میرشکیل کے نام کھلا خط۔۔

آپ کی انتظامیہ نے گزشتہ دنوں کچھ ایسے ناخوشگوار فیصلے کیے جو آپ کے زیر ادارت شائع ہونے والے کئی اداروں کے ملازمین اور ان کی فیملیز کے لئے قیامت بن کر ٹوٹے ۔۔ کئی گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے اور جنگ گروپ کے کئی ملازمین جو تبادلوں کی زد میں آئے شدید پریشانی سے دو چار ہو چکے ہیں  ۔آپ کی شخصیت کے جس روشن پہلو سے ہم آگاہ ہیں اس کے مطابق تو ہمارے نزدیک کسی ملازم کے لئے قیامت کی گھڑی تو دور کی بات ،پریشانی کا معاملہ بھی آپ کو بے چین کر دیتا ہے ۔ہمارے خیال میں جس کسی بھی انتظامی افسر یا ڈائریکٹر نے آپ کو اس بھیانک راستے پر ڈالا ہے وہ آپ کا دوست نہیں بلکہ بدترین دشمن ہے جو اس دنیا کو ہی آپ کے لئے عذاب عظیم بنانے پر تلا ہوا ہے۔جناب میر شکیل الرحمن صاحب اس خط کا مقصد جہاں  جنگ گروپ میں ہونے والی ظلم کی داستانوں کی طرف آپ کی توجہ دلانا ہے وہیں ان میں سے کچھ مسائل کے حل کے لئے قابل عمل تجاویز اور پروجیکٹ بھی آپ کے سامنے رکھنا ہے۔اب چونکہ آپ کی انتظامیہ نے روزنامہ آواز کو بند کردیا ہے اور یہاں کے 100 سے زائد ملازمین اور ان کی فیملیز  شدید پریشانی کا شکار ہیں ۔اس صورتحال میں پنجاب یونین آف جرنلسٹس نے کارکنوں کی نمائندگی کرتے ہوئے روزنامہ آواز کا کنٹرول سنبھالنے کی تجویز دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔اگر آپ ایک معاہدہ کے تحت روزنامہ آواز کا کنٹرول صحافی کارکنوں کے سپر کر دیتے ہیں تو اس سے نہ صرف جنگ گروپ کی ساکھ بہتر ہوگی بلکہ اخبار کی اشاعت کے ساتھ کارکنوں کی ملازمت پر بحالی بھی ہو جائے گی ۔ معاہدہ میں  روزنامہ آواز کے ذمہ قابل ادائیگی واجبات اور قابل وصولی واجبات کا بھی تعین کرلیا جائے جس میں بجلی کے بل ،پریس بقایاجات ،سیاہی ،سرکولیشن  پرنٹنگ ، دفتری اور ملازمین کے بقایاجات کا تعین کرلیا جائے ۔اس  تجویز کی قبولیت سے سینکڑوں خاندان جو اس اخبار سے بلواسطہ  یا بلا واسط وابستہ ہیں کے گھروں کے چولہے جلتے رہیں گے۔ہمیں امید ہے کہ یہ تجویز آپ کے لئے دنیاوی اور اخروی  بھلائی اور بہتری کا سبب بنے گی۔اور آپ کے اخبار کے کاروبار سے منسلک سینکڑوں خاندانوں کی دعائیں بھی آپ کو ملیں گی۔(نعیم حنیف ، صدرپنجاب یونین آف جرنلٹس )۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں