talk show gutter journalism qarar dedia

میڈیاہاؤسز اپنے ملازمین کی فوری انشورنس کرائیں، مزاری۔۔

وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز بل کی منظوری کے بعد اخبارات اور ٹی وی چینلز کے مالکان اس عمل کے پابند ہیں کہ وہ اپنے دفاتر کے تمام ملازمین، صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی فوری طور پر انشورنس کرائیں، قانون کے مطابق مستقل ملازمین کے ساتھ ساتھ کنٹریکٹ ملازمین کی بھی انشورنس کرانا ہوگی، فوٹو، ویڈیو جرنلسٹس، سب ایڈیٹر اور ایڈیٹرز کو بھی جرنلسٹ کیٹگری میں شامل کر دیا جائے گا۔ جرنلسٹ پروٹیکشن بل صرف جرنلسٹس کیلئے ہی نہیں بلکہ تمام میڈیا پروفیشنلرز کیلئے ہے، نیشنل پریس کلب میں جرنلسٹس پروٹیکشن بل کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نےمزید کہا کہ بل میں رہ جانیوالے قانونی سقم کو اسٹیک ہولڈرز کی مزید مشاورت کے بعد رولز بنانے وقت دور کر دیا جائیگا، یہ بل اب قانون بن چکا ہے اور جن جرنلسٹس کو اپنے حقوق حاصل کرنے میں کوئی مسئلہ ہے وہ حصول انصاف کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں، میڈیا مالکان پر اپنے ورکرز کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہیں لہذاٰ انہیں اس ذمہ داری کو نبھانا چاہیئے۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے میڈیا پروٹیکشن بل میں کیمرہ مین اور فوٹوگرافرز کو بطور صحافی شامل کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ ایک بیان میں مریم نے کہا کہ فوٹو گرافروں اور کیمرہ مینوں کی بطور صحافی حیثیت چھیننا سراسر غلط ہے کیونکہ وہ خبروں اور واقعات کو عوام کے سامنے لانے میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کرتے ہیں۔

How to write on Imranjunior website
How to write on Imranjunior website
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں