پاکستان میں انگریزی اخبارات سرکاری دفاتر کی وجہ سے چل رہے ہیں۔۔

رپورٹ:فا طمہ قمر، پاکستان قومی زبان تحریک

پاکستان کی صحافت کے کہنہ مشق صحافی کالم نگار نفاذ اردو مشن کے مخلص ساتھی محترم ثروت جمال اصمعی کے تعاون و رہنمائی سے پاکستان قومی زبان تحریک کی شعبہ خواتین کی صدر فاطمہ قمر کے اعزاز میں نفاذ اردو سے متعلق ایک فجر انگیز نشست منعقد ہوئی جس کا میزبان و اہتمام کراچی پریس کلب کی موجودہ انتظامیہ نے کیا جس میں صحافیوں کے علاؤہ دانشوروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔۔جن میں ۔ کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی ،سیکریٹری سہیل افضل ،جوائنٹ سیکریٹری محمد منصف ،سابق سیکریٹری پریس کلب اور سیکریٹری پی ایف یو جے اے ایچ خانزادہ ،صدر کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) نصراللہ چوہدری ،نائب صدر کے یو جے دستور منصور احمد قریشی،سابق صدور کے یو جے خلیل ناصر ،طارق ابوالحسن ،سابق سیکریٹری پریس کلب رضوان بھٹی ،ارکان گورننگ باڈی محمد فاروق ،کفیل احمد ، سینئر صحافی نصیر احمد، ابوالحسن، نذیرعباسی، ماریہ اسماعیل ، پاسبان کے صدر الطاف شکور،بزم شعر و سخن کے روح رواں طارق جمیل ،جمعیت الفلاح کے محمد قمر،ممتاز اسکالر رضی الدین سید،پاکستان قومی زبان تحریک کے منتظم اعلی سندھ فہیم برنی ، مونا صدیقی شامل ہیں ۔

 محترمہ فا طمہ قمر نے کہا کہ پاکستان میں سو فیصد ذرائع ابلاغ اردو میں چل رہے ہیں چاہے وہ پرنٹ میڈیا ہو یا برقی میڈیا سب اپنا کاروبار و پیغام اردو میں دے رہے ہیں ۔ انگریزی کے دو چینل وجود میں آئے لیکن مارکیٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے بند ہوگئے حتی کہ سو فیصد انگریزی میڈیم کے دور میں کوئی چینل انگریزی کی خبریں بھی نہیں دیتا کیونکہ اس کے سامعین ہی نہیں ہیں ۔ پاکستان میں انگریزی اخبارات سرکاری اداروں میں حکومت کی فنڈنگ سے چل رہے ہیں آج حکومت اگر سرکاری دفاتر میں انگریزی اخبارات کی خریداری کی فنڈنگ بند کردے تو یہ اخبار بھی بند ہو جائیں گے ایک سروے کے دوران پاکستانیوں سے پوچھا گیا کہ کتنے افراد اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے انگریزی اخبار خریدتے ہیں حیرت کی بات ہے کہ صرف ملک گیر پانچ سو افراد میں سے صرف دو افراد نے اعتراف کیا کہ وہ اتوار کے دن کا انگریزی اخبار نوکری کے اشتہارات کی تلاش کے لئے خریدتے ہیں ۔ ایک سروے کے مطابق ردی فروشوں سے پوچھا گیا کہ آپ کو انگریزی اخبار کس حالت میں ملتے ہیں تو اس کا جواب حیرت ناک تھا ۔ اس کا کہنا تھا کہ انگریزی اخبار صاف ستھرے ، تہہ شدہ بغیر کھلے ہوئے ملتے ہیں ۔ اس لئے کہ انگریزی اخبار کا کاغذ اچھی کوالٹی کا ہوتا ہے اور مہنگے داموں بکتا ہے ۔۔

سوال یہ ہے کہ جب سو فیصد ذرائع ابلاغ اردو میں اپنا کاروبار کررہے ہیں تو پھر صحافت کی تعلیم آور امتحان انگریزی میں کیوں ؟ حتی کہ مہنگے انگریزی میڈیم کے فارغ التحصیل بھی اپنا چینل اردو ہی میں قائم کرتے ہیں ۔۔پوری دنیا میں ذرائع ابلاغ کی زبان کو تعلیم کی زبان کہا جاتا ہے ۔ لہذا ہم تمام صحافی برادری سے التماس کرتے ہیں کہ وہ آئین و عدالت عظمیٰ کے نفاذ اردو فیصلے کو بھی میڈیا کی زینت بنائیں۔ عدالت عظمیٰ کے نفاذ اردو فیصلے کی توہین پر کالم لکھیں ارباب اقتدار کو متوجہ کریں کہ پاکستان میں معاشرتی تقسیم ،تعلیم کے مہنگے ہونے، رٹے بازی، ٹیوشن بازی، بوٹی مافیا کی وجہ ایک غیر ملکی زبان میں بچوں کو تعلیم دینا ہے جس سے بچے کی تمام صلاحیتیں ذبح ہورہی ہیں ۔ جو بچے کسی نہ کسی طرح پڑھ لکھ کر قابل ہوجاتے ہیں وہ اپنا مستقبل بھی انہی ممالک میں محفوظ تصور کرتے ہیں جن ممالک کی زبان میں وہ تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ پاکستان کے تعلیمی ادارے صرف اور صرف امریکہ و برطانیہ کے سستے ترین مزدور تیار کرنے کی فیکٹریاں ہیں۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ کو اس پر توجہ دینی چاہیے ۔۔

نشست کے اختتام پر کراچی پریس کلب کی طرف سے تمام شرکا کو پر تکلف چائے پیش کی گئ بعد میں کہنہ مشق ادیب محترم رضی سید نے ہمیں اپنی کتب پیش کی ۔ہم محترم ثروت جمال اصمعی اور کراچی پریس کلب کی تمام انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمیں کلب میں مدعو کر کے ہمیں اپنے مشن کے اغراض و مقاصد کراچی کی صحافی برادری کے سامنے پیش کر نے کا موقع دیا ۔(فا طمہ قمر، پاکستان قومی زبان تحریک)

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں