سولہ سال کی عمر میں انورمقصود کا ڈرامہ ڈائریکٹ کیا، داور محمود۔۔

معروف ہدایت کار اور اداکار داور محمود نے انکشاف کیا ہے کہ حمزہ علی عباسی کو ابتدائی طور پر ’فائدہ دینے‘ کے بدلے اداکاری کا موقع ملا تھا، وہ اقربا پروری کی وجہ سے انڈسٹری میں آئے۔داور محمود نے حال ہی میں احمد علی بٹ کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر بات کی اور یہ بھی بتایا کہ کس طرح انہوں نے کم عمری میں لیجنڈری لکھاری انور مقصود کے ساتھ کام کیا۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے لاہور سے تھیٹر اداکاری کے کیریئر کا آغاز کیا اور محض 16 سال کی عمر میں کیریئر بنانے کراچی آگئے اور انہوں نے آتے ہی انور مقصود سے ملاقات کی۔ان کے مطابق جب وہ پہلی بار انور مقصود کے گھر گئے تو وہ سوئے ہوئے تھے اور ان کے جانے پر ان کی اہلیہ نے انہیں نیند سے جگایا، وہ ان سے بے دلی سے ملے اور انہیں کہا کہ چلو چلو ٹھیک ہے، بعد میں آنا۔داور محمود کا کہنا تھا کہ انور مقصود کے مذکورہ جملے پر وہ اس وقت ان کے گھر سے چلے گئے لیکن اگلی صبح پھر ان سے ملنے پہنچ گئے، جس پر لکھاری حیران رہ گئے اور ان سے پوچھا کہ کیوں آئے ہیں، جس پر انہوں نے انہیں بتایا کہ آپ نے ہی کہا تھا کہ بعد میں آنا۔ہدایت کار کے مطابق اس وقت انور مقصود نے اپنے دوستوں کو ’پونے چودہ اگست‘ کی کہانی سنانا شروع کی اور پھر اگے چل کر اسی نام سے انہوں نے تھیٹر لکھا۔ہدایت کار نے بتایا کہ ’پونے چودہ اگست‘ بطور ہدایت کار ان کا پہلا تھیٹر تھا، اس وقت ان کے پاس شناختی کارڈ بھی نہیں تھا اور ان کا بینک اکاؤنٹ ’ب‘ فارم پر کھولا گیا تھا۔داور محمود نے کہا کہ اس کے بعد انہوں نے انور مقصود کے ساتھ مزید تھیٹرز میں بھی کام کیا اور انہیں شہرت ملنے لگی۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی آنے سے قبل وہ لاہور میں بھی تھیٹر ہدایت کار شاہ شربیل کے ساتھ کام کر چکے تھے، جنہوں نے اپنے کیریئر کے اختتام پر مطلب میں آکر کاسٹنگ کرنا شروع کردی تھی۔داور محمود کے مطابق شاہ شرجیل نے آخر میں لالچ میں آکر ان اداکاروں کو کاسٹ کرنا شروع کیا تھا، جنہیں کاسٹ کرنے کے بدلے انہیں کچھ نہ کچھ فائدہ ہوتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اسی فارمولے کے تحت ہی شاہ شربیل نے حمزہ علی عباسی کو بھی ایک تھیٹر میں کاسٹ کیا، حالانکہ حمزہ علی عباسی اچھے اداکار نہیں تھے۔انہوں نے بتایا کہ پہلے ایک تھیٹر میں دوسرے اداکار کو کاسٹ کیا جا چکا تھا لیکن اسے نکال کر ان کی جگہ حمزہ علی عباسی کو کاسٹ کیا گیا، کیوں کہ انہیں کاسٹ کرنے کے بدلے ہدایت کار کو فائدہ ملا۔ہدایت کار کا کہنا تھا کہ حمزہ علی عباسی کے والد کا کسی جگہ فارم ہاؤس تھا، جو شاہ شربیل کو مفت میں رہنے کے لیے ملا اور اسی وجہ سے ہی انہوں حمزہ علی عباسی کو کاسٹ کیا، حالانکہ وہ مذکورہ کردار کے لیے فٹ نہیں تھے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں