پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز کے صدر شمیم شاہد اور سیکرٹری جنرل راجہ ریاض نے ملک بھر کے صحافیوں بالخصوص پی ایف یو جے کے مختلف دھڑوں کے عہدیداروں سے اپیل کی ھے کہ وہ معروضی حالات کو مد نظر رکھتے ھوئے آپس کی اختلافات کو ختم کرکے یونین کی پلاٹینم گولڈن جوبلی کی تقریبات کو متفقہ طور پر منانے کی کوشش کرے ۔ پی ایف یو جے ورکرز کے عہدیداروں نے یاد دلایا کہ اگست 1950 میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی بنیاد رکھ پاکستان کے صحافیوں نے عالمی سطح پر کارکن صحافیوں کی پہلی تنظیم قائم کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا ۔ اب ضرورت اس امر کی ھے کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے بانی رھنماووں بالخصوص مرحوم ظفر اللہ چوہدری اور مرحوم عبدالشکور کئ ان کاوشوں کو ایک ایسے وقت میں زندہ کرنے کی سعی کرے جب دنیا بھر میں ذرائع ابلاغ کے ادارے سکھڑ رھے ہیں۔ ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں صحافی اور اخباری صنعت سے منسلک کارکن بیروزگاری اور فاقہ کشی کا شکار ھو رھے ھیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پی ایف یو جے کی بانی قائدین بالخصوص مرحوم منہاج محمد خان برنا ۔ نثار عثمانی ۔ ائ ایچ راشد۔ شیخ عبدالقدوس ۔ عبدالحمید چھاپڑا۔ احفاظ الرحمان۔ شوکت پرویز اور دیگر نے کارکن صحافیوں اور اخباری صنعت سے منسلک ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لئے کافی محنت اور قربانیاں دی تھی ۔ بدقسمتی سے 1977 کے مارشل لاء کے نفاذ کے بعد پی ایف یو جے کو کسی اور نے نہیں بلکہ مقتدر ریاستی اداروں نے تقسیم کر دیا تھا ۔ بعد میں مرحوم رحیم اللہ یوسفزئی کے دعوت پر منہاج برنا ۔ نثار عثمانی ۔ ائ ایچ راشد اور عبدالحمید چھاپڑا نے 1989 میں پشاور ھی میں اس کو نئے سرے سے متحد اور منظم کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی تاھم نومبر 2013 میں ایک بار کارکن صحافیوں کی یہ موثر تنظیم پھر سے دھڑے بندی کا شکار ھو گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پی ایف یو جے آدھ درجن سے زیادہ دھڑوں میں بکھرا ھوا ھے ۔۔شمیم شاھد اور راجہ ریاض نے تمام دھڑوں کے عہدیداروں سے متحد ھونے کی اپیل کرتے ھوئے مظہر عباس اور خورشید عباسی کی قیادت میں ایک ایسی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی جس میں تمام صوبوں اور دھڑوں کی نمائندگی ھو ۔ یہ کمیٹی نہ صرف تمام دھڑوں کو متحد کرنے پر توجہ دے بلکہ پی ایف یو جے کی پلاٹینم گولڈن جوبلی ملک بھر میں شایان شان طریقے سے بھی منالے۔ شمیم شاہد اور راجہ ریاض نے حکومت بالخصوص تمام جمھوری اور مترقی ذھنیت کے حامل سیاسی جماعتوں بشمول پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رھنماووں سے پی ایف یو جے کی دھڑے بندیاں ختم کرنے میں بھی مدد فراھم کرنے کی اپیل کی ۔ انہوں نے ملک بھر کے کارکن صحافیوں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور آئین و پارلیمانی کی بالادستی پر یقین رکھنے والے دانشوروں سے بھی پی ایف یو جے کی متحد اور منظم ھونے میں تعاون فراھم کرنے کی اپیل کی ۔
پی ایف یوجے کی پلاٹینم جوبلی پر تمام دھڑوں سے ایک ہونے کی اپیل۔۔
Facebook Comments
