aik sabiq bol mulazim ki sachai

بول نیوزکا لمبرون سے زوال کی طرف سفرجاری۔۔

بول نیوزکا لمبرون سے زوال کی طرف سفرجاری ہے۔۔ پپو کے مطابق ماضی قریب میں پاکستان کے سب سے مقبول نیوز چینل ہونے کا دعویدار بول نیوز، جس کے سر پر کبھی ریٹنگز کی دنیا کا تاج سجا ہوا کرتا تھا، آج سُکڑ کر صرف تین فلورز تک محدود ہو چکا ہے۔ کبھی جس چینل کے دفتر میں صحافت کی چکاچوند، کیمروں کی روشنی، اینکرز کی گونج اور “سب سے پہلے ہم نے دکھایا” کا غرور چھایا ہوتا تھا، آج وہی ادارہ ایک ویران بیوہ کی اُجاڑ مانگ کا منظر پیش کر رہا ہے۔دفتر کی راہداریوں میں گونجتی آوازیں اب ماضی کا قصہ بن چکی ہیں۔ بجھے ہوئے کیمرے، خالی ڈیسک، افسردہ ملازمین، اور چاپلوسی کے ماہر چند مخصوص افراد کا ٹولہ۔۔ یہی اب اس زوال کی بے زبان داستان سناتے ہیں۔ وہ ادارہ جو کبھی صحافت کی دنیا میں طاقت، رعب اور رسائی کی علامت تھا، آج نہ صرف خبروں کی دنیا میں پس منظر کا کردار بن چکا ہے بلکہ معاشی بدحالی میں بھی صفِ اوّل پر آ گیا ہے۔بول نیوز کی وہ بلند و بالا بلڈنگ، جو کبھی اس کی عظمت کی علامت ہوا کرتی تھی، اب محض ایک کرائے کی جگہ ہے۔ بول اب محض ساتویں، آٹھویں اور نویں منزل پر سمٹ کر رہ گیا ہے، جبکہ باقی پوری عمارت چینل 365 کے مالک  کے زیرِ تصرف آ چکی ہے۔بول نیوز جس کی کبھی پوری بلڈنگ ہوتی تھی اب وہی ادارہ اسی بلڈنگ کے تین فلورز پر کرایہ دار بن چکا ہے۔۔بول نیوز کے نئے مالکان نے آتے ہی تمام  ملازمین پر وہ معاشی تلوار چلائی ہے جس کا تصور بھی نہ کیا جا سکتا تھا۔برسوں  سے جاری بول کے ملازمین کی   پک اینڈ ڈراپ سروس  (جو اُن کے لئے کسی نعمت سے کم نہ تھی) اب  مرد حضرات کے لئےمکمل طور پر  بند کرکے صرف خواتین کی حد تک محدود کر  گئی ہے۔ وہ تمام ملازمین، جو مہنگائی کے اس عہد میں دفتر آنا افورڈ نہیں کر سکتے، اُن کی فہرستیں تیار کی جا چکی ہیں۔ چینل انتظامیہ کی جانب سے حکم دیاگیا ہے کہ یا تو کسی بھی طرح دفتر پہنچو، یا گھر بیٹھو اور تمہاری جگہ کوئی اور آ جائے گا۔ تنخواہیں نہ بڑھائی جائیں گی، نہ ہی کسی متبادل سہولت پر غور ہو گا۔پپو نے انکشاف کیا ہے کہ آفس کی موجودہ جگہ چھوٹی پڑ رہی ہے، سو انتظامیہ کی جانب سے اب اضافی ملازمین کو بھی فارغ کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ ادارے کی اس صورتِ حال نے ایک سوال جنم دیا ہے  کہ بول کے سابق مالک شعیب شیخ کے منظر سے ہٹنے کے بعد، اس ادارے کو اس نہج پر لانے کا ذمہ دار کون ہے؟ نئے مالکان؟ ہائبرڈ نظام؟ یا وہ  طبقہ ٔ ناخُدا۔۔اور “اُن ” کا  زعم، جو کسی کو بھی نمبر ون  بنانے کے خمار میں سچائی، اصول اور زمینی حقائق کو روند تا پھر رہا ہے؟

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں