پپو نے انکشاف کیا ہے کہ کے ٹوئنٹی ون چینل کے حالات سنگین ہوچکے ہیں، متعدد ملازمین جن میں خواتین بھی شامل ہیں شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ان ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر ہماری فریاد نہیں سنی گئی تو ہم چینل کے دفتر کے سامنے خودسوزی کرلیں گے۔۔ ان ملازمین کا مزید کہنا ہے کہ وہ میڈیا کے نمائندوں کو اطلاع دے کر یہ قدم اٹھائیں گے اور ان کی موت کی ذمہ داری چینل انتظامیہ اور مالکان پر ہوگی۔پپو کا کہنا ہے کہ اس وقت چینل کی صورتحال یہ ہے کہ اپریل کی تنخواہیں اب تک صرف تیس سے چالیس فیصد لوگوں کو ملی ہے باقی لوگ اب تک اپریل مئی جون کی تنخواہوں سےمحروم ہیں۔۔ اگلی تنخواہوں کے بارے میں بھی کوئی واضح پالیسی یا تاریخ نہیں دی گئی، اور انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ان کے پاس اس وقت ادائیگی کے لیے فنڈز موجود نہیں۔پپو کا مزید کہنا ہے کہ چینل مالکان کے اللے تللے ویسے ہی ہیں، گھر میں تقاریب بھی ہورہی ہیں بچوں کی فیسیں بھی جارہی ہیں، گاڑیاں بھی چل رہی ہیں، یوٹیلٹی بلز بھی وقت پر ادا ہورہے ہیں یعنی اپنے تمام تر اخراجات چینل کے ملازمین کی تنخواہیں روک کر پورے کئے جارہے ہیں۔پپو کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پیسہ جو بھی آ رہا ہے وہ اپنے اوپر لگائے جا رہے ہیں۔چینل کے اندرونی حالات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ اب ملازمین کی مایوسی شدید غصے میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ان ملازمین کاکہنا ہے کہ جب وہ مالکان سے اپنی تنخواہوں کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو اُنہیں انتہائی بے شرمی اور بے حسی سے جواب دیا جاتا ہے کہ۔۔ہمارے پاس اس وقت پیسے نہیں ہیں۔ جب ہوں گے تو دے دیں گے، نہیں ہوں گے تو نہیں دے سکتے۔یہ جواب نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ایک طرح کی توہین بھی ہے ان افراد کی جو دن رات چینل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ملازمین کا مزید کہنا ہے کہ اب معاملہ برداشت سے باہر ہوچکا ہے، ممکن ہے کہ کچھ ملازمین عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھانے پر مجبور ہوجائیں۔
