پی ایف یوجے نے پلاٹینم جوبلی کے موقع پر کراچی اعلامیہ جاری کردیا جس میں پیکا کے فوری خاتمے اور میڈیا میں جبری برطرفیاں روکنے کا مطالبہ سرفہرست ہے۔۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اپنے پلاٹینم جوبلی کے موقع پر — جو آزادی صحافت، اظہار رائے اور آزادی تقریر کی جدوجہد کے 75 سال مکمل ہونے کی علامت ہے — اپنے اس عزم کو دہراتی ہے کہ وہ میڈیا کی آزادی، پاکستانی شہریوں کے آئینی حقوق، اور صحافیوں و میڈیا ورکرز کے آزادانہ کام کرنے کے حق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔پی ایف یو جے کی فیڈرل ایگزیکٹو کونسل کا تین روزہ اجلاس یکم سے 3 اگست 2025 تک کراچی میں صدر افضل بٹ کی صدارت میں منعقد ہوا، جو میڈیا انڈسٹری کو درپیش سنگین مسائل، خاص طور پر صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے چیلنجز پر غور و خوض کے بعد ایک پُرزور اعلامیے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
کونسل نے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور ریاستی اداروں کی طرف سے میڈیا انڈسٹری کے خلاف بڑھتی ہوئی سخت گیر کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جو کہ آزادی صحافت اور اظہار رائے کے حق کو سنگین خطرات سے دوچار کر رہی ہیں۔ ایف ای سی نے ان اقدامات کو فوری طور پر روکنے پر زور دیا اور کہا کہ یہ شہریوں کے آئینی حقوق کے خلاف ہیں۔پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) دوہزار پچیس میں مجوزہ ترامیم اور پنجاب ڈی فیمیشن بل دوہزار چوبیس پر بھی تفصیل سے غور کیا اور ان قوانین کو میڈیا دشمن، آزادی اظہار کے خلاف اور آمرانہ ذہنیت کا مظہر قرار دیا۔ شرکاء نے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسی پالیسیوں سے باز رہیں جو میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی کو نقصان پہنچا رہی ہیں، اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو مجروح کر رہی ہیں۔
فوری مطالبات:
پییکا 2025 اور پنجاب ڈیفیمیشن قانون کو فی الفور واپس لیا جائے۔
پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں میں برطرفیوں کا خاتمہ کیا جائے۔
صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے مؤثر تحفظ اور سلامتی یقینی بنائی جائے۔
میڈیا کو خاموش کرانے اور سنسرشپ کی منظم کوششوں کو روکا جائے۔
پی ایف یو جے کراچی اعلامیہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ ایک آزاد اور خودمختار میڈیا ایک جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ میڈیا کی آزادی کو تحفظ دے اور صحافیوں و میڈیا ورکرز کے حقوق کو فروغ دے۔فیڈرل ایگزیکٹو کونسل نے ملک میں اظہار رائے کی آزادی کی کھلی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور صحافیوں کی جبری گرفتاریوں سمیت ریاستی اداروں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی سخت مذمت کی۔ ایف ای سی نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کے “ڈیجیٹل حقوق” کا احترام، تحفظ اور دفاع کیا جانا ضروری ہے۔ پی ایف یو جے اظہار رائے اور آزادی تقریر پر کسی قسم کی قدغن کو برداشت نہیں کرے گی۔ کونسل نے اس امر پر زور دیا کہ میڈیا ورکرز کو ریاستی و غیر ریاستی عناصر کے خوف کے بغیر اپنے فرائض انجام دینے کی اجازت دی جائے۔ مزید برآں، کونسل نے عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھنے اور ذاتی مفاد کے لیے اس کا استحصال نہ کرنے پر زور دیا۔ایف ای سی نے میڈیا ہاؤسز اور اخبارات میں جاری جبری برطرفیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور میڈیا مالکان و وزارت اطلاعات و نشریات سے مطالبہ کیا کہ وہ ان غیر منصفانہ اقدامات کو فی الفور روکیں۔کونسل نے واضح کیا کہ حکومتوں اور ریاستی اداروں کی میڈیا دشمن پالیسیوں سے نہ صرف میڈیا انڈسٹری متاثر ہو رہی ہے بلکہ ملک کی بین الاقوامی ساکھ بھی خراب ہو رہی ہے، جس کا اثر پاکستان کی میڈیا اور جمہوریت کے انڈیکس پر پڑ رہا ہے۔ FEC نے آٹھویں ویج بورڈ ایوارڈ کے فوری اور مکمل نفاذ کا ایک بار پھر مطالبہ کیا، جسے ایک متفقہ دستاویز قرار دیا گیا۔ ساتھ ہی کونسل نے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے الیکٹرانک، آن لائن اور ڈیجیٹل میڈیا میں واضح کیریئر روڈمیپ اور تنخواہوں کے ڈھانچے کی تشکیل پر زور دیا، تاکہ ان کے حقوق اور فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔کونسل نے صحافیوں، میڈیا ورکرز اور مواد تخلیق کرنے والوں کی حفاظت سے متعلق سنگین خدشات کا اظہار کیا، اور جعلی مقدمات اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے فوری کارروائی اور صحافیوں پر حملوں اور ان کے قتل میں ملوث عناصر کی گرفتاری اور سزا کا مطالبہ کیا۔فیڈرل ایگزیکٹو کونسل نے اینکر پرسنز اور صحافیوں کو مخصوص سیاسی جماعتوں اور غیر سیاسی گروہوں کی طرف سے نشانہ بنانے اور سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کی شدید مذمت کی، اور کہا کہ یہ اقدامات اظہار رائے اور آزادی صحافت جیسے بنیادی آئینی حقوق کو مجروح کرتے ہیں۔ پی ایف یوجے نے اظہار رائے کی آزادی اور عوام کے آزاد میڈیا کے ذریعے معلومات تک رسائی کے حق کے دفاع کے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ کونسل نے ان بنیادی حقوق پر قدغن لگانے کی ہر کوشش کے خلاف سخت مزاحمت کا اعلان کیا، اور ایک آزاد اور خودمختار صحافت کے اصولوں کے تحفظ کا عہد کیا۔
