اسلام آباد ہائیکورٹ نے لا پتہ صحافی کے اہلخانہ کی وزیر اعظم اور کابینہ سے ملاقات کا وقت نہ بتانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اور سیکرٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں لا پتہ صحافی کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اگر ایک بڑے آدمی کا بیٹا غائب ہوتا تو ریاست کا ردعمل کچھ اور ہوتا، آرڈر کیا تھاکہ وزیراعظم اور کابینہ سے متاثرہ فیملی کی ملاقات کا وقت بتائیں،یہ تو کوئی طریقہ نہیں کہ متاثرہ خاندان کمیشن کے پاس مارا مارا پھرے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہاگر کوئی شہری لاپتہ ہو جائے تو یہ انتہائی سنگین جرم ہے۔
Facebook Comments