تحریر: سعید خاور۔۔
کراچی میں صحافیوں کے اعزاز میں غیر معمولی اور پر تکلف “افطار عشائیوں” کا تذکرہ کیا جائے تو دفعتا حضرت مولانا شاہ احمد نورانی کا نورانی چہرہ نگاہوں میں گھوم جاتا ہے جو اپنی وفات 11 دسمبر 2003ء تک کراچی کے صحافیوں کے اعزاز میں اپنی رہائش گاہ “بیت الرضوان” میں شان دار افطار ضیافت کا اہتمام کرتے رہے جو تاریخ میں ایک سنہری باب کے طور پر درج ہے- اس ضیافت میں مولانا شاہ احمد نورانی اذان مغرب سے عشائیے کی تکمیل تک خود دستر خوان پر موجود رہتے اور رکابیاں اٹھا اٹھا کر روایتی مسکان کے ساتھ مہمان صحافیوں کی خدمت پر مامور رہتے، طعام کی تکمیل پر جماعت کی امامت بھی خود کرتے- مولانا شاہ احمد نورانی اس جہان فانی سے رخصت کیا ہوئے “افطار عشائیہ” کی یہ رسم کسی اور سے اس طرح ادا نہ ہو سکی جس طرح مولانا موصوف نبھایا کرتے تھے۔
پھر کیا ہوا کہ کشمیر کے غازی، ضمیر کے قیدی، امریکا اور بھارت کے لئے “موسٹ وانٹڈ پرسن” پروفیسر حافظ سعید نے صحافیوں کے لئے ہر سال مقامی ہوٹل میں افطار عشائیہ کی روایت ڈالی تو مولانا شاہ احمد نورانی کے دور کی یاد تازہ ہو گئی- وہی صحافیوں کا جمگھٹا، وہی محبوبیت، وہی روح پرور ماحول، مولانا شاہ احمد نورانی کی طرح پروفیسر حافظ سعید کی سفید پوش صحافیوں پر عنایتیں ہر سال کا معمول بن گئیں- چند برسوں سے پروفیسر حافظ سعید پنجاب میں پابند سلاسل ہونے کی وجہ سے سندھ نہیں آ سکے تو ان کی پارٹی پاکستان مرکزی مسلم لیگ سندھ کے عہدیداروں، خاص طور پر صوبائی صدر فیصل ندیم اور کراچی ڈویزن کے صدر احمد ندیم اعوان اس روایت کو قائم رکھنے میں بہ دل و جان متحرک رہتے ہیں، ان کے ساتھ میڈیا سیل کے طہ منیب اور محمد افضل کا صحافی برادری سے رابطوں کا سلسلہ بھی قابل ستائش ہے۔۔
اس بار بھی رمضان المبارک میں بدھ 12 مارچ 2025ء کو پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی دفتر متصل شاہ راہ فیصل میں یہ روایتی “افطار عشائیہ” بھر پور انداز میں منعقد ہوا جس میں شہر بھر کے منتخب صحافیوں نے شرکت کی- پروفیسر حافظ محمد سعید بندشوں کی وجہ سےاس بار بھی کراچی نہیں آ سکے لیکن ان کی عدم موجودگی میں ان کے رفقائے کار صدر مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو، صدر مرکزی مسلم لیگ سندھ فیصل ندیم، مرکزی ترجمان تابش قیوم، صدر مرکزی مسلم لیگ کراچی احمد ندیم اعوان نے کسی طور ان کی کمی محسوس نہیں ہونے دی- ضیافت کے آغاز سے لے کر تقریب کے اختتام تک پروفیسر حافظ محمد سعید کے علم و عمل اور ملک و ملت کے لئے قربانیوں کا تذکرہ رہا اور خوب رہا- تابش قیوم کے توسط سے پروفیسر صاحب کے نائب ایک اور قیدی اور عزیز دوست یحیی مجاہد سے فون پر بات ہوئی اور ہم نے ان سے ان کی اہلیہ کی وفات پر تعزیت بھی کر لی۔
پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے اس روایتی “افطار عشائیہ” میں نصرت مرزا، شعیب برنی، فیصل شکیل، شاہ ولی اللہ، اقتدار انور، عامر شیخ، فیض اللہ خان، علی رضا، عاصم بھٹی,اشرف خان, سلمان قریشی, عبد الحسیب سمیت درجنوں صحافی دوستوں نے شرکت کی اور مسلم لیگی رہنمائوں کے انداز گفتگو اور ضیافت کے خوب لطف اٹھائے- تقریب کے آخر میں مہمان صحافیوں کو اسلامی کتب ہدیہ کی گئیں۔ (سعید خاور)۔۔
