کبھی بھی دیسی ٹوٹکوں سے اپنا علاج نہ کریں، اریج فاطمہ۔۔

سابقہ اداکارہ اریج فاطمہ نے پہلی بار مہلک کینسر کی تشخیص اور اپنے کٹھن سفر کی تفصیلات بیان کر دیں۔اریج فاطمہ نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے کینسر کی تشخیص کے بارے میں انکشاف کیا۔اداکارہ نے ویڈیو میں مہلک بیماری کے دوران کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی بہت اچھی گزر رہی تھی، وہ زندگی کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتی تھیں، انہیں لگتا تھا کہ وہ بہت طویل زندگی گزارنے والی ہیں، وہ زندگی سے بھرپور لطف اندوز ہو رہی تھیں، اس دوران انہوں نے کئی بار نمازیں بھی مؤخر کیں لیکن پھر ایک دن چند گھنٹوں میں ہی ان کی زندگی مکمل طور پر بدل گئی۔انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی زندگی کے لیے جنگ لڑ رہی تھیں اور اس بارے میں پہلے کبھی اس لیے نہیں بتایا کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ لوگ ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کریں گے، ان کے کردار پر بات کریں گے اور کہیں گے کہ اس سب میں ان کی اپنی غلطی ہے۔ ن کا کہنا تھا کہ اس دوران وہ ایک بڑی سرجری سے گزریں، جب وہ اس بیماری سے جنگ لڑ رہی تھیں تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ بچ سکیں گی یا نہیں، اس وقت ان کے ذہن میں صرف دو باتیں تھیں، ایک یہ کہ وہ اپنے رب کے حضور کیسے پیش ہوں گی اور دوسرا یہ کہ ان کے بعد ان کی فیملی کا کیا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان کی دوسری زندگی ہے، گزشتہ مہینوں میں وہ آن لائن بھی اپنا غم ہلکا کرنے کے لیے آتی تھیں، جب کہ یہ صرف انہیں اور ان کی فیملی کو معلوم ہے کہ وہ وقت کتنا مشکل اور تکلیف دہ تھا۔اریج فاطمہ کے مطابق اب سوشل میڈیا پر یہ سب کچھ شیئر کرنے کے دو مقاصد ہیں، پہلا یہ کہ کسی کو بھی سوشل میڈیا پر اس کی ظاہری تصویر سے مت پرکھیں اور دوسرا یہ کہ براہ کرم اپنا طبی معائنہ ضرور کرائیں، ان کی سب سے بڑی درخواست ہے کہ اپنی صحت کو کبھی نظر انداز نہ کریں اور اگر کسی بیماری کے اثرات آپ کو جسم میں محسوس ہو رہے ہیں تو کبھی بھی دیسی ٹوٹکوں سے ان کا علاج نہ کریں۔اریج فاطمہ نے آخر میں مداحوں سے دعاؤں میں یاد رکھنے کی درخواست بھی کی۔خیال رہے کہ اریج فاطمہ نے 2019 میں ڈراما سیریل حسد کی کامیابی کے بعد شوبز کو خیر باد کہہ دیا تھا، انہوں نے 2017 میں ڈاکٹر عزیر علی سے شادی کی اور اب دو بیٹوں کی والدہ ہیں، وہ امریکی ریاست اوہائیو میں مقیم ہیں اور سولہ لاکھ انسٹاگرام فالوورز کے ساتھ ایک معروف ڈیجیٹل کریئیٹر بھی ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں