neo news mein drivers or reporters aik barabar

نیونیوزکے اینکر اور بیوروچیف کے خلاف مقدمہ درج

پنجاب یونین آف جرنلٹس کا یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر حسن راٹھور کی طرف نیو نیوز کے پروگرام ” پاکستان پو چھتا ہے کے اینکر پرسن میاں عمران ارشد اور بیورو چیف لاہور میاں نوید کے خلاف تھانہ صدر شاہکوٹ میں مقدمہ کے اندارج کی شدید مذمت کی ہے اور اسے اپنی کرپشن چھپانے کی ناکام کوشش اور آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔ پی یو جے کے صدر نعیم حنیف، جنرل سیکرٹری قمر الزمان بھٹی سینئر نائب صدر یوسف رضا عباسی، ندیم زعیم ، جوائنٹ سیکرٹری مدثر حسین قتلہ، شیرعلی خالی خزانچی نیم قریشی اور ایگز یکٹو کونسل نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ نیو نیوز پیمرا کے تحت ایک نیوز چینل ہے جس کا پروگرام ” پاکستان پوچھتا ہے ” عوامی ایشوز کو نمایاں طور پر اجاگر کرنے ، افسر شاہی کی ناک کے نیچے کرپشن اور اختیارات کے نا جائز استعمال سمیت ہر طرح کی لوٹ کھسوٹ کو بے نقاب کرتا ہے۔ اس پروگرام کے اینکر پرسن ارشد عمران اور بیورو چیف نیو نیوز میاں تو یہ معروف صحافی ہیں۔ اس پروگرام میں میاں عمران ارشد نے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر کی ڈاکٹر احسن راٹھور کے سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال  کو بے نقاب کیا ہے کہ کس طرح لاہور سے 125 کلومیٹر دور نگانہ کے علاوہ میں اپنے فارم ہاؤس پر و دیو نیورسٹی کے دس سے بارہ ملازمین کو لے جاتے ہیں اور ان سے وہاں کام کرواتے ہیں۔ پی یو جے کے صدر نعیم حنیف نے کہا کہ یہ ایچ ایس کے وائس چانسلر کا یہ سارا اقدام اختیارات کا نا جائز استعمال اور سرکاری وسائل کو اپنی زمینوں اور فارم ہاؤس پر سرکاری ملازمین سے کام لینے کی غیر قانونی حرکت تھی جیسے میاں عمران ارشد نے اپنے پروگرام ” پاکستان پوچھتا ہے ۔ میں بے نقاب کیا مگر اس پروگرام کی ریکارڈنگ کے دوران نہ صرف میاں عمران ارشد اور ان کی ٹیم کو زبردستی ان کی پروفیشنل داریوں سے روکا گیا بلکہ انہیں ڈرانے اور دھمکانے کے لئے الٹا تھانہ صدر شاہکوٹ میں اپنے ملازمین کی طرف سے من گھڑت اور جھوٹی ایف آئی آر بھی درج کروادی دی جس میں پروگرام کے اینکر  میاں عمران ارشد جو کہ ایک معروف تحقیقاتی صحافی ہیں مگر صحافی کی بجائے یوٹیو بر قرار دیا گیا تا کہ ایک جھوٹی ایف آئی آر با آسانی درج ہو سکے۔ پی یو جے کے صدر نعیم حنیف نے اس سارے معاملہ پر وفاقی و صوبائی وزرات صحت کو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا جبکہ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سے مطالبہ کیا کہ اس جھوٹی ایف آئی آر کو فوری ختم کریں۔ پی یو جے کے جنرل سیکرٹنرمی قمر الزمان بھٹی نے کہا ہے سرکاری ملازمین میں ایسا مافیا ایک عرصہ سے موجود ہے جو سرکار کے وسائل کو ” نا ناجی کی دوکان پر فاتحہ ” کی مانندلوٹ مار کرتا ہے اور جب بھی کوئی میڈیا ٹیم اس دھندے کو بے نقاب کرتی ہے تو اس میڈیا ٹیم پر حملہ کیا جاتا ہے اور با اثر ملازمین ایسے معاملات میں ریاست کو طاقت کو استعمال کرتے ہیں اور پولیس کے ذریعے مقدمات اور دھمکیوں سے ڈرایا جاتا ہے۔ پی یوجے کی ایگزیکٹو کونسل نے واضح کیا کہ یونین صحافیوں کے تحفظ اور ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران رکاوٹ بننے والے ایسے مافیا کے خلاف اپنی صحافی کمیونٹی کے تحفظ کے لئے میدان میں کھڑی ہے اور ان کے خلاف بھر پور قانونی کارروائی بھی کرئے گی۔ انہوں نے اس معاملہ کو جرنلٹس پروٹیکشن ایکٹ  کے تحت بننے والے وفاقی کمیشن کو بھجوانے کا اعلان بھی کیا۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں