(خصوصی رپورٹ)
پاکستان میں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) کے تحت صحافیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی قانونی کارروائیوں، تفتیشی نوٹسز اور مبینہ ہراسانی کے واقعات نے آزادیٔ صحافت اور صحافیوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر صحافیوں کے خلاف کسی قانون کو دباؤ ڈالنے یا ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو انہیں تحفظ کون فراہم کرے گا؟
ملک میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے قوانین، عدالتیں، صحافتی تنظیمیں اور خصوصی کمیشن موجود ہیں، لیکن حالیہ واقعات اور صحافتی آزادی سے متعلق رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ قانونی تحفظ اور اس کے عملی نفاذ کے درمیان اب بھی نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
کوئٹہ کے تین صحافیوں کے خلاف مقدمات، نئی بحث کا آغاز
حالیہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں تین صحافیوں، آغا عبید، مقبول جعفر اور ثنا اچکزئی کے خلاف پیکا قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے اور ان کے گھروں پر مبینہ چھاپوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔5 نومبر 2026 کو سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق متعلقہ صحافیوں نے قانونی کارروائی کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے تناظر میں دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا۔
دوسری جانب بلوچستان حکومت کے ترجمان اور مشیر شاہد رند نے مقدمات کے اندراج کی تصدیق کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کارروائی وزیراعلیٰ ہاؤس اور ریاستی اداروں سے متعلق مبینہ طور پر من گھڑت معلومات پھیلانے کے معاملے میں کی گئی۔حکومتی مؤقف کے مطابق غلط معلومات کی دانستہ تشہیر کے خلاف قانونی کارروائی ریاست کا اختیار ہے، جبکہ صحافیوں کا مؤقف ہے کہ اختلافی رپورٹنگ یا تنقیدی مواد کو فوجداری کارروائی کا جواز نہیں بننا چاہیے۔دستیاب اطلاعات کے مطابق 5 نومبر تک تینوں صحافیوں کی گرفتاری رپورٹ نہیں ہوئی تھی اور متعلقہ الزامات پر کسی عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے کا فیصلہ بھی سامنے نہیں آیا تھا۔یہ معاملہ اس بنیادی سوال کو نمایاں کرتا ہے کہ کسی خبر کے متنازع ہونے اور اس کے جان بوجھ کر جھوٹا ہونے میں قانونی فرق کس طرح قائم رکھا جائے۔
پیکا قانون 2025 کی ترامیم اور صحافیوں کے خدشات
پاکستان میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 میں نافذ کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد الیکٹرانک نظام کے ذریعے ہونے والے جرائم، آن لائن فراڈ، غیرقانونی ڈیجیٹل سرگرمیوں اور دیگر سائبر جرائم کی روک تھام تھا۔جنوری 2025 میں اس قانون میں اہم ترامیم کی گئیں، جن کے بعد سوشل میڈیا کی نگرانی، مواد کی ضابطہ بندی اور سائبر جرائم کی تحقیقات کے قانونی ڈھانچے میں تبدیلی آئی۔ترامیم کی دفعہ 26 اے کے تحت ایسی معلومات کو جان بوجھ کر پھیلانا جرم قرار دیا گیا جن کے غلط یا جعلی ہونے کا علم ہو یا یقین کرنے کی وجہ موجود ہو اور جن سے معاشرے میں خوف، افراتفری یا بدامنی پیدا ہونے کا امکان ہو۔اس جرم کے لیے زیادہ سے زیادہ تین سال قید، 20 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔تاہم ہر غلط خبر، غیرارادی صحافتی غلطی یا حکومتی پالیسی پر تنقید خودبخود اس جرم کے زمرے میں نہیں آتی۔ متعلقہ قانونی شرائط اور جرم کے عناصر کو ثابت کرنا ضروری ہے۔صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو خدشہ ہے کہ قانون کی بعض اصطلاحات کی وسیع تشریح آزادانہ رپورٹنگ، تحقیقاتی صحافت اور عوامی مفاد میں معلومات کی اشاعت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
سائبر کرائم ایجنسی کے اختیارات اور نگرانی کا سوال
پیکا قانون کے تحت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو سائبر جرائم کی تحقیقات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔یہ ادارہ متعلقہ قانونی اختیارات کے تحت شکایات کی تحقیقات اور ضروری تفتیشی اقدامات کر سکتا ہے۔ تاہم اس کے اختیارات بھی قانونی تقاضوں، عدالتی نگرانی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تابع ہیں۔صحافتی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کسی صحافی کو طلب کرنے، اس کے ڈیجیٹل آلات کی جانچ کرنے یا اس کے خلاف گرفتاری سمیت کسی بھی سخت کارروائی کے دوران واضح قانونی جواز، شفاف طریقۂ کار اور مناسب تحفظات یقینی بنائے جائیں۔یہ بھی اہم ہے کہ کسی صحافی کے خلاف شکایت یا ایف آئی آر درج ہونا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ جرم یا بے گناہی کا حتمی تعین مجاز عدالتی فورم پر ثبوت اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔
صحافیوں کے خلاف قانونی دباؤ کے 45 واقعات
صحافتی آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیم فریڈم نیٹ ورک نے 29 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ اپنی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا کہ اکتوبر 2025 سے اگست 2026 کے دوران صحافیوں اور میڈیا اداروں کے خلاف حقوق کی خلاف ورزیوں کے 97 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق ان میں 13 واقعات براہ راست قانونی کارروائیوں جبکہ 32 واقعات قانونی کارروائی کی دھمکیوں سے متعلق تھے۔اس طرح مجموعی طور پر 45 واقعات، یعنی تقریباً 46 فیصد، قانونی کارروائی یا اس کی دھمکیوں سے متعلق تھے۔رپورٹ میں اس رجحان کو قانونی کارروائی کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر Lawfare کہا جاتا ہے۔تنظیم کے مطابق اس قسم کے معاملات میں تفتیشی اداروں کے سامنے بار بار پیشی، وکلا کی فیس، گرفتاری کا خدشہ، سفری اخراجات اور پیشہ ورانہ ساکھ کو پہنچنے والا نقصان خود ایک سزا جیسی صورت اختیار کر سکتا ہے، خواہ مقدمہ بالآخر سزا پر منتج نہ ہو۔تاہم یہ اعداد و شمار تنظیم کے دستاویزی اور تجزیاتی نتائج ہیں؛ ان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ہر مقدمہ عدالت میں غیرقانونی ثابت ہو چکا ہے۔
آئین پاکستان صحافیوں کو کیا تحفظ دیتا ہے؟
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 19 اظہارِ رائے اور آزادیٔ صحافت کی ضمانت دیتا ہے، البتہ یہ آزادی آئین میں بیان کردہ معقول قانونی پابندیوں کے تابع ہے۔آرٹیکل 19 اے شہریوں کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 10 اے شفاف سماعت اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے۔ان آئینی ضمانتوں کی موجودگی میں صحافی کسی غیرقانونی یا ضابطے کے خلاف کارروائی کو متعلقہ عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں۔عدالتیں حالات اور قابلِ اطلاق قانون کے مطابق ضمانت، قانونی کارروائی کے خلاف مناسب احکامات اور بنیادی حقوق کے تحفظ سے متعلق داد رسی فراہم کر سکتی ہیں۔تاہم قانونی ماہرین کے لیے ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ عدالتی ریلیف اکثر اس وقت ملتا ہے جب متعلقہ صحافی پہلے ہی مالی، ذہنی اور پیشہ ورانہ دباؤ کا سامنا کر چکا ہوتا ہے۔
صحافیوں کے تحفظ کا وفاقی کمیشن کتنا مؤثر ہے؟
پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کے لیے 2021 میں خصوصی قانون منظور کیا گیا تھا۔اس قانون کا مقصد صحافیوں کو ہراسانی، تشدد، دھمکیوں، جبری گمشدگی، غیرقانونی حراست اور دیگر خطرات سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔نومبر 2025 میں وفاقی حکومت نے اس قانون کے تحت کمیشن فار دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز تشکیل دیا۔اکتوبر 2026 میں کمیشن نے اعلان کیا کہ مکمل آن لائن پورٹل کے قیام تک صحافیوں کی شکایات دستی طریقے سے وصول کی جائیں گی۔دوسری جانب فریڈم نیٹ ورک نے اپنی حالیہ رپورٹوں میں وفاقی اور صوبائی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کے اداروں کی عملی استعداد، وسائل اور شکایات کے مؤثر ازالے کے نظام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔تنظیم کی رائے میں قانون اور کمیشن کا وجود کافی نہیں، بلکہ فوری قانونی مدد، مؤثر شکایت نظام اور عملی تحفظ کی سہولتیں بھی ضروری ہیں۔
سندھ میں صحافیوں کے تحفظ کا الگ نظام
صوبہ سندھ میں بھی صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے تحفظ کے لیے 2021 کے قانون کے تحت خصوصی کمیشن موجود ہے۔سندھ کمیشن فار دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ ادر میڈیا پریکٹیشنرز صحافیوں کو درپیش دھمکیوں، ہراسانی، غیرقانونی حراست اور پیشہ ورانہ آزادی میں مداخلت جیسی شکایات کا جائزہ لے سکتا ہے۔کمیشن متعلقہ اداروں کو حفاظتی اقدامات کی سفارش کر سکتا ہے اور ضرورت کے مطابق قانونی معاونت کے حصول میں رابطہ کاری بھی کر سکتا ہے۔تاہم صحافتی آزادی سے متعلق حالیہ جائزوں میں سندھ کمیشن کی کراچی سے باہر رسائی اور عملی اثرات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت کی نشاندہی کی گئی ہے۔
صحافتی تنظیموں کا کردار
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ)، صوبائی یونینز، پریس کلبز اور آزادیٔ صحافت کے لیے سرگرم تنظیمیں صحافیوں کے خلاف مبینہ غیرقانونی کارروائیوں پر آواز اٹھانے، قانونی معاونت کے انتظام اور متعلقہ اداروں سے رابطے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
2025 کی پیکا ترامیم کے خلاف صحافتی تنظیموں اور صحافیوں کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں بھی دائر کی گئیں۔
فروری 2026 میں ان درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت نے قانون سازی کو عبوری حکم کے ذریعے معطل کرنے کے معاملے پر قانونی حدود کی نشاندہی کی اور مقدمات کی مزید سماعت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے اجتماعی نمائندگی کے ساتھ مؤثر عدالتی چارہ جوئی بھی اہم ہے۔
عالمی صحافتی تنظیموں کی تشویش
انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس، رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں بھی پاکستان میں صحافیوں کے خلاف پیکا کے استعمال پر تحفظات ظاہر کر چکی ہیں۔
ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ سائبر جرائم کی روک تھام ایک جائز ریاستی مقصد ہے، لیکن قانون کا اطلاق اس انداز میں نہیں ہونا چاہیے کہ آزادیٔ اظہار اور عوامی مفاد میں رپورٹنگ غیرضروری طور پر محدود ہو جائے۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی مئی 2026 میں جاری کردہ رپورٹ میں پاکستان میں صحافتی آزادی کو درپیش قانونی، معاشی اور ڈیجیٹل دباؤ کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا۔
صحافیوں کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟
موجودہ صورت حال میں قانون کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ صحافیوں کے خلاف شکایات اور تحقیقات میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور تفتیشی اقدامات کی مؤثر نگرانی ہو۔
عوامی مفاد میں کی جانے والی نیک نیتی پر مبنی رپورٹنگ اور دانستہ طور پر غیرقانونی معلومات پھیلانے کے درمیان واضح قانونی فرق برقرار رکھنا بھی اہم ہے۔
اسی طرح صحافیوں کے تحفظ کے وفاقی اور صوبائی کمیشنوں کو مؤثر شکایتی نظام، مناسب وسائل اور فوری ردعمل کی صلاحیت فراہم کرنا ضروری ہے۔
صحافتی تنظیموں کے ذریعے قانونی معاونت، ڈیجیٹل سکیورٹی کی تربیت اور آزادانہ نگرانی کا نظام بھی تحفظ کے موجودہ ڈھانچے کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے آئینی ضمانتیں، خصوصی قوانین اور ادارے موجود ہیں، لیکن اصل سوال ان کے مؤثر نفاذ کا ہے۔
پیکا قانون کے تحت حقیقی سائبر جرائم کی تحقیقات ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ تفتیشی اختیارات کا استعمال شفاف، غیرجانبدارانہ اور قانون کے مطابق ہو۔
کوئٹہ کے حالیہ واقعات نے اس بحث کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کیا ہے کہ جب کسی صحافی کو اپنی رپورٹنگ کے نتیجے میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے تو اسے بروقت اور مؤثر تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری کس ادارے پر عائد ہوتی ہے۔
آزادیٔ صحافت کا حقیقی تحفظ اسی وقت ممکن ہوگا جب عدالتیں، حکومت، تحقیقاتی ادارے، صحافتی تنظیمیں اور خصوصی تحفظ کمیشن اپنے اپنے قانونی دائرۂ اختیار میں مؤثر کردار ادا کریں۔ صحافی قانون سے بالاتر نہیں، لیکن قانون کا استعمال بھی کسی صحافی کو خوف زدہ کرنے یا جائز رپورٹنگ سے روکنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
10