تحریر: اسرارایوبی، ماہرسماجی تحفظ۔۔
اگرچہ قومی اخبارات میں سیاست، بزنس،فلم ٹی وی اور اسپورٹس کی خبروں سمیت دیگر شعبوں کے لئے رپورٹرز اور صفحات مختص کئے گئے ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر ملک کے پیداواری عمل اور ترقی و ترویج میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کے حامل پانچ کروڑ سے زائد کاشت کاروں، مزدوروں،محنت کشوں اور تنخواہ دار ملازمین کی سرگرمیوں اور انہیں درپیش مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے کسی بھی قومی اخبار و جرائد کے پاس کوئی علیحدہ لیبر رپورٹر اور صفحہ مختص نہیں ہے۔یہ لاکھوں محنت کشوں پر مشتمل ایک ایسا مظلوم اور مجبور طبقہ ہے جسے ملک کی تعمیر اورترقی کے لئے اپنا نمایاں کردار ادا کرنے کے باوجود قومی ذرائع ابلاغ کی غیر منطقی پالیسیوں کے باعث بری طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے۔جس کے باعث اس مظلوم طبقہ کو ملک بھر میں صنعتوں ، کارخانوں، کاروباری اور تجارتی اداروں میں بدترین استحصال، بدترین غلامی اور بیگاری کا سامنا ہے۔ جن میں ملکی قوانین کے تحت ملازمت کے لئے تقررناموں کا جراء،حکومت پاکستان اور عالمی ادارہ محنت کے تسلیم شدہ8گھنٹے کے اوقات کار، قلیل اجرتوں،اوور ٹائم،کام کی جگہ پر مزدور کی صحت اور زندگی کے لئے حفاظتی اقدامات،علاج و معالجہ،بچوں کی تعلیم،ہفتہ واری رخصت اور ملازمت سے سبکدوشی کے بعدپنشن جیسے سنگین مسائل درپیش ہیں۔جس کا واضح ثبوت صنعتی اداروں، کارخانوں،کوئلہ کی کانوں، کاروباری اور تجارتی دفاتر کی عمارتوں میں آئے دن رونماہونے والے آتشزدگی، بوائلر پھٹ جانے،کان بیٹھ جانے،کیمیاوی ٹنکیوں میں مزدوروں کے ڈوبنے جیسے روح فرساء واقعات قومی ذرائع ابلاغ کی زینت بنتے رہتے ہیں۔لیکن قومی رحجان یہ ہے کہ محنت کشوں کے ساتھ سنگین سے سنگین حادثات پر وقت گزر جانے کے بعد انہیں فراموش کرکے کسی نئے واقعہ کا انتظار کیا جاتا ہے۔
ایسے میں روزنامہ جسارت کراچی زبردست خراج تحسین کا مستحق ہے۔جس کے زیر اہتمام قاضی سراج کی ادارت میں ہر پیرکے دن بلا ناغہ اور نہایت باقاعدگی سے شائع ہونے والا صفحہ محنت کش وطن عزیز کے محنت کشوں کی سرگرمیوں اور انہیں درپیش مسائل کو اجاگر کرنے میں اپنا منفرد اور یکتا مقام رکھتا ہے۔صفحہ محنت کش کے روح رواں، محنت کشوں کی دنیا میں قاضی سراج کے نام سے معروف لیکن اس بے لوث مزدور دوست اور سچے صحافی کا پورا نام سراج العابدین ہے۔جن کاصحافت سے تعلق صرف پیشہ نہیں بلکہ ایک طرح کا جنون ہے۔جو گزشتہ تین دہائیوں سے کسی صلہ اور ستائش کی تمناء کئے بغیر اپنے محدود وسائل اور سہولیات کے بغیر وطن عزیز کے لاکھوں مظلوم محنت کشوں کی ترجمانی میں مصروف ہیں۔
قاضی سراج نے1948ء میں برصغیر کے تاریخی اور علمی شہر علی گڑھ(ہندوستان) کے ایک معزز خاندان میں جنم لیا۔ان کے والد محترم محکمہ پولیس میں کانسٹبل کے طور سے ملازمت کرتے تھے اور ایک مذہبی اور دیانتدار انسان تھے۔ قاضی سراج نے پرائمری تا نویں جماعت تک منٹو سرکل ہائی اسکول علی گڑھ شہر میں تعلیم حاصل کی اور1964ء میں والد صاحب کی وفات کے بعد پیدا ہونے ہونے والےمسائل کے پیش نظر پاکستان میں مقیم ان کے ماموں نے ان کے اہل خانہ کو پاکستان بلالیا تھا۔جہاں انہوں نے پاکستان کوارٹرز میں اپنے ماموں کے گھر قیام کیا اور نامساعد حالات میں اپنے تعلیمی سلسلہ کا دوبارہ آغاز کیا اور1966ء میں شہر کے نامور تعلیمی ادارہ گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول، کوتوال بلڈنگ بابائے اردو روڈ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں گورنمنٹ سٹی کالج ناظم آباد سے انٹر میڈیٹ اور 1971ء میں جناح پولی ٹیکنیک سنٹر سے میکینیکل کے شعبہ میں ڈپلومہ امتحان پاس کیا۔اس دوران فنی اورنصابی تعلیم کے باوجود عرصہ دو برس تک نوکری کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ بالآخر ان کی مسلسل جدوجہد کے نتیجہ میں انہیں 1974ء میں پاکستان مشین ٹول فیکٹری میں آپریٹر کی ملازمت مل گئی، لیکن یہاں دو ماہ کے مختصر عرصہ کام کرنے کے بعد انہیں خوش قسمتی سے جہاز سازی کے قومی کارخانہ کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس(KS&EW) ویسٹ وہارف کراچی میں ٹیکنیکل اسسٹنٹ کے عہدہ پر ملازمت مل گئی۔
ٍ اس دور میں کراچی شپ یارڈ میں سینکڑوں کارکنان ملازمت کیا کرتے تھے۔چونکہ قاضی سراج کی ذات میں بے لوث خدمت اور انسانیت سے ہمدردی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ لہذاء جلد ہی کراچی شپ یارڈ کے محنت کشوں کی خدمت کے جذبہ اور انہیں درپیش مسائل کے حل کے لئے انہوں نے ٹریڈ یونین تحریک میں شمولیت اختیار کرلی۔اگرچہ انہیں یونین میں خزانچی کا عہدیدارمنتخب کیا گیاتھا لیکن اپنے ذوق مطالعہ، اخبارات بینی اور لکھنے پڑھنے کے شوق کے باعث قاضی سراج جلد ہی یونین کے لئے پبلسٹی سیکریٹری کی ذمہ داریاں انجام دینے لگے اور اس دوران اخبارات و جرائد میں نہایت باقاعدگی سے یونین کی سرگرمیوں اور کراچی شپ یارڈ کے مزدوروں کے مسائل پر مبنی پریس ریلیز، خبریں اور رپورٹیں شائع کرایا کرتے تھے۔ملازمتی مصروفیات اور ٹریڈ یونین سرگرمیوں کے باوجود قاضی سراج نے دوران ملازمت اپنی اعلیٰ فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم جاری رکھتے ہوئے اپنے پسندیدہ شعبہ صحافت میں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی محنت اور سخت جدوجہد کی بدولت 1983ء میں مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو سے میکینیکل کے شعبہ میں بی ٹیک آنرز اور 1985ء میں جامعہ کراچی سے پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے ایم اے صحافت کی ڈگری بھی حاصل کی۔
کراچی شپ یارڈ کی ٹریڈیونین سرگرمیوں اور محنت کشوں کے مسائل کی خبروں اور رپورٹوں کی قومی اخبارات میں اشاعت کے لئے انہیں پریس ریلیز تیار کرکے اور فوٹو کاپیاں کراکے مختلف اخبارات کے دفاتر میں پہنچانے کے لئے ان کی باقاعدہ آمد ورفت رہا کرتی تھی۔چنانچہ قاضی سراج کے شعبہ صحافت سے گہرے لگاؤ اور ٹریڈ یونین تحریک میں بیش بہاتجربہ کو مدنظر رکھتے ہوئے 1991ء میں روزنامہ جسارت کراچی کی جانب سے قاضی سراج کومحنت کشوں کی خبروں کے لئے مختص صفحہ محنت کش مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی جو انہوں نے بصد اعزاز قبول کرلی۔ قاضی سراج کراچی شپ یارڈ کے محنت کشوں کے مسائل اور ٹریڈ یونین کے مقاصدسے اس قدر سچا لگاؤ تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے ان کی اعلیٰ تعلیمی اور فنی قابلیت اور سینیاریٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں دو بار سپروائزر کے عہدہ پر ترقی کے لئے پیشکشیں کی گئیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ قاضی سراج نے محنت کشوں کے عظیم ترمفاد میں اپنا ملازمتی کیریئر قربان کرتے ہوئے دو باراپنی جائز ترقی لینے سے انکار کردیا تھا۔جو ان کی شخصیت کا محنت کشوں کی بے لوث خدمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ قاضی سراج1995ء تک کراچی شپ یارڈ کی ٹریڈیونین تحریک کا سرگرم حصہ رہے۔ بعد ازاں 1995ء میں قاضی سراج کو چاروناچار کراچی شپ یارڈ میں سپروائزر کے عہدہ پر ترقی کو قبول ہی کرنا پڑا اور وہ2000ء تک اس کارخانہ میں سپروائزر کے عہدہ پر بحسن و خوبی خدمات انجام دیتے رہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کراچی شپ یارڈ میں ناسازگار ملازمتی حالات اور تنخواہوں کی بروقت عدم ادائیگی اور دیگر مسائل کے پیش نظر انہوں نے2001ء میں اس کارخانہ سے اپنی طویل وابستگی کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کرلیا اور انہیں اپنی ملازمت کے خاتمہ کے لئے کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس کی انتظامیہ سے سنہری مصافحہ(گولڈن شیک ہینڈ)کرنا پڑا۔
کراچی شپ یارڈ سے ملازمت کے خاتمے کے بعد قاضی سراج نے خود کو مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لئے مکمل وقف کردیا اور کل وقتی طور سے نئے جذبہ سے محنت کشوں کی صحافت میں بھرپور اندازسے کام کا آغاز کردیا۔ 70سالہ قاضی سراج کا برسوں سے یہ معمول ہے کہ وہ اس پیرانہ سالی اور چلنے پھرنے میں مشکلات اور شہر کی ایک دوردرازمضافاتی بستی میں رہائش کے باوجودسے بے لوث انداز میں کسی ذاتی سواری کے بغیر پبلک ٹرانسپورٹ یا کسی مہربان موٹر سائیکل سوار کی مدد سے کراچی شہر کے مختلف صنعتی علاقوں سائٹ، کورنگی، لانڈھی، شمالی کراچی،پاکستان اسٹیل ملز، شپ بریکنگ یارڈ گڈانی اور حب(ضلع لسبیلہ) میں قائم صنعتی اداروں اور کارخانوں اور دیگر اداروں کا دورہ کرکے وہاں خدمات انجام دینے والے محنت کشوں کی اجرتوں، حالات کار،درپیش مسائل اور سہولیات کے متعلق معلومات اور آگہی اور انٹرویو کرکے اسے اپنے اخبار کے صفحہ محنت کی زینت بناکر ان مسائل کو ارباب اختیار اور اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
قاضی سراج نے ملک کے محنت کش طبقہ کو درپیش مسائل اجاگر کرنے کے لئے جسارت لیبر فورم کی بنیاد بھی ڈالی ہے۔ جس کے تحت شعبہ محنت کے محکموں کے اعلیٰ افسران،مزدور رہنماؤں اورمحنت کشوں کو ایک میز پر جمع کرکے انہیں آپس میں مکالمہ اور سوالات و جوابات کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔اسی طرح قاضی سراج کی انتھک کوششوں سے جسارت لیبر فورم کے تحت مسائل کا شکار مظلوم محنت کشوں کی قانونی رہنمائی اورانہیں سستی قانونی امداد فراہم کرنے کی غرض سے مزدور قوانین کے ممتاز وکلاء ملک محمد رفیق ایڈوکیٹ، جناب رفیع اللہ ایڈوکیٹ(اب مرحوم) اور ایم اے کے عظمتی ایڈوکیٹ (اب مرحوم)اور شعاع النبی ایڈوکیٹ کے قانونی لیکچرز کا بھی اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ جسارت لیبر فورم کے تحت اب تک شعبہ محنت کے متعلق بے شمار موضوعات پر پروگرام منعقد ہوچکے ہیں اورقاضی سراج کراچی کے علاوہ1995میں صوبہ پنجاب کا پندرہ روزہ دورہ کرکے ملتان،لاہور،گوجرانوالہ،گجرات اور فیصل آباد کے صنعتی علاقوں میں بھی کامیاب پروگرام منعقد کرچکے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں سے مظلوم محنت کشوں کی فلاح و بہبود میں کوشاں بزرگ صحافی قاضی سراج کوخرابی صحت،وسائل کی کمی،مختلف رکاوٹوں اوربارہا آزمائشوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن اس کے باوجود ان کے پایہ استقامت میں کبھی ذراسی بھی لغزش نہیں آئی۔
سال2001ء کا ذکر ہے کہ کراچی پریس کلب کے سامنے ایک صنعتی ادارہ سندھ الکلیزلمیٹیڈکے محنت کشوں کی ایک بڑی تعداد اپنے مسائل کے حل کے لئے مظاہرہ کرنے میں مصروف تھی اور حکومت نے مظاہرین سے نمٹنے کے لئے اس علاقہ کو حساس علاقہ قرار دے کر دفعہ144نافذ کر رکھی تھی۔ لیکن محنت کشوں کے مسائل میں گہری دلچسپی اور ان کے مطالبات سے ہمدردی کے باعث قاضی سراج بھی شانہ بشانہ مظاہرین کی صف میں شامل تھے۔ لہذاء پولیس نے دفعہ144کی خلاف ورزی پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے زبردست لاٹھی چارج کیا اوردیگر محنت کشوں کے ساتھ ساتھ قاضی سراج اور ملک محمد رفیق ایڈوکیٹ کو بھی حراست میں لے کر آرٹیلری میدان تھانہ کی حوالات میں بند کردیا۔ جہاں آپ محنت کشوں کے ساتھ تقریبا8گھنٹے پولیس حوالات میں بند رہے اور بالآخر امیر جماعت اسلامی نعمت اللہ خان کی جانب سے شخصی ضمانت پر رہا ہوئے۔ لیکن دفعہ144کی خلاف ورزی کا یہ مقدمہ ایک برس تک عدالت میں چلتا رہا اور قاضی سراج مزدورں کی ہمدردی کی سزا کے طور پر پیشیوں پر پیشیاں بگھتتے رہے اور پھر بالآخرایک برس بعدبریت کے ذریعہ خلاصی پائی۔
قاضی سراج کو اپنی صحافتی زندگی میں کئی جان لیوا حادثات سے گزرنا پڑا۔ چونکہ وہ نہ تو موٹر سائیکل چلانا جانتے ہیں اور نہ ہی کوئی ذاتی سواری ہے ۔لہذاء بعض اوقات مہربان دوستوں سے لفٹ لے کر پرگراموں،تقریبات اور دفتر جسارت جاتے ہیں اس دوران وہ کئی بارچلتی موٹر سائیکلوں سے گر کر زخمی بھی ہوچکے ہیں اور اب اس قدر خوفزدہ ہوگئے ہیں کہ جب کبھی کسی موٹر سائیکل سوار کے پیچھے بیٹھتے ہیں تو غیر ارادی طور پربار بار اپنے گھٹنوں کو بچاتے ہیں کہ کہیں کسی گزرتی گاڑی سے نہ ٹکراجائیں۔۔
اسی طرح سال2008ء کا قصہ ہے کہ قاضی سراج دفتر روزنامہ جسارت میں اپنا صفحہ محنت کش ترتیب دے کرشب11بجے کراچی کی مشہور زمانہ پبلک ویگن ڈبلیو گیارہ کے ذریعہ اپنے گھر جارہے تھے۔کراچی کے لوگ بخوبی واقف ہیں کہ ویگن کا عملہ مسافروں سے دھونس و بدتمیزی، گاڑیوں میں بلند آواز میں گانے بجانے اورگاڑیوں کی اندھا دھند ریس لگانے کتنا بدنام ہے۔ دوران سفر اس قدر بلند آواز میں گانے بجائے جاتے ہیں کہ مسافروں کے کان پھٹ جائیں۔لیکن مسافروں کے احتجاج کے باوجود اس ویگن کے کنڈکٹر اور ڈرائیوروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ قاضی سراج نے ویگن ڈرائیور کو بے ہنگم گانوں کاشور شرابہ ختم کرنے اور مسافروں کے سکون کے لئے بارہا گانے بند کرنے کا کہا لیکن وہ اپنی ضد سے باز نہیں آیا اور ان سے الجھنے لگا۔ کریم آباد کے بس اسٹاپ پر قاضی سراج احتجاجا ویگن سے اتر کر عملہ کی شکایت کرنے کے لئے ٹریفک پولیس کی چوکی جانب بڑھے ہی تھے کہ اچانک شقی القلب اور سفاک ڈرائیورنے غصہ کے عالم میں ان پر اپنی گاڑی چڑھاکرانہیں روندھنے کی کوشش کی۔ جس کے باعث قاضی سراج ویگن کی زوردار ٹکر سے سڑک پرگرگئے اور آنا فانا گاڑی کے نیچے آگئے۔اسی اثناء میں شورشرابے پر لوگ جمع ہوگئے اور انہیں سخت زخمی حالت میں گاڑی کے نیچے سے نکالا گیا اوراس دوران پولیس بھی موقعہ پر پہنچ گئی۔ قاضی سراج کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال لے جایا گیا۔اس حادثہ میں قاضی سراج کے بائیں پاؤں کی پنڈلی اور ٹخنہ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی اور ویگن کے پہیوں کے نیچے کچلے جانے کے باعث ان کا دایاں ہاتھ بری طرح متاثر ہو اتھا جو کافی علاج و معالجہ اور پلاسٹک سرجری کے باوجود آج تک ناکارہ ہے۔اسپتال میں کافی عرصہ زیر علاج رہنے اور متعدد آپریشنز سے گزرنے اور دائیں ہاتھ کی پلاسٹک سرجری کے بعد ہی قاضی سراج کافی عرصہ بعد صحت یاب تو ہوگئے لیکن اس حادثہ نے ان کے جسمانی اعضاء کو بہت نقصان پہنچایا۔اس دوران پولیس نے روائتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ظالم ڈرائیور سے جوڑتوڑ کرکے اسے چھوڑدیا۔لیکن اس ظالم اورسفاک ڈرائیور کی جانب سے جان لیوا حرکت کے باعث درویش صفت بزرگ صحافی قاضی سراج کا بڑی جراء ت اور بیباکی سے محنت کشوں کے مسائل اجاگر کرنے والاقلم بردار ہاتھ تقریبا مفلوج ہو گیا ہے اور اب وہ دائیں ہاتھ سے بمشکل قلم پکڑ پاتے ہیں۔
لیکن ان تمام آزمائشوں اور حوادث کے باوجودقاضی سراج برصغیر کے عظیم المرتبت اور درویش صفت صحافی مولانا حسرت موہانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صحافت کا پرچم بلند کئے ہوئے ہیں اور مزدور صحافت کو اپنے خون سے سینچنے میں مصروف ہیں۔اس مادہ پرستی کے دور میں وہ آج بھی حسب معمول اپنا قلم سنبھالے ایک ہمدردمزدورصحافی کی حیثیت سے مظلوم محنت کشوں کی خدمت کے لئے کوشاں ہیں اوراپنے ہفت روزہ صفحہ محنت کش کے ذریعہ وطن عزیز کے اس کمزور اور مظلوم طبقہ کے مسائل کو ارباب اختیار اور ایوانوں تک پہنچانے میں شب وروز مصروف رہتے ہیں۔اگرچہ ڈاکٹروں نے قاضی سراج کو گھٹنے میں تکلیف کے باعث زیادہ چلنے پھرنے اور پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر اور موٹر سائیکل پر بیٹھنے سے منع کیا ہے اوراسی طرح ان کی قوت سماعت بھی متاثر ہے۔ لیکن عمر عزیز کی سات دہائیاں گزارنے کے باوجود درویش صفت اور بزرگ صحافی قاضی سراج آج بھی انتہائی سادہ لباس میں ملبوس، سر پر سفید ٹوپی اور ہاتھ میں کاغذات کے پلندوں سے بھرے کپڑے کا تھیلہ اٹھائے جگہ جگہ محنت کشوں کے اجتماعات،مظاہروں اور تقریبات کی کوریج کرتے نظر آتے ہیں۔
قاضی سراج اب کچھ عرصہ سے اسمارٹ فون کا استعمال کر نے لگے ہیں جس کی بدولت انہیں ملک بھر سے محنت کشوں کی سرگرمیوں، خبروں کے حصول اور محنت کشوں سے فوری رابطوں میں بیحد آسانی پیدا ہوگئی ہے۔(اسرارایوبی، ماہر سماجی تحفظ)۔۔



