do maahine baad aadhi tankhua

دو مہینے بعد آدھی تنخواہ۔۔

تحریر:وقار بھٹی

دنیا بھر کے اداروں کو تو چھوڑیں، پاکستان کے اکثر سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں رمضان المبارک سے قبل تنخواہوں کی ادائیگی کر دی جاتی ہے، اکثر ادارے رمضان میں دو تنخواہیں ادا کرتے ہیں جسے وہ عید بونس کا نام دیتے ہیں۔

رمضان المبارک میں ویسے ہی اشیاء خوردونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کے اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے، عید کے لیے کپڑے سلوانے ہوتے ہیں جس کے لیے رمضان کے شروع میں ہی آپ کو زائد آمدنی یا کم از کم ماہانہ طے شدہ تنخواہ کا ملنا ضروری ہوتا ہے، ان اضافی اخراجات کے ساتھ روٹین کے اخراجات جن میں اگر گھر کرائے کا ہے تو ماہانہ کرایہ، بجلی، گیس اور انٹرنیٹ کے بل، بچوں کی فیسیں اور دیگر ضروری اخراجات جن میں موٹر سائیکل یا کار کا پٹرول ڈلوانے کے لیے تنخواہ کا مہینے کے شروع میں ملنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔

اب ایسے میں سوچیں ایسے لوگوں کے متعلق جنہیں مارچ کے مہینے میں جنوری اور فروری کی تنخواہ نہ ملی ہو اور رونے پیٹنے پر جنوری کی آدھی تنخواہ ادا کی جائے۔

ایسا ہی ہوا ہے پاکستان کے ایک کثیر الاشاعتی اردو اور انگریزی کے اخبار کے ملازمین کے ساتھ جن کے چند ساتھیوں کو مارچ کے مہینے نہیں جنوری کی آدھی تنخواہ ادا کی گئی ہے۔

اس بڑے گروپ کی اکثریت ابھی بھی جنوری کی تنخواہوں سے محروم ہے، یاد رہے کہ اس ادارے میں 15 سال سے تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا۔

میں تو سمجھتا ہوں کہ اس وقت اردو اور انگریزی اخبارات میں کام کرنے والے صحافی اور دیگر ورکرز خود زکوۃ اور صدقات کے مستحق بن چکے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ میں گزشتہ کئی سالوں سے اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ صحافیوں کو متبادل ذریعہ روزگار ڈھونڈنا چاہیے، اخبارات اور ٹی وی چینلز میں بطور روزگار کام کرنا اب معاشی طور پر ممکن نہیں رہا۔(وقاربھٹی)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں