پی ٹی وی میں خاتون کو ہراساں کرنے کے الزام میں معطل جنرل منیجر(جی ایم) انکوائری میں قصوروار ثابت ہونے کے باوجود ایک بار پھر جی ایم پی ٹی وی ملتان لگ گیا۔۔ پی ٹی وی میں اپنے افسر کے ہاتھوں ہراسمنٹ کا شکار ہونے والی خاتون مہ جبین عابد نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ ۔۔ میرا تعلق ملتان سے اور میں ایک آزاد صحافی ہوں، پی ٹی وی ملتان میں میں اپنا پرائم ٹائم شو خود ہی پرڈیوس اور میزبانی کرتی تھی۔لیکن یہ معاملہ میرے کام کا نہیں بلکہ ہراسمنٹ اور ناانصافی کا ہے۔۔مجھے جی ایم پی ٹی وی ملتان کے نازیبا اور غیرپیشہ وارانہ رویہ کا سامنا کرنا پڑا ، جس پر میں نے انہیں روکااور اپنے حدود کا انہیں بتادیا، جس کے نتیجے میں مجھے ایک فون کال پر اپریل دوہزارچوبیس کو فائر کردیاگیا۔۔جب اس کی انکوائری ہورہی تھی تو مجھے سوشل میڈیا پر نشانہ بنایاگیا، میری نجی زندگی کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی، میری فیملی کو بھی اس میں ملوث کیاگیا، کچھ لوگوں نے چاہا کہ میں اس انکوائری سے پیچھے ہٹ جاؤں۔۔مجھے کہاگیاکہ اس کیس کے بعد تمہاری شادی بھی نہیں ہوسکے گی، تم شہر میں کہیں کام کرنے کے لائق نہیں رہوگی،انکوائری کے نتیجے میں اس شخص کی تنزلی کردی گئی جس پر اس نے وفاقی محتسب میں اپیل کردی، پھر وہی سماعتیں وہ قصے چھیڑے گئے میں اپنے والدین کے ذریعے اس معاملے کو بھگتتی رہی، اس مرتبہ نئی کمیٹی بنائی گئی اور نئے سرے سے انکوائری کا آغاز ہوا،انکوائری میں ثابت ہوگیا کہ ایک فون کال پر مجھے نوکری سے نکالنا مس کنڈکٹ ہے، لیکن ہراسمنٹ کا معاملہ انکوائری کے اراکین نے دبانے کی کوشش کی اور کہا کہ ہراسمنٹ ثابت نہیں ہورہی۔بہرحال انکوائری میں پی ٹی وی نے واضح کیا کہ اس شخص کو خبردار کیاگیا ہے اور اپیل ڈسمس کردی گئی اور اب جولائی میں اسی شخص کو پی ٹی وی ملتان کا جنرل منیجر بنادیاگیا۔۔جب کہ انکوائری میں اسے قصور وار مان کر نوکری سے فارغ کردیاگیا تھا۔ میں بھی ایک سال سے بیروزگار ہوں لیکن ایسی جگہ کام ہرگز نہیں کرنا چاہوں گی جہاں ہراسمنٹ کرنے والوں کا تحفظ کیا جاتا ہو۔میں اپنے ہی شہر میں تنہائی کا شکار ہوں، جذباتی اور معاشی استحصال کا شکار ہوں۔۔کیا ہراسمنٹ کا شکار ہونے پرخواتین کو خاموش رہنا چاہیئے؟ کیا ہراسمنٹ کے خلاف کھڑے ہونے پر کسی کا کیرئر تباہ کیا جاتا ہے؟ ۔۔۔ وفاقی وزیراطلاعات عطاتارڑ، پارلیمنٹ میں موجود خواتین ارکان ، ڈی جی آئی ایس پی آر اور تمام متعلقہ اداروں کو اس معاملے کا سخت نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والے کو مزید مشکلات کا شکار ہونے سے بچائیں۔ سزا یافتہ کو اقتدار دلا کر مزید لوگوں کو ہراساں کرنے کا لائسنس دینے کے بجائے اسے عبرت کا نشان بنایاجائے۔
