معروف اینکرپرسن جیسمین منظور نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ہنی ٹریپ کا شکار ہوئی ہیں، باقاعدہ سے میرے پروفائل کو اسٹڈی کیا گیا، مجھے ٹریپ کیا گیا جسے ہنی ٹریپنگ کہتے ہیں ،میری مالی حالت دیکھی گئی، انہوں نے دیکھا کہ میرے والد نہیں ہیں، والدہ کے ساتھ اکیلی رہتی ہوں تو میں ان کے لئے ایزی ٹارگٹ تھی۔پھر اس نے کاروبار کے نام پر مجھ سے پیسے لینے شروع کئے اور ساڑھے چار پانچ کروڑ مجھ سے لئے۔جب میں نے پیسوں کا تقاضا کیا تو انہوں نے دوہزار بائیس دوہزار تئیس سے آہستہ آہستہ اپنا سامان اور کپڑے پنڈی شفٹ کردیئے ، جہاں رینٹ کی گاڑیوں کا کام شروع کیا،میرا نام استعمال کرکے اس نے ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں جان پہچان بنالی تھی۔۔ نیو ڈیجیٹل کو انٹرویو میں جیسمین منظور کا کہنا تھا کہ تین بچوں کو اغوا کرکے کامرہ میں کسی اور عورت کا شوہر بن کر رہ رہا ہے ، وہ عورت پہلے سے شادی شدہ تھی اس نے نکاح پر نکاح کیا ہے۔۔ جیسمین نے بتایا کہ وہ اٹھائیس سال سے صحافت کررہی ہیں اور دوہزار انیس میں انہوں نے شادی کی۔شادی کے فوری بعد ہم عمرے پر گئے، جہاں پہلی بار ہوٹل کے کمرے میں مجھے مارا،جب میں واپس پاکستان آئی تو اپنی ماں کو بتایا تو انہوں نے کہا اسے اپنے گھر سے نکال دو۔۔ وہ میرے گھر میں ہی رہ رہا تھا۔۔اسی دوران دو سال گزر گئے۔ اس نے مجھ پر پابندی لگائی کہ میڈیا چھوڑنا ہوگا۔۔جس پر لڑائیاں ہوتی رہیں۔۔میں نے جتنا کمایا تھا وہ سب اس شخص نے لے لیا۔۔اٹھائیس سال میں جو کچھ اپنے لئے بچایا تھا وہ سب اس نے لے لیا۔۔جیسمین منظور نے انکشاف کیا ہے کہ ایک ایسا شخص جس پر پنڈی میں تین اور کراچی میں چار ایف آئی آر درج ہیں وہ چھ ماہ سے جناح اسپتال میں کیسے رہ رہا ہے۔۔کون لوگ اسے سپورٹ کررہے ہیں؟ جیسمین منظور نے کہا کہ اس معاملے میں میرے چینل نے مجھے سپورٹ نہیں کیا، بلکہ مجھ سے جبری استعفا لے لیا گیا۔۔
