لندن اسکول آف اکنامکس میں بھی داخلہ لیا تھا مگر وہ وہاں اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکیں۔
زبیدہ مصطفیٰ ملک کی ایک معروف فری لانس خاتون صحافی اور انگریزی زبان کی ممتازکالم نگارتھیں ۔ روزنامہ ڈان میں ان کے فکر انگیز کالم ہر پندر واڑھے کو شائع ہوتے تھے ۔زبیدہ مصطفیٰ1975 سے 2008 تک روزامہ ڈان کراچی میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتی رہیں۔روزنامہ ڈان پاکستان کا سب سے زیادہ شائع ہونے والےانگریزی زبان کے موقراخبار میں شمار ہوتا ہے جس کی بنیاد 1947 میں رکھی گئی تھی۔ زبیدہ مصطفیٰ روزنامہ ڈان میں سینئر سطح پر کام کرنے والی واحد خاتون صحافی تھیں اور انہیں پاکستان کی مین اسٹریم میڈیا میں کام کرنے والی خاتون صحافیوں کی صف میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ روزنامہ ڈان میں ان کے ساتھی انہیں ‘مسز مصطفیٰ’ یا ‘زی ایم’ کے نام سے جانتے تھے۔ انہوں نے 33 سال تک اس اخبار میں خدمات انجام دیں اور 2008 میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئیں۔
زبیدہ مصطفیٰ نے اپنے صنفی نقطہ نظر کو اپنے قلم کی طاقت بنایا اور انہوں نے اپنے فکر انگیز قلم کے ذریعہ خواتین کے صحت، انسانی حقوق اور سماجی انصاف سے متعلق مسائل کو بھرپور طور پر اجاگر کیا۔ انہوں نے اخبار میں اپنے موثراداریوں کے ذریعے عالمی امن اور سماجی انصاف کے فروغ کی سرگرم طور سے وکالت کی۔زبیدہ مصطفیٰ اگرچہ مختلف موضوعات پر لکھتی ر ہیں لیکن ان کی دلچسپی زیادہ تر سماجی شعبے پر مرکوز رہی جس پر انہوں نے اپنے طویل صحافتی کیریئر کے دوران بھرپور انداز میں رپورٹنگ کی ۔ زبیدہ مصطفیٰ نے خواتین کی تعلیم، صحت کی سہولیات، خواتین کا بااختیار ہونا، بچوں کے حقوق اور عام لوگوں کی زندگی جیسے موضوعات پر گہرائی سے تحقیق کی ۔ انسانی حقوق کی معروف رہنمازہرہ یوسف نے زبیدہ مصطفیٰ کی خود نوشت کی ایک جائزہ رپورٹ میں لکھا کہ“اپنے خاموش انداز میں بھی انہوں نے اخبار کے سفر پر گہرا اثر ڈالا۔” اس میں اخبار کے اداریوں میں “خواتین کا نقطہ نظر” شامل کرنا بھی شامل تھا۔ زبیدہ مصطفیٰ کے اداریے اور بعد میں کالمز بھی مختلف موضوعات پر محیط ہوتے تھے، جن میں بین الاقوامی امور، تعلیم اور محروم و پسماندہ طبقات کے مسائل شامل تھے۔
روزنامہ ڈان کراچی میں خدمات انجام دینے کے دوران زبیدہ مصطفیٰ نے کئی اداریے بھی قلمبند کئے اور اپنے اخبار میں کئی نئے شعبوں کا آغاز کیا جو قارئین میں بیحد مقبول ہوئے۔ وہ روزنامہ ڈان کے ون ورلڈ سپلیمنٹ کی انچارج بھی رہیں۔ جسے روزنامہ ڈان نے 1980 کی دہائی کے اوائل میں دنیا کے 15 ممتاز اخبارات کے اشتراک سے شائع کرنے کا آغاز کیا تھا۔انہوں نے روزنامہ ڈان کے “ہیلتھ پیج”، “بک پیج”، “ایجوکیشن پیج”، “کیرئیر وائز”، “انکاؤنٹر”، “کراچی نوٹ بُک” اور خاص طور پر “بکس اینڈ آتھرز” کا ایک معروف سلسلہ بھی متعارف کرایا، جو ملک میں کسی بھی مرکزی دھارے کے اخبار کی طرف سے شائع ہونے والا پہلا انگریزی زبان کا میگزین تھا جو کتابوں کے تبصروں اور ادبی معاملات پر مرکوز تھا۔
زبیدہ مصطفیٰ نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کراچی میں واقع پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز میں ریسرچ افسر کی حیثیت سے کیا جہاں ان کے تحقیقی مقالہ جات پاکستان ہورائزن نامی سہ ماہی جریدے میں شائع ہوتے تھے اور بعد میں روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر احمد علی خان نے انہیں اپنے اخبار میں کام کرنے کی پیشکش کی۔ وہ خان صاحب کو اپنی زندگی پر بڑا اثر ڈالنے والی شخصیت سمجھتی تھیں اور نیوز لائن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہیں “ایک بہت ترقی پسند انسان اور خواتین کے حقوق کے علمبردار” قرار دیا تھا۔
زبیدہ مصطفیٰ نے ایک بار کہا تھا کہ انہیں پاکستانی خواتین کو درپیش ناانصافیاں بہت متاثر کرتی ہیں۔ 2012 میں نیوز لائن میگزین کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھاکہ خواتین کو ملنے والے مواقع سے بھرپورفائدہ اٹھانا چاہیےا۔ اگرچہ خواتین کے مسائل ان کا بنیادی موضوع تھے، لیکن انہوں نے تعلیم، انسانی بااختیاری، صحت اور آبادی کے موضوعات پر بھی کام کیا۔ زبیدہ مصطفیٰ کے مطابق پاکستان کے مسائل کی جڑ تعلیم کا فقدان ہے، خاص طور پر صحت سے متعلق آگاہی کی کمی۔جریدہ نیوز لائن کے مطابق زبیدہ مصطفیٰ اپنے دیرینہ ایڈیٹر احمد علی خان کو اپنا استاد مانتی تھیں، جنہوں نے انہیں یہ سبق دیا تھاکہ “دریا کو کوزے میں کیسے بند کرنا ہے” اور مسائل کو عوامی نقطہ نظر سے کیسے دیکھنا ہے۔ زبیدہ مصطفیٰ کو1986میں پاکستان میں آبادی پر کنٹرول سے متعلق ان کی تحقیق اور تحریروں پر واشنگٹن ڈی سی کے پاپولیشن انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے گلوبل میڈیا ایوارڈ فار ایکسیلنس دیا گیا۔انہیں2012 میں انٹرنیشنل ویمنز میڈیا فاؤنڈیشن کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ 2013 میں ویمن میڈیا سینٹر نے بھی ان کی صحافت میں خدمات پر انہیں ایک اعزاز دیا تھا۔زبیدہ مصطفیٰ موجودہ اور سابق پاکستانی سیاسی رہنماؤں کو زیادہ پسند نہیں کرتی تھیں۔ 2012 میں نیوز لائن کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا تھاکہ ہمارے پاس “اختیار کے بھوکے رہنما ہیں جو کسی بھی معیار پر مدبر نہیں کہلا سکتے۔ وہ خود غرض، بدعنوان اور جاہل ہیں۔ ان کے پاس موجودہ بحرانوں کو حل کرنے کی کوئی حکمت عملی نہیں اور نہ ہی وہ چاہتے ہیں۔”
ڈان میڈیا گروپ نے خواتین صحافیوں کو ترغیب کی غرض سے زبیدہ مصطفیٰ کے نام سے “زوبیدہ مصطفیٰ ایوارڈ فار جرنلسٹک ایکسیلنس” کا اجراء کیا تھا۔ تاکہ روزنامہ ڈان اور پاکستان میں صحافت کے میدان میں زبیدہ مصطفیٰ کی شاندارخدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔ زبیدہ مصطفیٰ کو ان کی پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں متعدد ملکی اور غیر ملکی ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا تھا۔جن میں گلوبل میڈیا ایوارڈ فار ایکسیلنس (1986 (اور) 2004) پاپولیشن انسٹی ٹیوٹ، واشنگٹن ڈی سی،پاکستان پبلشرز اینڈ بکس سیلرز ایسوسی ایشن ایوارڈ (2005(،لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ (2012) انٹرنیشنل ویمنز میڈیا فاؤنڈیشن اور ویمن لیڈرز ایوارڈ از صدر پاکستان (2020 ( قابل ذکر ہیں۔زبیدہ مصطفیٰ نے اپنے کیریئر کے دوران کئی کتابیں بھی مرتب کیں اور ان کی تدوین انجام دی ۔ جن میں، میرے ڈان کے سال: سماجی مسائل کی تلاش (اُن کی خود نوشت جس میں انہوں نے پاکستان میں تین دہائیوں کے دوران صحافت میں آنے والی تبدیلیوں کا ذکر کیا ہے ۔(2008)پاکستان میں اسکولی تعلیم کی اصلاح اور زبان کا مسئلہ۔(2021)مطبوعہ :پیراماؤنٹ بکس کراچی۔
The Tyranny of Language in Education: The Problem and its Solution (Revised and Expanded Edition) (OUP)کراچی 2015
- The SIUT Story: Making the ‘Impossible’ Possible پیرا ماؤنٹ پبلشنگ، کراچی 2013
- Tyranny of Language in Education: The Problem and its Solution اشبع بکس، کراچی 2011
- Transfer of Power (PIIA)، کراچی
- The Kashmir Question (PIIA)، کراچی
- The South Asian Century ڈان اور آکسفورڈ یونیورسٹی پریس
- For Life, Peace and Justice از: میسون حسین (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈریسرچ ، کراچی
- The Press in Chains (revised edition) از :ضمیر نیازی،آکسفورڈ یونیورسٹی پریس،کراچی
زبیدہ مصطفیٰ نے اپنی صحت کو درپیش مسائل کی وجہ سے 2009 میں اپنے 33 سالہ صحافتی کیریئر کے بعد ریٹائرمنٹ لے لی تھی، تاہم 2012 تک انہیں صحت کے چند مسائل کا سامنا رہا جن میں بینائی کی کمزوری بھی شامل تھی ۔لیکن وہ سال 2020 تک بطور فری لانس صحافی کی حیثیت سے اپنے کالم لکھتی رہیں۔ روزنامہ ڈان میں ان کی ساتھی ایڈیٹر عائشہ اظفر، جنہوں نے مسز مصطفیٰ کے ساتھ کام کیا، کے مطابق” ان کا آخری کالم اس سال مارچ میں شائع ہوا تھا اوراس کے بعد خراب ہوتی صحت کی وجہ سے ان کے لئے لکھنا مشکل ہوتا گیا۔ وہ قانونی طور پر بصارت سے محروم تھیں، اور یہ واقعی قابلِ ذکر بات ہے کہ اس حالت میں بھی انہوں نے کالمز لکھنے، سیمینارز میں باقاعدگی سے شرکت کرنے، اور تعلیم — جس پر انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی — خواتین اور صحت سمیت دیگر موضوعات پر اپنی دلچسپی حسب سابق برقرار رکھی۔”
زبیدہ مصطفیٰ کے تحریر کردہ مضامین اور کالم کئی غیر ملکی اخبارات اور ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔ زبیدہ مصطفیٰ کی اپنے موثر قلم کے ذریعہ شعبہ صحافت ،تعلیم اور خواتین کے صحت، انسانی حقوق اور سماجی انصاف سے متعلق مسائل کو بھرپور طور پر اجاگر کرنے کے لئے طویل اورگرانقدر خدمات کو ایک طویل عرصہ تک یاد رکھا جائے گا۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے زبیدہ مصطفیٰ کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ “سماجی، ثقافتی اور لسانی حقوق کی علمبردار تھیں جیسا کہ کم ہی لوگ ہوتے ہیں۔ وہ مظلوم اور محروم طبقات کے ساتھ کھڑی رہنے والی ایک سچی ساتھی تھیں۔
پس نوشت: ہمیں یاد ہے کہ سینئر صحافی زبیدہ مصطفیٰ روزنامہ ڈان کراچی کے ایک بیمہ دار فرد کی حیثیت سے ای او بی آئی کی پنشنر بھی تھیں اور2019 میں اچانک اپنی پنشن بند ہوجانے کے باعث وہ اپنے ” ثبوت بقید حیات ” کی تصدیق کے لئے وہیل چیئر پر ای او بی آئی ریجنل آفس ویسٹ وہارف کراچی واقع کراچی ڈاک لیبر بورڈ بلڈنگ گئی تھیں۔ جہاں ایک معمر اور علیل خاتون صحافی کی حیثیت سے اپنا تعارف کرانے کے باوجود دفتر کے بداخلاق عملہ کی جانب سے ان سے بدسلوکی کی گئی تھی ۔ جس پر انہوں نے31 جنوری 2020 کو روزنامہ ڈان میں اپنے کالم میں اس ناخوشگوار واقعہ کی تفصیل بیان کی تھی ۔اس کالم کی اشاعت پر ای او بی آئی کی انتظامیہ حرکت میں آگئی تھی اور اس نے روزنامہ ڈان میں ایک اخباری وضاحت کے ذریعہ اپنا موقف پیش کرنے کے ساتھ ان سے معذرت بھی طلب کی تھی ۔اس دوران ہم نے بھی ای او بی آئی کے افسر تعلقات عامہ کی حیثیت سے محترمہ زبیدہ مصطفیٰ سے فون کے ذریعہ رابطہ کرکے اس ناخوشگوار واقعہ کی تفصیل معلوم کی تھی اور اپنے ادارہ کی جانب سے معذرت چاہی تھی اور انہیں آئندہ ان کی پنشن کی وصولی کے لئے کسی بھی معاملہ میں اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی تھی ۔زبیدہ مصطفیٰ کی شعبہ صحافت میں طویل خدمات اور تعلیم اور امور نسواں کے شعبہ میں ان کی گرانقدر خدمات کی تفصیلات ان کی ویب سائٹhttps://www.zubeida-mustafa.com/ (اسرار ایوبی)۔۔
