تحریر: ضمیر آفاقی۔۔
آپ میڈیا اور ہمیں جو مرضی آئے کہیے صاحب بے شک پیکا قانون بنائیے کہنے کو کون روک سکا ہے، لیکن یاد رکھیے صاحب جو کچھ معاشرے میں ہوتا ہے میڈیا اسی کا عکس پیش کرتا ہے ۔آپ کو اس کا ادراک اس لئے نہیں ہو پاتا کہ آپ کی حکومت کا امیج بہتر کرنے والی آپ کی میڈیا ئی ٹیم آپ کو صرف وہی کلپس ،کٹنگ، فٹیج اور کالمز کے اقتباسات پیش کرتی ہے جو آپ کی آنکھوں کو بھلے لگیں اور کانوں میں رس گھولیں۔ آپ کو موسیقی کی آواز بھی وہی اچھی لگتی ہے جس سے آپ کے کیف و نشاط میں اضافہ ہو ،آپ کو بھوک سے بلکتے بچے کی آواز،گینگ ریپ کی نتیجے میں پیدا ہونے والی تلخ سسکیاں بچوں کے ساتھ ہونے والے زیادتی کے ایسے واقعات جن میں بچوں کے منہ، ناک اور آنکھ سے لہوٹپکتا ہو جیسی خبریں تھانوں کچہریوں میں انسانی شرف کی بے توقیری، سرکاری دفاتر میں سائلین کے ساتھ ہتک آمیز رویے ہر شہر میں روزانہ کھلے مقتل طاقت وروں کے ہاتھوں کمزووں کی ذلت کے نظاروں سے بھری خبریں کیا معنی رکھتی ہیں۔ جبکہ ملک بھر میں ظلم و نا انصافی کا ایسا بازار گرم ہے جس کی نظیر اس سے پہلے نہیں دکھتی تھی مگر پھر بھی آپ کی حکومت کا امیج بہتر دکھانے والی ’’ میڈیا ئی ٹیم‘‘ کو کچھ نظر نہیں آتا اگر اسے کچھ نظر نہیں آتا تو وہ آپ کو کیسے دکھائے گی۔
آپ کی ’’بادشاہت‘‘ میں تو کوئی ایسا وزیر باتدبیر بھی نہیں جو آپ کو ماضی کے کسی’ جابر بادشاہ‘ کے دور کے کچھ اچھے واقعات سنا یا بتا سکے۔ تاریخ کے پنوں میں چھپے ایک واقعہ کے مطابق ایک بادشاہ روزانہ محل میں ’’کچہری‘‘ لگایا کرتا تھا جس میں صرف اس کے وزیر اور مشیر اور خاص دوست ہی بیٹھا کرتے تھے جہاں روزانہ بادشاہ پوچھتا اوئے بتائو میری رعایا کا کیا حالت ہے باقی سب تو خاموش رہتے لیکن ایک’’ مشیر خاص‘‘، ’’جرأت کا مظاہرہ‘‘ کرتے ہوئے کہتا جناب ہر طرف ’ستے ای خیراں نیں،‘ یعنی ہرطرف خیر ہی خیر ہے‘ اس کے بعد قہقہے مذاق اورٹھٹھے ، اگلے دن پھر وہی قصہ وہی باتیں اور جواب میں ہر طرف ’ستے ہی خیراں‘ کا ورد ،اس کھلی کچہری میں ایک باضمیر باتدبیر وزیر بھی تھا اسے ریاست کی خستہ حالی کی خبر تھی مگر وہ ’’جتھے‘‘ سے ڈرتے ہوئے خاموش رہتا وہ جانتا تھا کہ ریاستیں یا مملکتیں یوں کھلی کچہریوں میں مدح سرائی سے نہیں چلتیں لیکن کرتا بھی تو آخر کیا کرتا۔
جبکہ دوسری جانب ملک میں غربت مہنگائی ،بھوک ننگ، ظلم و جبر کا بازار دن بہ دن بڑھتا جا رہا تھا ایسے خدشات پیدا ہونے لگے کہ اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو پھر شاید بادشاہت کا خاتمہ بھی ہو سکتا ہے، بغاوت بھی پیدا ہو سکتی ہے اور اسی انارکی کی حالت میں تباہی ہی تباہی جسے سوچ کر بھی خوف آئے، یہ سب باتیں باضمیر اور باتدبیر وزیر سوچتا رہتا۔ آخر ایک دن اس نے ایک تدبیر اختیار کرتے ہوئے اس لاڈلے’’ مشیر‘‘ کے گھر ڈاکہ ڈلوا دیا، وہ مشیر جب گھر پہنچا تو سب کچھ لٹ چکا تھا ۔ اگلے دن جب کھلی کچہری لگی تو بادشاہ نے وہی روایتی سوال پوچھا تو سب سے پہلے اسی لاڈلے مشیر نے کہا جان کی امان پائوں تو عرض کروں ،بادشاہ نے کہا ہاں کہو۔۔! اس نے کہا جناب پورے ملک میں ڈاکے پڑ رہے ہیں کوئی گھر محفوظ نہیں لوگ روٹی روزی کو ترس رہے ہیں بھوک افلاس بڑھتا جا رہا ہے اگر فوری کچھ تدابیر نہ کی گئیں تو ڈر ہے ملک میں انارکی نہ پھیل جائے۔بادشا ایکدم گھبرا گیا قہقہے ٹھٹھے سب بھول گئے اور کانپتے ہوئے مخاطب ہوا یہ اچانک رات ہی رات میں کیا افتاد آن پڑی کہ ملک کی حالت اتنی خطرناک ہو گئی جس کا نقشہ تم پیش کر رہے ہو ۔اتنے میں چند ایک دیگر وزراء نے بھی ہمت سے کام لیتے ہوئے اکا دکا واقعات بیان کئے جس سے بادشاہ کی حالت اور غیر ہوگئی بادشاہ کی پریشانی دیدنی تھی،اور وزیر باتدبیر زیر لب مسکرا رہا تھا کہ سچ ہے جب خود پر بیتی تو سارا ملک پریشان نظر آیا راوی اس کے بعد یہ کہہ کہ خاموش ہو گیا کہ اس کے بعد بادشاہ کو کبھی قہقہے لگاتے کسی نے نہیں دیکھا اور نہ ہی کبھی کھلی کچہری کا انعقاد ہوا۔تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ بادشاہ درختوں کے ان جنگلوں میں کہیں گم ہوگیا جو اس نے لگائے تھے۔
پاکستان میں غربت و افلاس کے مارے عوام کئی برسوں سے متواتر مہنگائی کا ایٹم بم برداشت کرتے آ رہے ہیں۔ پاکستان میں مہنگائی نے وہ ظلم ڈھائے ہیں کہ اس کے اثرات نسل در نسل دیکھے جائیں گے۔پٹرول، ڈیزل اور بجلی کے نرخوں میں عالمی منڈی میں کمی کے باوجود اس کا فائدہ پاکستانی صارفین تک نہ پہنچانا صرف مہنگائی بڑھنے کا ہی نہیں بلکہ گداگری اور غربت میں اضافے کا بھی دوسرا نام ہے۔ لوگ مہنگائی کے سبب پیٹ کاٹ کاٹ کر جینے پر مجبور ہیں۔ بیشتر گھرانے ایسے ہیں، جہاں مہینے کا اکھٹا سامان لانے کا رواج دن بہ دن ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ملک میں گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ اشیائے خورونوش اور بلوں کی قیمتوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان کی معیشت زراعت پر انحصار کرتی ہے اور اجناس کی پیداوار میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے لیکن منافع خوروں اور کمیشن ایجنٹوں کی ملی بھگت اور گذشتہ چند برسوں سے خوراک کی ایران، افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کو سمگلنگ وہ وجوہات ہیں، جن کی وجہ سے اجناس کی قیمتیں کم ہونے کے بجائے مزید مہنگی اور عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔غربت کے ہاتھوں مجبور عوام اور روزمرہ کی ضرورتیں روزانہ ہی کی بنیاد پر کمانے والا طبقہ مہنگائی کی اس چکی میں سب سے زیادہ پس رہا ہے۔ بیس پچیس ہزارسے( فیکٹریوں میں لیبر کو اتنی ہی اجرت دی جاتی ہے) پچیس ہزار روپے تنخواہ یا ایک دیہاڑی دار ’’عام آدمی‘‘ جو ایک کمرے کرائے کے گھر پر رہتا ہو اور اس کے تین بچے ہوں کیسے گزارا کر سکتا ہے ؟۔ بجلی، گیس پٹرول کی قیمتوں میں لگی آگ سے لوگ جھلس رہے ہیں پھل سبزیاں گھی دہی،دالیں یہاں تک کہ پیدا ہونے والے بچے کا دودھ پیمپر ہر چیز عام آدمی کے لئے جہنم کی آگ بنا کر رکھ دی ہے اس’’ ٹیکس ساز‘‘ حکومت نے اور کہتے ہیں کہ عام آدمی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔(بشکریہ نئی بات)۔۔
