تحریر: محمد شہزاد اسماعیل ہیرو کیمرہ مین۔۔۔
السلام علیکم .. جناب چیئرمین عبدالعلیم خان صاحب،امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں محمد شہزاد اسماعیل، کیمرہ مین، آپ کی خدمت میں چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
سر، 18 اکتوبر 2007ء کو جب محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ پاکستان واپس تشریف لائیں، اس وقت سانحۂ کارساز کے دھماکے کی کوریج کے دوران میں شدید زخمی ہو گیا تھا۔ میں تقریباً پانچ ماہ اسپتال میں زیرِ علاج رہا۔ اس مشکل وقت میں جناب ظفر صدیقی صاحب( سابق مالک سما ٹی وی) نے میرا بھرپور ساتھ دیا، جب تک معاملات ان کے ہاتھ میں رہے۔ اس کے بعد جب آپ نے ادارے کی ذمہ داری سنبھالی تو آپ نے بھی ہمیشہ میرا ساتھ دیا، جس کے لیے میں دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکر گزار ہوں۔
سر، لوگ اکثر یہ مثال دیتے ہیں کہ ہم نے اس ادارے کو اپنا خون پسینہ دیا ہے، لیکن میں نے اس مثال کو حقیقت کا روپ دیا ہے۔ میں نے اس ادارے کو اپنا خون دیا، اپنی جان کی پرواہ نہیں کی اور اپنی زندگی کے قیمتی 19 سال اس ادارے کے نام کر دیے۔ اس چینل کے لیے میں نے اپنا سب کچھ قربان کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس ادارے کا ہیرو کیمرہ مین بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
آج مجھ سے استعفیٰ لے لیا گیا ہے اور میں ایک بار پھر اسی مقام پر کھڑا ہوں جہاں سے میں نے اپنا سفر شروع کیا تھا۔
سر، میری آپ سے گزارش صرف اتنی ہے کہ میرا سالانہ میڈیکل، سالانہ انجیکشن اور مستقل استعمال ہونے والی ادویات کا کیا ہوگا؟ میرے ادارے سے چلے جانے کے بعد میری ان طبی ضروریات کی ذمہ داری کون اٹھائے گا؟
سر، میں نے اس ادارے کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ اب مجھے آپ سے امید ہے کہ آپ میری ان قربانیوں اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میرا خیال رکھیں گے اور میرے علاج معالجے کی سہولت جاری رکھنے کے لیے خصوصی توجہ فرمائیں گے۔
مجھے امید ہے کہ آپ میری اس گزارش کو ہمدردی اور شفقت کے ساتھ دیکھیں گے اور میری داد رسی ضرور فرمائیں گے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو صحت، سلامتی اور عزت و کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔( آپ کا دعا گو،محمد شہزاد اسماعیل ہیرو کیمرہ مین)
29