صحافیوں کے تحفظ کیلئے میڈیا ہاؤسز سے ڈیٹاطلب کرلیاگیا۔۔

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ نے کمیشن فار دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پریکٹیشنرز میں خاتون صحافیوں کو نمائندگی دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔کمیشن کا بااختیار بنانے اور کمیشن کے خطوط پر جواب نہ دینے والے حکام کے خلاف کارروائیوں کے اختیارات کے لئے کابینہ سے رجوع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔اس ضمن میں سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت سندھ کمیشن فار دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ ادر میڈیا پریکٹیشنرز کا اہم اجلاس کراچی میں ان کے دفترمیں ہوا۔اجلاس میں خواتین کو کمیشن کو نمائندگی دینے اوراس حوالے سے ترمیمی بل صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا،کمیشن کا بااختیار بنانے اور کمیشن کے خطوط پر جواب نہ دینے والے حکام کے خلاف کارروائیوں کے اختیارات کے لئے کابینہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ بھی اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری اطلاعات ندیم الرحمان میمن،کمیشن کے چیئرمین اعجاز احمد میمن، سیکریٹری سعید میمن،ممبران ڈاکٹر عبدالجبار خٹک،ڈاکٹر توصیف احمد خان،مظہر عباس اورعبیداللہ نے شرکت کی ہے۔ اجلاس میں صوبے میں صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے کمیشن کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی کمیشن چیئرمین نے اجلاس کو بتایا کہ 2023 سے اب تک کمیشن کے 18 اجلاس ہوچکے ہیں جن میں صحافیوں کے تحفظ کے کیسز پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی،کمیشن کے فیصلوں کے تحت صحافیوں کے کیسزپرپولیس و محکمہ داخلہ سے رپورٹس طلب کی جاتی ہیں۔کمیشن ممبران نے اجلاس کو بتایا کہ کچھ حکام کمیشن کی طرف سے لکھے گئے خطوط کا جواب نہیں دیتے،ضرورت اس امر کی ہے کہ کمیشن کے قانون میں ترامیم کرکے اس کو باختیار بنایا جائے،کمیشن میں خواتین کی نمائندگی بھی یقینی بنائی جائے تاکہ خواتین صحافیوں کے مسائل بہتر انداز میں نمائندگی مل سکے۔اس موقع پر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مجوزہ ترامیم کا ڈرافٹ تیار کرنے کا کمیشن چیئرمین کو حکم دیا اور کہا کہ اس حوالے سے ترمیمی بل خود اسمبلی میں پیش کروں گا،صحافیوں کا تحفظ سندھ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کمیشن کے قانون کے تحت صحافیوں کی لائف انشورنس اور پروفیشنل ٹریننگ میڈیا مالکان کی ذمہ داری ہے، کمیشن کی طرف سے خطوط بھی لکھے گئے،میڈیا مالکان سے گذارش ہے کہ قانون پر عملدرآمد کرتے ہوئے صحافیوں کی ٹریننگ اور انشورنس کروائی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ صحافتی یونین اور میڈیا کے ادارے سب سے پہلے اپنے اداروں میں کام کرنے والے صحافیوں کا ڈیٹا کمیشن کو فراہم کریں تاکہ ان کے تحفظ کے حوالے سے بہتر پالیسی مرتب کی جا سکے۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کمیشن کے چیئرمین کو ہدایات جاری کیں کہ سندھ حکومت کی طرف سے مقرر کی گئی کم از کم اجرت کو میڈیا اداروں میں عملدرآمد کروانے کے لیے خطوط لکھے جائیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں