تحریر: علی انس گھانگھرو۔۔
رات کا آسمان سیاہ تھا، مگر شہر میں آزادی کے پرچم لہرا رہے تھے۔ لوگوں کے چہروں پر خوشی کی روشنی تھی، لیکن دہشت گردوں نے جیسے کسی بڑے انتقام کا فیصلہ کر لیا ہو۔ اُسی آزادی کی رات، جب سندھ کی فضاؤں میں جشن کے نعرے گونج رہے تھے، تب سکھر کے لوکس پارک کے قریب گولیوں کی آواز گونجی… اور سچ کا ایک سپاہی، حق کا ایک علمبردار، سندھ کی بہادر صحافت کا ایک ستارہ، جان محمد مہر، خون میں نہلا دیا گیا۔ دو سال پہلے، ملک کی آزادی کی رات، بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ کوئی کہتا ہے، موت ایک پل ہے… مگر کچھ جدائیاں ایسی ہوتی ہیں، جو پل نہیں بلکہ صدیاں بن جاتی ہیں۔ دو سال گزر گئے مگر آج بھی محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی مسکراہٹ ہمارے سامنے کھڑی ہو، اس کی آواز کانوں میں گونج رہی ہو، اور اس کا کیمرا و قلم کسی سچ کے منظر پر فوکس کر رہے ہوں۔ جان محمد صرف ایک نام نہیں تھا، وہ ایک داستان تھا— جرات، سچائی اور ایمانداری کی داستان۔ اس کا قلم اور کیمرا کسی طاقتور سے نہ ڈرے، اس کی آواز کسی دباؤ میں نہ آئی۔ وہ خود کو خطرے میں ڈال کر دوسروں کو امن اور سچ کا پیغام دیتا رہا۔ اور پھر وہ رات آئی جب وہ دفتر سے گھر جا رہا تھا، مگر منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا۔ اسپتال میں آخری سانس لیتے ہوئے، شاید اس کے دل میں یہ احساس رہا ہو کہ “میں نے اپنا فرض نبھایا ہے۔ مگر سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ دو سال گزرنے کے باوجود، انصاف آج تک نہیں ملا۔ آئی جی سندھ، وزیرِاعلیٰ، اور افسران کے دیے ہوئے سب وعدے اور تسلیاں فراڈ ثابت ہوئیں۔ شہید صحافی جان محمد مہر کے قتل کے ایک کردار، شیرو مہر کو مبینہ پولیس مقابلے میں مارنے کا دعویٰ کیا گیا، مگر اس کی طبعی موت نے تمام راز کھول دیے۔ قتل میں شامل دیگر مرکزی کردار— جمن مہر، قربان مہر، گلزار مہر اور دیگر— کی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس نے نہ کوئی آپریشن کیا اور نہ ہی کچے میں کوئی کارروائی کی۔ پورے پس منظر سے صاف ظاہر ہے کہ سندھ حکومت اور پولیس قاتلوں کو گرفتار کرنے کے بجائے تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ دو سال تک کوئی سنجیدہ کوشش نہ کرنا سمجھ سے باہر ہے۔ پولیس جب یہ کہتی تھی کہ قاتل کچے میں چھپے ہیں اور وہاں پانی ہے— تو یہ سب ایک ڈرامہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ قاتل سکھر، شکارپور، پنوعاقل، روہڑی، گھوٹکی اور رحیم یار خان جیسے شہروں میں آزادانہ آتے جاتے ہیں، علاج کراتے ہیں، اور آج بھی بااثر افراد ان کی مدد کر رہے ہیں۔
شہید صحافی جان محمد کی شہادت ہمارے لیے ایک سوال چھوڑ گئی ہے: کیا سندھ میں سچ بولنے کا انجام ہمیشہ موت ہوگا؟ کیا قلم اور کیمرہ تھامنے والے ہمیشہ بے بس رہیں گے؟ اور کیا ہم اپنے بہادروں کو صرف یادوں میں دفن کر دیں گے؟ حقیقت پر نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ کچھ لوگ دنیا میں اس لیے آتے ہیں کہ وہ اپنی موجودگی سے تاریخ میں ایسے نقوش چھوڑ جائیں، جو وقت کے کسی طوفان سے مٹ نہ سکیں۔ شہید جان محمد مہر بھی ایسی ہی ایک نایاب شخصیت تھے— ایک بے باک، بہادر اور سچا صحافی، جس نے اپنے قلم، اپنے کیمرے اور اپنی جان سے سچ کے لیے لڑتے ہوئے اپنی زندگی قربان کر دی۔ 13 اگست کی وہ سیاہ رات، جب پورے ملک میں آزادی کی تقریبات کی تیاریاں ہو رہی تھیں، تب سکھر میں، لوکس پارک کے قریب چند دہشت گردوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ یہ خون میں ڈوبی خبر پوری سندھ کو ہلا گئی— جان محمد مہر اب نہیں رہے۔ دو سال گزر گئے مگر آج بھی ان کی آواز، ان کی مسکراہٹ، ان کی تقریر اور ان کے کیمرے کا فوکس ذہنوں میں تازہ ہے، جیسے وہ ابھی بھی کہیں رپورٹنگ میں مصروف ہوں۔ جان محمد ضلع شکارپور کے علاقے “چک” میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق درمیانے طبقے کے ایک زراعت سے وابستہ خاندان سے تھا۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے اسکول سے حاصل کی، پھر سکھر تک تعلیمی سفر جاری رکھتے ہوئے ایم اے سوشیالوجی اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ بچپن سے ہی ان کا شعور اور سوچ عام لوگوں سے بلند تھا۔ تعلیم کے دوران وہ سیاست میں بھی سرگرم رہے۔ سندھ ترقی پسند پارٹی کی اسٹوڈنٹ تنظیم سے شروعات کر کے ضلع پریس سیکریٹری تک پہنچے۔ مگر دل کی اصل آواز صحافت تھی، جہاں انہوں نے اپنے قلم سے مظلوموں کی آواز بننا شروع کیا۔ 1996 میں انہوں نے صحافت میں قدم رکھا اور 2002 میں KTN نیوز سے وابستگی ان کی زندگی کا نیا باب تھی۔ 21 سال تک نہ صرف رپورٹنگ کی بلکہ ایسی تحقیقی ڈاکیومنٹریز پیش کیں جو سندھ کی صحافت میں شاہکار بن گئیں۔ دھاڑیلوں کی دنیا — پہلی بار ڈاکوؤں کے ساتھ براہِ راست انٹرویو کر کے ان کی دنیا کا پردہ چاک کیا۔ جیل کیسے ٹوٹتی ہیں؟ — قیدیوں اور فرار ہونے والوں کے ساتھ رپورٹنگ۔ نتوش کمار کا اغوا — ایک ایسا کیس، جس پر بات کرنا بھی خطرے سے خالی نہ تھا۔ریل حادثات، پھانسی کے قیدی، ببرلو کوچ کا اغوا، بے نظیر بھٹو کی واپسی کے دوران بم دھماکے کی لائیو کوریج، 2010 کے سیلاب میں دن رات رپورٹنگ— یہ سب ان کی بہادری کے قصے ہیں۔ وہ ایسا صحافی تھے جو خطرے سے نہ گھبراتے۔ ببرلو کوچ کے واقعے میں تو مجرموں نے شرط رکھی کہ مذاکرات کے لیے صرف جان محمد آئیں، کیونکہ وہ ان کی نظر میں بھی ایماندار اور سچے تھے۔ 2010 کے سیلاب میں دو مہینے مسلسل میدان میں رہے۔ 2022 کی بارشوں میں بھی تباہی کا نقشہ ڈرون فوٹیج کے ذریعے دنیا کے سامنے رکھا۔ وہ صرف صحافی ہی نہیں بلکہ ادیب اور سماجی شخصیت بھی تھے۔ سندھی ادبی سنگت سے تعلق اور مختلف ایوارڈز ان کی محنت کا اعتراف تھے۔ سکھر پریس کلب کے صدر کی حیثیت سے عمارت میں نمایاں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے صدر آصف زرداری، بلاول بھٹو، یوسف رضا گیلانی، سید قائم علی شاہ، رسول بخش پلیجو، قادر مگسی، عبدالستار ایدھی سمیت کئی اہم شخصیات کے انٹرویو کیے اور ہمیشہ جرات سے سوال کیے۔ 14 اگست کی رات، جب آزادی کے نعرے گونج رہے تھے، لوکس پارک کے قریب چند مسلح افراد نے انہیں نشانہ بنایا۔ اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے، رات 11:30 بجے وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔ حکومت کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹیاں بنیں، مگر رپورٹیں منظر عام پر نہ آئیں۔ کچھ ملزمان جیل میں ہیں، مگر اصل قاتل آج بھی آزاد ہیں۔ احتجاج، دھرنے، ریلیاں— سب ناکام رہیں۔ شہید جان محمد مہر کا قتل صرف ایک صحافی کا قتل نہیں تھا، بلکہ سندھ کے سچ بولنے والے آواز کا قتل تھا۔ مگر جس طرح روشنی کو مکمل ختم نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح جان محمد کی یاد، ان کا کام اور ان کی بہادری آج بھی نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی زندگی کا پیغام سادہ مگر اثر انگیز تھا: “سچ بولنا ہے، چاہے جان چلی جائے”۔ یہ پیغام وقت کے ہر موڑ پر ہمارے کانوں میں گونجتا رہے گا۔ ان کی آواز شاید اب مائیک میں نہ سنائی دے، مگر وہ تاریخ کے اوراق میں، ہر سچے دل میں، اور ہر بہادر قلم میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ سندھ کی فضاؤں میں ان کا نام گونجتا رہے گا، اور جب بھی کوئی نیا صحافی میدان میں اترے گا، تو شہید جان محمد مہر کی جرات، ان کی مسکراہٹ، اور ان کی قربانی اس کے لہو میں بہے گی۔ وہ چلے گئے، مگر اپنی زندگی سے ہمیں یہ سکھا گئے کہ سچا انسان کبھی بھلایا نہیں جاتا وہ امر ہوتا ہے۔
سندھ کی صحافتی تاریخ میں یہ باب محض ماضی کا ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا عہد ہے جو آج بھی ہمیں اپنی ذمہ داریوں کی یاد دلاتا ہے۔ خون اور قربانی سے لکھے گئے یہ الفاظ ہمیں بتاتے ہیں کہ حق اور سچ کے راستے پر چلنے والوں کے قدم کبھی لرزتے نہیں، چاہے سامنے موت کیوں نہ ہو۔ یہ شہید صحافی نہ صرف اپنے قلم کے امین تھے بلکہ آزادیٔ اظہار کے محافظ اور عوام کی آواز تھے۔ آج جب ہم ان قربانیوں کو یاد کرتے ہیں تو یہ عزم بھی کرتے ہیں کہ سچ کی شمع بجھنے نہ دیں گے، ظلم کے سامنے جھکیں گے نہیں، اور ان شہیدوں کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کریں گے۔ سندھ کی بہادر صحافت کا یہ خونچکاں باب ہمیشہ ہمیں بتاتا رہے گا کہ قلم کی طاقت بندوق سے زیادہ ہے، اور سچ کی گونج وقت اور طاقت کے سب حصار توڑ دیتی ہے۔(علی انس گھانگھرو)۔۔
