لاہور پریس کلب کے پروگریسو گروپکے چیرمین جناب من معین اظہر سوشل میڈیا پر آدھی چائے کی پیالی میں ٹھنڈا طوفان برپا کرنے کیخودساختہ کوشیش میں مصروف ہیں۔ صاحب غالبا اپنے ائیر کنڈیشنڈ دفتر یا گھر پر ہیں اور پوسٹوں سے مختلف گروپوں میں لایعنی گولہ باری کررہے ہیں۔ حقائق سے اس حد تک لاعلم شخص (منا بھائی) کم ملا ہوگا کہ جس جگہ تعمیرات کی کوشیش مبینہ طور پر کی گئی منا بھائی اسے صحافی قانونی کا کمرشل ایریا بتا کر خبر کا کمرشل ریٹ بڑھانے چاہتے ہیں ۔ سست ایسے کہ خود کو سیکرٹریٹ رپورٹر کہنے والے اسسٹنٹ کمشنر شالیمار، پی۔ جے۔ ایچ۔ ایف،ریونیو ڈیپارٹمنٹ اور حتی کہ کسی پٹواری یا تھانے ہی فون کرکے اب تک سرکاری موقف نہیں کے سکے مگر نعرے بازی اتنی طوفانی کہ بس باتوں سے آگ لگا دے گا۔
منا بھائی میرے پیارے سچ بولو
سچ یہ ہے کہ2011 میں تمھارے اس وقت کے مہاتما صدر ( نام اسلیئے نہیں کے رہا کہ اب وہ ملک میں نہیں ہے اور دوسرا وہ نام لینے کے قابل بھی نہیں) کی مجرمانہ غفلت کے باعث صحافی کانونی کا انتقال کینسل ہوا اور اس سارے فساد کا آغاز ہوا۔ بی بلاک کی تباہی کا اغاز بھی پیارے منے بھائی تمھارے ہی گروپ نے 2007 میں ایک فراڈ بیلٹنگ کے زریعے کیا تھا جس کا مقصد صرف اور صرف جرنلسٹ گروپ کے تمام سرکردہ سپورٹرز کی حق تلفی تھا۔ پلاٹ سے محروم ہونے والوں کے نام ملاحضہ ہوں،رئیس انصاری، جاوید فاروقی،گوہر بٹ، مقصود اعوان، خواجہ نصیر، حسنین قریشی، مخدوم بلال سمیت درجنوں ایسے دوست جو گزشتہ دو دہائیوں سے ارشد انصاری کے سیاسی رفیق ہین۔۔منے بھائی گروپ چیرمین ہونا کافی نہیں کچھ حقائق سے آگاہی بھی ضروری ہے۔
2021 میں جب ارشد انصاری نے ان تمام دوستوں کو ڈی بلاک میں متبادل پلاٹ فراہم کئے تو سابق وزیراعلی کو کہ کر یہ پلاٹ کینسل کروانے والا گروپ بھی جناب ہی کا تھا۔
خیر ایف بلاک کو بھی لیکر منا بھائی نے خوب سیاست کی۔ مگر ارشد انصاری کی زبانی کوششوں کے نتیجے میں اج ایف بلاک رہائش کیلئے تیار ہے۔
منا بھائی اب بات فیز ٹو پر کھڑی ہے، فارم تقسیم ہو چکے رواں یا آئیندہ ماہ وزیراعلی اسکا سنگ بنیاد رکھنے جارہی ہیں مگر آپ فیس بک سیاست سے باہر نہیں نکل پارہے۔
حضور اس وقت پریس کلب کی باڈی میں تمام گروپوں بشمول آپکے گروپ یا اتحادیوں کے منتخب نمائندے بڑی نشستوں پر براجمان ہیں۔ خیال تو یہ ہے آپ نے ابھی تک اپنے منتخب نمائندے کو اب کلب کے نمائندے ہیں ان سے بھی بات نہیں کی ہوگی اور شروع ہو گئے گولہ باری کرنے۔۔
ارشد انصاری کا موقف تمام فریقین بشمول تھانہ۔ پٹواری، محکمہ مال اور محمکہ اطلاعات کے بعد سامنے آچکا ہے جس کے مطابق لاہور پریس کلب کی مسلسل کوشش کے بعد پی جے ایچ ایف نے بعض افراد کی جانب سےاج ایک قطعہ اراضی پرتعمیر ہونے والی چار دیواری کا کام رکوا دیا۔ملکیتی دعوی کرنے والی پارٹی سے مزید دستاویزات جمعہ کو طلب کر لی گئی ہیں جن کے تناظر میں اس اراضی کی ملکیت کا فیصلہ ہو سکے گا۔تاہم بدھ کو چار دیواری کی تعمیر کے وقت ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یہ اراضی پی جے ایچ ایف کی ملکیت نہیں ہے اور پرائیویٹ پارٹی اس پر تعمیر کر سکتی ہے تاہم اعلی حکام سے بات چیت کے بعد پی جے ایچ ایف نے متعلقہ فریق سے مزید دستاویزات طلب کرتے ہوئے موقعہ پر تعمیراتی کام رکوا دیا ہے اور اس سلسے میں اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ اس زمین کی حق ملکیت شفاف طریقے سے جانچ پڑتال کرتے ہوئے فیصلہ کیا جائے اور اس زمین کو صحافی کالونی میں متاثرہ الاٹیز کے لئے استعمال کیا جائے اس بارے وزیر اطلاعات پنجاب سے بھی بات کی گئی ہے۔
اب حضور آپ بھی کچھ عملی طور پر کریں گے یا پھر اب فیس بک کے ذریعے تھکے ہوئے شکست خوردہ لوگوں کے دم پرائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر تحریک ہی چلے گی۔ (منجانب،ممبران لاہور پریس کلب)۔۔
