ضمنی انتخاب،کوئٹہ پریس کلب اکھاڑا بن گیا۔۔

کوئٹہ پریس کلب ضمنی انتخاب کے موقع پر اکھاڑا بن گیا، پپو کے مطابق جرنلٹس پینل کے سینئر صحافی نے پروگریسیو پینل کے صحافی پر حملہ کیا، گالیاں دیں اور تشدد کا نشانہ بنایا۔۔ بدھ کے روز کوئٹہ پریس کلب میں سیکرٹری فنانس کی نشست کے لئے ضمنی انتخاب ہوا، جس میں صحافیوں کے دو گروپ آمنے سامنے تھے، جرنلٹس پینل اور پروگریسیو پینل کے امیدواروں میں مقابلہ تھا۔ پولنگ کا عمل جاری تھا اسی دوران جرنلٹس پینل سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی(سابق سرکاری ملازم) اور سما کے بیوروچیف نے پہلے پروگریسیو پینل سے تعلق رکھنے والے جیونیوزکے صحافی کو گالی دی پھر ان کے منہ پر زور دار ٹکر ماری ، جس کے بعد زمین پر گراکر تشدد کا نشانہ بنایا۔۔ اس تلخ کلامی میں مزید دیگر صحافی بھی الجھ گئے اور پولنگ کا عمل رکوادیاگیا۔۔ ضمنی انتخاب ڈان کے بیورو چیف کی سرکاری ملازمت سامنے آنے پر ہوئے، موصوف پریس کلب کے فنانس سیکرٹری تھے، سرکاری ملازمت کا راز رفاش ہونے پر وہ استعفا دینے پر مجبور ہوئے،ضمنی انتخاب میں جرنلٹس پینل کے گلزار شاہ نے ستاسی ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی ان کا تعلق باخبر اخبار سے ہے جب کہ ان کےحریف پروگریسیو پینل کے عاصم خان (سی این این) تھے۔پپو کا کہنا ہے کہ سما نیوزکے بیوروچیف جو کہ سرکاری ملازم تھے دو سال پہلے ریٹائرڈ ہوئے اب سرکاری پنشن وصول کررہے ہیں لیکن جرنلٹس پینل سے تعلق اور پریس کلب کی رکنیت بھی رکھتے ہیں، انہوں نے بھی سرکاری ملازمت کو خفیہ رکھا ہوا تھا، اور عرصہ سے کلب کے رکن ہیں لیکن ان کے خلاف پریس کلب نے کوئی کارروائی نہیں کی۔  پپو کا کہنا ہے کہ اس جھگڑے کے بعد امکان ہے کہ معاملہ پریس کلب کے پاس جائے گا ، کلب انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ میرٹ اور انصاف پر فیصلہ کرے۔۔ تاکہ کلب کی مزید بدنامی نہ ہو۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں