سوشل میڈیا پر چیک اینڈ بیلنس بہت ضروری ہے، عطا تارڑ۔۔

 وفاقی وزیراطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے کہاہے کہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کے قواعد کی کمی کا ہمیں بہت نقصان ہوا، ڈیجیٹل میڈیا خودبخود ترقی کرنے لگا جس سے مسائل پیدا ہوئے، نئے قوانین کا مطلب آزادی اظہارِ رائے کو دبانا ہر گز نہیں،بہترین جمہوریتوں میں سزا اور جزا کا نظام موجودہے۔ وفاقی وزیراطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق ہمارے وقت کا سب سے بڑا خطرہ سوشل میڈیا کا منفی استعمال ہے، فیک نیوز اور پراپیگنڈہ ہمارے وقت کا سب سے بڑا خطرہ ہے، روایتی میڈیا میں اب تک کچھ قاعدے اور ضوابط موجود ہیں، پرنٹ میڈیا تبدیل ہو کر الیکٹرانک میڈیا میں تبدیل ہوا۔ ان کاکہناتھاکہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کے قواعد کی کمی کا ہمیں بہت نقصان ہوا، ڈیجیٹل میڈیا خودبخود ترقی کرنے لگا جس سے مسائل پیدا ہوئے، ڈیجیٹل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لئے حکومت نے قانون سازی کی ہے، جرائم جب ڈیجیٹل سپیس میں آئے تو ان کی ریگولیشن نہیں تھی، سوشل میڈیا پر کوئی بھی آسانی سے تشدد کو بھڑکا سکتا ہے، سوشل میڈیا پر چیک اینڈ بیلنس کا ایک نظام بہت ضروری ہے،پیکا ترامیم اور نئی قومی ایجنسی کے قیام کا مقصد جرائم کی روک تھام ہے، نئے قوانین کا مطلب آذادی اظہارِ رائے کو دبانا ہر گز نہیں ہے، بہترین جمہوریتوں میں سزا اور جزا کا نظام موجودہے، قانون سازی کا مقصد ڈیجیٹل دنیا کو خواتین اور کمزور طبقات کے لئے محفوظ بنانا ہے۔ وزیراطلاعات نے کہاہے کہ سیاسی جماعتوں کو اس عمل میں لیڈنگ کردار ادا کرنا چاہیے، ہمارے معاشرے میں صنفی بنیادوں پر امتیاز موجود ہے، ہمارے معاشرتی میں پدرشاہی نظام موجود ہے جسکی وجہ سے خواتین کو مشکلات کا سامنا ہے، سوشل میڈیا کو پدرشاہی نظام کے خلاف آگاہی کے لئے استعمال ہونا چاہیے، فیشن یا تفریح سے جڑے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے کئی لاکھ فالوورز ہیں، سوشل میڈیا پر ایک نئے نظام کے تحت معاشرتی مسائل پر بات ہونی چاہیے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں