انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے)نے سینیٹ سے صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے لئے پرٹیکشن ترمیمی ایکٹ منظور ہونے پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ترمیمی ایکٹ کے مطابق پرائیویسی کے حق اورذرائع کے عدم افشاء کے حق کا واضح تحفظ صحافتی آزادی کو برقرار رکھنے اور میڈیا کمیونٹی کو غیر ضروری دباؤ سے آزاد کام کرنے کو یقینی بنانے کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔حکومت پاکستان صحافیوں کو ماہانہ تنخواہوں کی عدم ادایگی، غیر قانونی چھانٹیوں اور صحافیوں پر تشدد اور مقتول صحافیوں کے کیسز پر فیصلوں میں تاخیر کا بھی خاتمہ کیا جائے گا۔ آئی ایف جے نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، پی آئی او، پی ایف یو جے کے صدر رانا محمد عظیم اور سیکرٹری شکیل احمد کےنام لکھےگئے خط میں کہاہے کہ پاکستان سینیٹ سے صحافیوں کے پروٹیکشن بل ترامیم کی منظوری قابل ستائش ہے۔ اس کے لئے آئی ایف جے اور پی ایف یو جے کی جانب سے حکومت پاکستان کو کئی بارتوجہ دلائی گئی تھی۔ ہم خاص طور پر ان اضافی شقوں کا خیرمقدم کرتے ہیں جو صحافیوں کے تحفظ کے لیے کمیشن کے قیام کی مزید وضاحت کرتی ہیں، جو اب مضبوط مینڈیٹ اورآزادانہ کام کرنے کی استطاعت کے ساتھ مسائل کو حل کرنے کے کام کرے گا۔ خط میں باور کرایا گیا ہے کہ پاکستان بھر میں میڈیا کے پیشہ ور افراد فی الحال اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، سیاسی پولرائزیشن، بڑے پیمانے پر مظاہروں، سماجی خلفشار کے ساتھ ساتھ قانونی مداخلت اور دھمکیوں کے ماحول میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ صحافیوں کے خلاف جرائم بارے آئی ایف جےکی گزشتہ سال کی پاکستان پریس فریڈم رپورٹ میں7 صحافیوں کے قتل اور پریس آزادی کی 27 خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی میڈیا کمیونٹی کے لیے ایک مضبوط اور آزاد منظرنامے کے ساتھ آپ کی پریس آزادی کے لیے مستقل عزم کی درخواست کرتے ہیں اور اس قانون میں تحریر کردہ اقدامات کے فوری اور مؤثر نفاذ کا انتظار کرتے ہیں۔ آئی ایف جے اور پی ایف یو جے دونوں حکومت اور میڈیا کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ پاکستان میں تمام میڈیا پیشہ ور افراد کے لیے حقیقی طور پر محفوظ اور آزاد ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان کے لیبر قوانین میں فوری تبدیلیوں کی بھی ضرورت محسوس کرتے ہیں تاکہ اجتماعی گفت و شنید اوراداروں میں یونینوں کی رجسٹریشن پر پابندیوں کوختم کیا جا سکے اور بین الاقوامی لیبر تنظیم (آئی ایل او) کے کنونشنز کے مطابق تنظیم کے حق اور اجتماعی گفت و شنید کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ ضروری ترمیمیں پاکستان میں میڈیا انڈسٹری کے لیے محفوظ کام کرنے کے ماحول کو یقینی بناءیں گی تاکہ تمام کارکنوں کے پاس ایک متحرک اور آزاد میڈیا کے لیے بنیادی حقوق اور تحفظات موجود ہوں۔اس قانون کے تحت:صحافی پر حملے کی صورت میں 7 سال قید یا تین لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ذرائع کی حفاظت کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔ایک آزاد کمیشن تشکیل پائے گا جو صحافیوں اور میڈیا اداروں کے خلاف جرائم کی تفتیش کرے گا۔خواتین صحافیوں کو آن لائن ہراسانی سے بچانے کے لیے بھی خصوصی دفعات شامل کی گئی ہیں۔آئی ایف جے نے واضح کیا کہ اس قانون کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ:کمیشن مکمل طور پر غیر سیاسی اور آزاد ہو،اس میں صحافی برادری کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے،اس پر عملدرآمد میں سرکاری مداخلت نہ ہو۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے بھی اس قانون کو صحافیوں کی ایک طویل جدوجہد کا نتیجہ قرار دیا ہے، اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے عملی نفاذ کو ترجیح دی جائے۔یاد رہے کہ پاکستان میں گزشتہ برسوں میں صحافیوں پر حملوں، اغوا، اور قتل جیسے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، اور پریس فریڈم انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان کا درجہ 158 واں ہے۔آئی ایف جے کا حکومتِ پاکستان کو بھیجا گیا خط اور تعریفی بیان نہ صرف ایک بین الاقوامی اعتراف ہے بلکہ یہ حکومت کے لیے ایک موقع بھی ہے کہ وہ آزادی صحافت کو آئینی اور عملی طور پر یقینی بنائے۔ صحافیوں کے تحفظ کے اس قانون کو اگر سنجیدگی سے نافذ کیا گیا تو یہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔
صحافیوں کے تحفظ کا قانون غیرجانبدار طریقے سے نافذ کیاجائے، آئی ایف جے۔۔
Facebook Comments
