ایک سیاستدان۔۔دو چہرے ۔۔۔!!!

تحریر: امجد عثمانی

میاں نواز شریف سمیت چار وزرائے اعظم کے ساتھ پریس سیکرٹری کی خدمات انجام دینے والے بیوروکریٹ جناب رائے ریاض حسین نے کیا کیا چہرے بے نقاب کیے ہیں۔۔رائے صاحب نے اپنی خود نوشت سوانح عمری” رائے عامہ” میں لکھا کہ میر ظفراللہ جمالی ایک روز مجھے اچانک کہنے لگے تمہاری فیصل صالح حیات سے کیا دشمنی ہے؟میں اس اچانک حملے کے لیے تیار نہ تھا۔۔ میں نے حیران اور پریشان ہوکر کہا میری کیا دشمنی ہوسکتی ہے؟؟ وہ سیاستدان اور میں سرکاری ملازم،ویسے ان کا گاؤں میرے گاؤں کے قریب ہے البتہ ان کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور ہمارا خاندان شروع سے مسلم لیگی۔اس طرح سیاسی فرق ضرور ہے مگر دشمنی والی کوئی بات نہیں۔

 جمالی صاحب نے غور سے میری بات سنی اور کہا آج فیصل صالح حیات میرے پاس آیا تھا ۔۔کہنے لگا آپ نے میرے مخالف کوپریس سیکرٹری لگادیا ہے۔۔ میں نےاسے کہا ہے کہ فیصل تم کون ہوتے ہو میرے اسٹاف کے بارے بات کرنےوالے؟؟؟؟ میں نے اسے ڈانٹ دیا ہے ۔فیصل صالح حیات ان دنوں پیپلز پارٹی چھوڑ کر پرویز مشرف کے ساتھ مل چکے تھے اور جمالی صاحب کی کابینہ میں شامل تھے۔۔ جب بھی کابینہ کی میٹنگ میں ملتے تو بڑی اچھی طرح دعا سلام کرتے مگر سیاست دانوں کے یہ رنگ دیکھ کر میں بہت عرصہ تک حیران اور پریشان رہا۔۔!!!!جناب ریاض احمد اپنی خود نوشت سوانح عمری رائے عامہ”میں ایک اور سیاستدان کے حوالے سے تلخ تجربہ تحریر کرتے ہیں ۔۔جناب رائے ریاض لکھتے ہیں کہ سابق وفاقی وزیر سیدہ عابدہ حسین کے ساتھ بھی میرا تجربہ کچھ اچھا نہیں رہا۔وہ جتوئی کے کیئر ٹیکر سیٹ اپ میں وزیر اطلاعات بنیں اور آتے ہی میرے سے پوچھا کہ رائے صاحب آپ میرے ساتھ اسٹاف آفیسر لگنا پسند کریں گے؟؟؟؟ میں نے حامی بھر لی تو انہوں نے مجھے اپنے ساتھ ڈائریکٹر منسٹرز آفس لگا لیا۔۔ یہ تجربہ اس طرح برا ثابت ہواکہ میں پہلے ملنے جاتا توان کے پاس بیٹھ کربات کرتاتھا۔۔ اب وہ مجھے بلاتیں تو ان کے پاس جھنگ کے عوام الناس بیٹھے ہوتے تھے اور میں کاپی قلم لیکر کھڑے کھڑے ان کے احکامات نوٹ کرتا ۔۔پھراس دوران وہ غصے کا اظہار بھی کرتیں ۔۔جس طرح کے لوگوں کے سامنے وہ میرے ساتھ توھین آمیز رویہ اختیار کرتیں وہ میرے لیے ناقابل برداشت ہوتا ۔۔آخر چند دنوں کے اس تلخ تجربے کے بعد میں نے عرض کیا “بی بی صاحبہ میں نے بیس سال کلاس ون سروس کی ہے سی ایس ایس کے بعد ابھی بیس سال مزید سروس باقی ہے آپ لوگوں کے سامنے میری بے عزتی کرتی ہیں اس لیے میری گزارش ہے کہ آپ مجھے یہاں سے ٹرانسفر کردیں ۔۔بی بی صاحبہ نے میری بات سن کر یکدم اپنا لہجہ بدل لیا ۔۔کہنے لگیں میرے اوپر مشکل وقت آن پڑا ہے آپ میرے بھائی ہیں میری مددآپ نہیں کریں گے تو کون کرے گا؟ان کے لہجے اور بات سے میں سوچ میں پڑگیا اور کہا ٹھیک ہے میں حاضر ہوں مگر یہ سیاستدان کا ایک دوسرا رخ تھا۔۔ دوسرے دن معلوم ہوا انہوں نے صبح صبح سیکرٹری انفارمیشن مظہر رفیع مرحوم کو بلایا اور کہا رائے ریاض سمجھتا ہے پیپلز پارٹی جیت جائے گی اس لیے اسے فوراً کوئٹہ ٹرانسفر کردیں ۔۔مظہررفیع بڑے تجربہ کار اور جہاندیدہ افسر تھے۔۔ انہوں نے بی بی صاحبہ کوٹھنڈا کیا اور کہا آپ کے علاقے کا افسر ہے اور جھنگ سے تعلق رکھنے والا ایک ہی افسر ہے۔۔ اس لیے اس کوٹرانسفر نہ کریں ویسے بھی کیئر ٹیکر سیٹ اپ دوچار ہفتے کی بات ہے ۔۔ آپ کو ایک اور افسر دے دیتے ہیں رائے ریاض کو ڈسٹرب نہ کریں۔۔ آخر عابدہ حسین کو بات کچھ سمجھ آگئی میری ٹرانسفر پرزور نہ دیا ۔۔انفارمیشن گروپ کے محمداعظم جواسوقت ڈپٹی ڈائریکٹرتھے ان کے ساتھ لگادیا ۔۔محمداعظم بعد میں سیکرٹری انفارمیشن بن کر ریٹائر ہوئے۔۔شریف آدمی تھے جیسے تیسے انہوں نے مشکل وقت نکال لیا لیکن ہروقت پریشان رہتے تھے۔۔۔ شاہ جیونہ گروپ کے دونوں وزرا کا یہ روپ میں نے ذاتی طور پردیکھا۔۔ ویسے تو قدرت اللہ شہاب نے اپنی کتاب شہاب نامہ میں تفصیل سے بتایا ہے کہ جھنگ کے سیاستدانوں نےا سکولوں کے قیام کی مخالفت کرکے جھنگ کےعوام کوتعلیم اور ترقی سے محروم رکھا ۔۔بدقسمتی سے حالات میں کچھ زیادہ تبدیلی نہیں آئی عابدہ حسین کی واحد ملکیت گاؤں دوسہرا”میں آج تک لڑکیوں کا پرائمری سکول بھی نہیں ہے۔۔

نوٹ۔۔۔۔۔یہ کتاب قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے کتاب دوست روح رواں جناب علامہ عبدالستار عاصم نےشائع کی ہے(امجد عثمانی)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں