معروف اداکارہ میرا نے کہا ہے کہ میں چھوٹی سی عمر میں پاکستان فلم انڈسٹری میں آئ اور اللہ تعالی کی مہربانی سے میں راتوں رات سپر اسٹار بن گئ. میرے بارے میں حاسدین نے خبریں پھیلائیں کہ مجھے مالی مدد کی ضرورت ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے جسکی لوگ تمنا کرتے ہیں وہ اللہ نے مجھے نوازا ہوا ہے میرا نے کہا کہ میں نے کبھی اپنے لئے مالی مدد کی اپیل نہیں کی شفقت اسپتال کا خواب میری تمنا ہے میں ایک فلاحی اسپتال بنانا چاہتی ہوں جس طرح شوکت خانم عمران خان کا خواب تھا جسے اللہ نے پورا کیا۔۔جہاں تک میری فنی صلاحیتوں کا تعلق ہے تو رموز اداکاری سے مکمل واقفیت کے باعث ہر طرح کے کردار بخوبی نبھائے اور رقص ہماری فلموں کا اہم حصہ ہے اور میری اس صلاحیت کا زمانہ متعارف رہا. ڈائیلاگ کی ادائیگی کا میرا اپنا انداز تھا جسے بے انتہا پسند کیا گیا. کامیڈی سے لے کر ٹریجڈی تک ہر طرح کے رول کئے اور ہر کردار کے ساتھ مکمل انصاف کیا. میں. نے اپنی تمام تر خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر فلمی صنعت کی اور اپنے ملک کی خدمت کی اور آن بان کے ساتھ اس انڈسٹری پر راج کیا جس کی وجہ ظاہر ہے وہ لوگ تھے جو سینما میری فلم دیکھنے آتے تھے. اس باغ کی آبیاری میں میرا لہو شامل ہے. میرا نے مزید کہا کہ خدا نے مجھے کامیابی دی اور باکس آفس پر میری فلمیں ہٹ پر ہٹ ہوتی رہیں. اور بہت سارے اعزازات کی حقدار بنی۔۔اب معاملہ یہ ہے کے فلم انڈسٹری ایک الگ انداز میں چل پڑی ہے. ٹی وی کی لڑکیوں کو ہیروئین لیا جا رہا ہے. فلم ٹی وی سے مکمل طور پر مختلف ہے اور کوئ بڑے پردے کے لئے موزوں نہیں ہوتا اور نا ہی ہر شخص بڑے پردے کے لئے. ٹی وی سے آنے والی خواتین سینما پر اپنی چھاپ بنانے میں ناکام رہیں. میں موجود ہوں فلمی صنعت کے کرتا دھرتاؤں کو ابھی مجھ سے اور میرے تجربات سے استفادہ کرنا چاہئے. میرا برسوں کا تجربہ انڈسٹری کے کام آسکتا ہے. اس وقت سوشل میڈیا پر میرے بارے جھوٹی سچی خبریں چلتی ہیں میرے جملوں کا مذاق بنایا جاتا ہے مجھ جیسی اداکارہ کے لئے یہ انتہائ تکلیف دہ ہے کے ایک طرف ہمارے پاس کام نہیں دوسری جانب ہمارا مذاق بنایا جائے. مجھے بھی فلم بنانی ہے فلم والوں کو میرے تجربے اور صلاحیتوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہئے. اگر کچھ ایسے رول لکھے جائیں جو مجھ پر فٹ ہوں تو اس سے ہماری فلموں کا معیار بھی بڑھے گا اور فلمی صنعت کی عزت میں بھی اضافہ ہوگا. میں نے اپنی صنعت کے لئے اتنا کام کیا ہے معیار کو اس بلندی تک پہنچایا ہے کے میری ہر فلم باکس آفس پر کروڑوں کمانے لگی اور میرا نام بحیثیت ہیرویین باکس آفس کی کامیابی کی ضمانت تھی. باکس آفس کی کامیابی ہی وہ سرمایہ فراہم کرتی تھی جس سے پروڈیوسر کو اگلی فلم بناتے ہیں اور اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے. جب ایسی فلمیں بنیں گی جو کمائیں گی ہی نہیں تو دوبارہ کون سرمایہ کاری کرے گا. یہ ایک سرکل ہے جس کو میں اپنی محنت سے چلاتی رہی۔۔میری تمنا ہے کہ فلمی صنعت دوبارہ مستحکم ہو سنیما آباد ہوں کیونکہ فلمی صنعت سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے حکومت کو فلمی صنعت اربوں روپئے تفریح ٹیکس کی صورت میں دے چکے آج فلمی صنعت کو حگومت کی سرپرستی درکار ہے “ نیف ڈیک” کی طرز کا ادارہ بنایا جائے جو فلمسازوں اور سنیما مالکان کو سخت شرائط پر بلا سود قرضہ فراہم کرے تھا طرح بھارت میں دیا جاتا ہے تاکہ فلمی صنعت دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔۔