تحریر:اسرار ایوبی
آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) ملک کے قومی و علاقائی اخبارات وجرائد کے مالکان اور اشتہاری اداروں کی ایک منتخب نمائندہ تنظیم ہے ۔ جس کی ماضی میں حمید نظامی، میر خلیل الرحمٰن، میاں افتخار الدین، فخر ماتری، حامد محمود، حمید ہارون، محمود ہارون، اے جی مرزا،مجید نظامی، قاضی محمد اکبر، منور ہدایت اللہ، میر شکیل الرحمٰن، کے ایم حمید اللہ اور پاکستان آبزرور ڈھاکہ کے منورالاسلام سربراہی کرتے رہے ہیں۔
اس صحافتی تنظیم کا قیام دنیائے صحافت کی دو عظیم شخصیات حمید نظامی اور حامد محمود کی انتھک کوششوں کے نتیجہ میں موجودہ تنظیم کی پیشرو پاکستان نیوز پیپر ز سوسائٹی کی صورت میں 1950 میں عمل میں آیا تھا۔ 1953میں اس تنظیم کا نام آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی اے پی این ایس رکھ دیاگیا تھا۔۔ اگرچہ ابتدائی برسوں میں اخباری مالکان کی اس ملک گیر تنظیم کو ملک کے دونوں خطوں کے قومی و علاقائی اخبارات و جرائد ، اشتہاری اداروں اور ارباب و اختیار کی جانب سے خاطر خواہ پذیرائی اور شناخت حاصل نہ ہو سکی تھی لیکن رفتہ رفتہ یہ صحافتی تنظیم ذرائع ابلاغ کے اداروں میں اپنا اہم مقام بنانے میں کامیاب ہوگئی ۔ ابتداء میں اے پی این ایس کا دفتر فرید چیمبرز صدر کراچی میں کرایہ کی جگہ پر حاصل کیا گیا تھا جہاں وہ ایک طویل عرصہ تک سے اپنے فرائض انجام دیتی رہی ۔ یہاں تک کہ2011 میں آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی اے پی این ایس کی ایک خوبصورت اور پرشکوہ عمارت کے ڈی اے اسکیم 36 گلستان جوہر کراچی میں تعمیر کی گئی جسے اب اے پی این ایس ہاؤس کہا جاتا ہے ۔
آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی ابتداء ہی سے مکمل جمہوری روایات اور اصولوں پر عمل پیرا ہے۔ ملک بھر کے بیشتر قومی وعلاقائی اخبارات و جرائد اور اشتہاری اداروں کے مالکان آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کی رکنیت کے حامل ہیں اور اس صحافتی تنظیم کے ہر سال انتخابات منعقد ہوتے ہیں۔اے پی این ایس کے موجودہ عہدیداران میں نزفرین سہگل لاکھانی روزنامہ ڈان، صدر، امتنان شاہد روزنامہ خبریں، سینئر نائب صدر، محمد اسلم قاضی،روزنامہ کاوش(حیدرآباد) نائب صدر،سرمد علی،روزنامہ جنگ سیکریٹری جنرل،سید محمد منیر جیلانی،روزنامہ پیغام ،فیصل آباد، جوائنٹ سیکریٹری اور شہاب زبیری،روزنامہ بزنس ریکارڈر، فنانس سیکریٹری شامل ہیں۔ جبکہ تنظیم کی مجلس عاملہ کے سات ارکان خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر تنویر اے طاہر ایک طویل عرصہ سےاے پی این ایس سے منسلک ہیں اور اس تنظیم کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
اے پی این ایس اپنے ارکان مطبوعات اور صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان اشتہارات،واجبات کی بیباقی، ٹیکسوں، ڈیوٹیز اور نیوز پرنٹ کے متعلق مختلف مسائل نمٹاتی ہے۔۔جبکہ یہ تنظیم اپنےارکان مطبوعات اور اشتہاری اداروں کے لئے ضابطہ اخلاق بھی طے کرتی ہے۔ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی اے پی این ایس ایک عالمی اخباری تنظیم انٹرنیشنل نیوز پیپرز فریٹرنٹی سے تسلیم شدہ ہے اور 2009 میں ورلڈ ایسوسی ایشن آف نیوز پیپرز میں اس کی رکنیت کی حیثیت بھی قبول کی گئی تھی۔اے پی این ایس نے بیس اور اکیس فروری دوہزار تیرہ کو اسلام آباد میں ساؤتھ ایشین میڈیا سمٹ کا انعقاد کیا تھا جس پورےجنوبی ایشیاء کے میڈیا نمائندوں نے بھرپور طور پرشرکت کی تھی۔
اے پی این ایس کی جانب سے ملک بھر کے اشتہاری اداروں اور قومی و علاقائی اخبارات و جرائد سے وابستہ صحافیوں کی بہترین تخلیقات پر ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے1981میں اے پی این ایس اشتہار بازی ایوارڈز اور 1982میں اے پی این ایس صحافتی ایوارڈز کا آغاز کیا گیا تھا ۔جس کے تحت تنظیم کے رکن اشتہاری اداروں اور رکن قومی و علاقائی اخبارات و جرائد سے وابستہ صحافیوں کو ان کی مختلف شعبوں میں غیر معمولی خدمات اور حسن کارکردگی پر ہر سال ایک مقابلہ کے ذریعہ اے پی این ایس ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔ جو ملک میں صحافیوں کے لئے سب سے اہم اعزاز کا درجہ رکھتا ہے ۔
اے پی این ایس کے اشتہار بازی کے ایوارڈز میں کاروباری کارکردگی ایوارڈز، کلائنٹ کارکردگی، پروڈکٹ لانچ ایوارڈ، بیسٹ کاپی ایوارڈ(اردو اور انگریزی)،بیسٹ ویژول ڈیزائن ( بلیک اینڈ وہائٹ اینڈ کلر)، پبلک سروس کمپین اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ شامل ہیں۔ جبکہ صحافتی ایوارڈز میں بہترین کہانی، بہترین کالم، بہترین فیچر(اردو،انگریزی اور علاقائی زبانوں میں)،بہترین تحقیقاتی رپورٹ، بہترین کارٹون، بہترین تصویر اور بہترین مضمون (اردو،انگریزی اور علاقائی زبانوں میں ) کے زمرے شامل ہیں۔
حال ہی میں آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے زیر اہتمام 24 ویں اے پی این ایس ایوارڈز کا مقابلہ منعقد ہوا تھا ۔جس کے منصفین کے پینل میں امینہ سید، ناصرہ زبیری، پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان،عابد علی سید، پروفیسر سیمی نغمانہ، پروفیسر ڈاکٹر رفیعہ تاج،ثناء علی،ڈاکٹر فتح محمد برفت،پروفیسر ڈاکٹرحر بخش ماکھی جانی اور بدرالدین سومرو شامل تھے۔
منصفین کے متفقہ فیصلہ کے مطابق اے پی این ایس ایوارڈز جیتنے والے صحافیوں کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے۔ جن میں معروف ناول نگار محمد حنیف، ڈان میگزین، بہترین فیچر ایوارڈ (انگریزی)،منور علی راجپوت، سنڈے میگزین روزنامہ جنگ، بہترین فیچر ایوارڈ(اردو)،واحد پارس ہسبانی، روزنامہ عبرت میگزین بہترین فیچر ایوارڈ(علاقائی زبانیں)،سلمان مسعود، روزنامہ دی نیشن، بہترین کالم ایوارڈ(انگریزی)،رضیہ فرید جنگ میگزین اور نصرت جاوید روزنامہ نوائے وقت بہترین کالم ایوارڈ(اردو)، علی محمد میمن روزنامہ کاوش اور میرقائم خان تالپور روزنامہ عبرت بہترین کالم ایوارڈ(علاقائی زبانیں) اور نزیہہ سید علی اور محمد اکبر نوتیزئی، بہترین تحقیقاتی رپورٹ مشترکہ ایوارڈ، سلیم اللہ صدیقی، روزنامہ جنگ میگزین، بہترین تحقیقاتی رپورٹ ایوارڈ(کاروباری/اقتصادی)، محمد اکبر نوتیزئی بہترین تحقیقاتی رپورٹ ایوارڈ (ماحولیات/ تحفظ/صنف) روہیت بھگونت بہترین کارٹون ایوارڈ اور جلال الدین قریشی روزنامہ ایکسپریس ٹریبون، بہترین فوٹوگرافر ایوارڈ کے حقدار ٹہرے ہیں۔اس سلسلہ میں جلد ہی کراچی یا اسلام آباد میں اے پی این ایس تقسیم ایوارڈ کی باوقار تقریب منعقد ہوگی۔ جس میں امکان ہے کہ مہمان خصوصی وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف ایوارڈ یافتہ صحافیوں میں اے پی این ایس ایوارڈ تقسیم کریں گے۔(اسرارایوبی)۔۔
