فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز) کی صدر ڈاکٹر سعدیہ کمال، جنرل سیکریٹری شاہد علی ، سینئر نائب صدر ناصر شیخ نے گجرانوالہ پریس کلب پر سرکاری مداخلت کے ذریعے قبضہ کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح گجرانوالہ پریس کلب میں صحافیوں کے دو گروپوں میں تنازعہ میں پولیس اور انتظامیہ ایک مخصوص گروپ کو سپورٹ کر کے حالات خراب کر رہی ہے اس طرح کے عمل سے صحافت اور صحافیوں کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجرانوالہ پریس کلب کے مسئلے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے کے صوبائی حکومت اپنی اپنی ایما پر مقامی انتظامیہ اور پولیس نے زوروز بر دستی سے ایک گروپ کو قبضہ کروایا ، یہ عمل کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صحافیوں کی جانب سے اپنے ہی لوگوں پر سر کاری مدد کے ذریعے تشدد کرانے اور کلبوں کی تالا بندی کرانے کا عمل شروع ہو گیا تو پھر اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے ، موجودہ حکومت جو کہ پہلے ہی صحافیوں کیخلاف نت نئے قوانین بنا کر صحافیوں کی قوت کو پارہ پارہ کرنے پر تلی ہوئی ہے ایسے میں صحافیوں کے حقوق کے علمبرداروں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ انہی حکمرانوں کے ذریعے اپنی برادری کے لوگوں پر تشدد کرائیں اور زور و ز بر دستی قبضے کریں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایف یو جے ( ورکرز ) صحافیوں کے درمیان اتحاد کے خواہاں ہے لیکن صحافیوں کے حقوق کے نام پر سیاست کرنے والے صحافیوں کو تقسیم تقسیم اور ان کی قوت کو کمزور کر کے خود اپنے ہاں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔
