صحافی کی ٹانگ 51

صحافی کی ٹانگ

تحریر: اعظم الفت
صحافی کی ٹانگ بھی عجیب ہوتی ہے۔ عام آدمی کی ٹانگ چلنے پھرنے، مزدور کی روزی کمانے اور کھلاڑی کی کامیابی کے کام آتی ہے، لیکن صحافی کی ٹانگ کبھی پریس کانفرنس، کبھی احتجاج، کبھی دھماکے کی جگہ اور کبھی کسی وزیر کے پیچھے بھاگتی ہے۔ صحافی اگر کسی معاملے میں ٹانگ اڑائے تو اسے پیشہ ورانہ ذمہ داری کہتے ہیں، لیکن اگر اپنی ٹانگ کسی مشکل میں پھنس جائے تو پھر اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر برداشت کرنا پڑتا ہے۔ویسے صحافی کی ٹانگ کا اپنا ایک الگ پروٹوکول ہے۔ وزیر کے دفتر کے باہر گھنٹوں کھڑی رہ سکتی ہے، احتجاج میں میلوں چل سکتی ہے، دھماکے کی جگہ پہنچنے میں دیر نہیں کرتی، لیکن جب خود ٹوٹ جائے تو سرکاری ہسپتال اسے بھی عام شہری سمجھ کر اگلے ہسپتال کا راستہ دکھا دیتے ہیں۔ صحافی دوسروں کے مسائل میں ٹانگ اڑاتا رہے تو سب کو اچھا لگتا ہے، مگر جب اپنے علاج اور حقوق کی بات کرے تو بعض لوگوں کو اس کی ٹانگ اڑانا بھی ناگوار گزرتا ہے۔
یہ تحریر کسی مزاحیہ واقعے کی کہانی نہیں بلکہ میری زندگی کے ایک ایسے حادثے اور اس کے بعد پیش آنے والی مشکلات کا احوال ہے، جنہوں نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا ہمارے ہاں انسان کی زندگی، علاج اور بنیادی حقوق واقعی ترجیح ہیں یا یہ سب کچھ صرف سرکاری اعلانات اور تقریروں تک محدود ہے؟ میری ٹانگ کا ٹوٹنا شاید ایک حادثہ تھا، مگر اس کے بعد علاج کے لیے دربدر ہونا کس کھاتے میں لکھا جائے؟ اور میرے کزن حاجی محمد زمان محمدشہی کی موت کو محض ایک حادثہ قرار دے کر کیا ہم اپنے نظام سے متعلق سوالات ختم کر سکتے ہیں؟
21 اپریل 2026 کو وادی بولان میں میری یہی ٹانگ ایک ٹرک کی ٹکر سے پانچ جگہوں سے ٹوٹ گئی۔ میں اپنے کزن حاجی محمد زمان محمدشہی کے ہمراہ موٹرسائیکل پر حاجی شہر تحصیل جا رہا تھا۔ حادثے میں میرا ہاتھ بھی دو جگہ سے فریکچر ہوا اور سینے پر چوٹیں آئیں، جبکہ میرے کزن کے سر اور سینے پر آنے والی چوٹیں بعدازاں ان کی موت کا سبب بنیں۔
حادثے کے بعد ہمیں ڈھاڈر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں عمارت تو موجود تھی لیکن علاج کی بنیادی سہولیات میسر نہیں تھیں۔ نہ مطلوبہ ڈاکٹر، نہ ضروری طبی سامان اور نہ ہی شدید زخمیوں کے علاج کا مناسب انتظام۔ ایک وارڈ بوائے نے بتایا کہ یہاں کچھ نہیں ہو سکتا، زخمیوں کو سبی لے جائیں۔ گویا ہسپتال کا بنیادی کام علاج کرنا نہیں بلکہ مریضوں کو اگلے ہسپتال کا راستہ دکھانا رہ گیا ہے۔درد سے کراہتے ہوئے ہمیں پک اپ میں سبی منتقل کیا گیا۔ وہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد کوئٹہ ریفر کر دیا گیا۔ مزید تقریباً تین گھنٹے کا سفر طے کرکے سول ہسپتال کوئٹہ پہنچے تو ایک نئی آزمائش شروع ہوگئی۔ میرے کزن کی موت کا دکھ آج بھی میرے لیے ناقابلِ بیان ہے۔ میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ ان کی موت صرف طبی سہولیات کی کمی کے باعث ہوئی، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتا ہوں کہ کیا ہمارے اضلاع کے ہسپتال شدید زخمیوں کو بروقت طبی امداد دینے کے قابل ہیں؟ آخر کب تک ہر سنگین مریض کو کوئٹہ بھیجنا ہی علاج کا متبادل بنا رہے گا؟
کوئٹہ پریس کلب اور سینئر صحافیوں نے مشکل وقت میں تعاون کیا، جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں۔ ان کی کوششوں سے علاج کے معاملات آگے بڑھے اور نجی ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑا۔ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے آپریشن کے معاملے میں بھی مشکلات پیش آئیں۔ ادائیگیوں میں تاخیر اور دیگر انتظامی مسائل بتائے گئے، تاہم مسلسل کوششوں کے بعد میرا آپریشن ہیلتھ کارڈ پر ممکن ہوا۔ میری ٹانگ اور ہاتھ میں راڈز ڈالی گئیں، لیکن اس پورے تجربے نے مجھے سرکاری صحت کے نظام کی حقیقت سے قریب سے روشناس کرایا۔۔یہ میری ذاتی کہانی ضرور ہے، لیکن بلوچستان میں صحت کی مجموعی صورت حال اس سے کہیں زیادہ سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات، ڈیجیٹل ہیلتھ پالیسی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے۔ 4 نومبر 2026 کو محکمہ صحت نے اعلان کیا کہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے صوبے کے 1650 سے زائد طبی مراکز منسلک کیے گئے ہیں، ضروری ادویات کی دستیابی 46 سے بڑھ کر 89 فیصد، مکمل حفاظتی ٹیکوں کی شرح 38 سے 57 فیصد اور فعال لیبر رومز کی شرح 11 سے 94 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ حکومتی اعدادوشمار اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان کی آزادانہ تصدیق اور زمینی سطح پر نتائج کا جائزہ بھی ضروری ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر اتنی بہتری آ چکی ہے تو عام شہری کو علاج کے لیے سفارش کیوں تلاش کرنا پڑتی ہے؟ ڈیجیٹل ریکارڈ اور آن لائن رپورٹنگ اپنی جگہ، مگر مریض کو ڈاکٹر، دوا، آپریشن، تشخیصی ٹیسٹ اور بروقت طبی امداد بھی چاہیے۔ ٹیکنالوجی علاج کا متبادل نہیں بلکہ علاج تک رسائی کا ذریعہ ہے۔مالی وسائل کی کمی کا عذر بھی مکمل جواب نہیں۔ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں صحت کے لیے تقریباً 96 ارب روپے مختص کیے گئے، جن میں 90 ارب روپے غیر ترقیاتی اور 6 ارب روپے ترقیاتی اخراجات کے لیے رکھے گئے۔ اس سے پہلے صوبائی وزیر صحت نے محکمہ صحت میں ڈاکٹروں اور دیگر عملے کی تقریباً 13 ہزار آسامیاں خالی ہونے کا اعتراف بھی کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے بجٹ اور مسلسل اعلانات کے باوجود انسانی وسائل، ادویات اور طبی سہولیات کا بحران کیوں برقرار ہے؟
بلوچستان میں صحت کے شعبے سے متعلق حکومتی اعلانات اور اعدادوشمار حوصلہ افزا دکھائی دیتے ہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے ہسپتالوں اور مراکز صحت کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنے، ادویات کی دستیابی اور حفاظتی ٹیکہ جات کی شرح میں بہتری کے دعوے کیے گئے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان دعوؤں کا عام شہری کو کتنا فائدہ پہنچ رہا ہے؟ کیا ہر ضلع کے ہسپتال میں ڈاکٹر، ماہر معالج، آپریشن تھیٹر، تشخیصی سہولیات اور ضروری ادویات دستیاب ہیں؟ کیا کسی حادثے میں زخمی ہونے والے شخص کو فوری علاج ملتا ہے یا اسے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہونا پڑتا ہے؟
صحت کے شعبے کے لیے خطیر بجٹ مختص ہونے کے باوجود اگر سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کی کمی برقرار ہے تو پھر ان اخراجات کے نتائج عوام کو نظر کیوں نہیں آتے؟ ہزاروں آسامیوں کے خالی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف بجٹ اور منصوبوں کی تفصیلات جاری نہ کرے بلکہ یہ بھی بتائے کہ کتنے ہسپتال عملی طور پر فعال ہیں، کتنے ماہر ڈاکٹر تعینات ہیں، کتنے آپریشن تھیٹر کام کر رہے ہیں، کتنی ایمبولینسیں دستیاب ہیں اور کتنے مریضوں کو روزانہ علاج کی سہولت مل رہی ہے۔
28 اکتوبر کو نوشکی کے گرلز کالج میں پیش آنے والے واقعے کے بعد زخمی طالبات کو نجی ہسپتال منتقل کیے جانے کی اطلاعات نے بھی سرکاری طبی سہولیات کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔ اگر سرکاری ہسپتال ہنگامی حالات میں شہریوں کو مطلوبہ علاج فراہم نہیں کر سکتے تو پھر عام آدمی ان پر کیسے اعتماد کرے؟یہ مسئلہ صرف میرا یا میرے خاندان کا نہیں۔ تقریبا ایک ماہ قبل مچھ، بولان میں پیش آنے والے ایک ٹریفک حادثے نے بھی صحت کے نظام کی ایک ایسی تصویر سامنے رکھی جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس حادثے میں سات افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق مچھ کے سرکاری ہسپتال میں موجود تین ایمبولینسوں میں سے صرف ایک فعال تھی جبکہ دو خراب پڑی تھیں۔ زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کرنے کے لیے جب ایمبولینسیں دستیاب نہ ہوئیں تو مقامی شہری چندہ جمع کرنے پر مجبور ہوگئے۔ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت نجی گاڑیاں کرائے پر حاصل کیں اور زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کرنے کا انتظام کیا۔ایک طرف لوگ اپنے پیاروں کی زندگی بچانے کے لیے پریشان ہیں اور دوسری طرف انہیں ایمبولینس کے لیے چندہ جمع کرنا پڑ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سرکاری ہسپتال میں ایمبولینسوں کی ذمہ داری کس کی ہے؟ اگر حادثے کے زخمیوں کو بروقت منتقل کرنے کے لیے بھی شہریوں کو اپنی جیبیں خالی کرنا پڑیں تو پھر سرکاری صحت کے نظام سے عوام کو کیا سہولت مل رہی ہے؟ ایمبولینس محض ایک گاڑی نہیں بلکہ ہنگامی حالات میں زندگی اور موت کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے۔حکومت کو ان واقعات کا جائزہ لے کر خامیوں کو دور کرنا ہوگا، کیونکہ صحت کی سہولت کسی حکومت کا احسان نہیں بلکہ شہریوں کا بنیادی حق ہے۔لیکن میرے لیے یہ سوال اب صرف ایک صحافی یا حادثے کے زخمی کی حیثیت سے اہم نہیں رہا۔ میری بیٹی بھی ایک سنگین بیماری برین ٹیمر سے گزر رہی ہے۔ ڈاکٹروں نے اسے ایم آر آئی کرانے کا مشورہ دیا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے میں سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے چکر لگا رہا ہوں، مگر ابھی تک اپنی بچی کو ایم آر آئی کی مشین تک نہیں پہنچا سکا۔
میں سوچتا ہوں کہ اگر ایک صحافی، جو برسوں سے عوامی مسائل اجاگر کرتا رہا ہے، اپنی بیٹی کے علاج کے لیے اس قدر بے بس ہے تو ایک عام شہری کس دروازے پر دستک دیتا ہوگا؟ جس شخص کے پاس سفارش، وسائل یا بااثر تعلقات نہیں، اس کے لیے سرکاری ہسپتالوں کے دروازے کتنے آسان ہیں؟ کیا علاج بھی اب استطاعت اور تعلقات کی بنیاد پر ملے گا؟
میرا سوال ہے کہ بلوچستان کے صحت کے نظام کی اصل صورت حال کیا ہے؟ سرکاری اعلانات اپنی جگہ، لیکن کیا حکومت اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ کسی زخمی کو بروقت علاج ملے، کسی مریض کو ضروری ٹیسٹ کے لیے دربدر نہ ہونا پڑے، کسی حادثے کے زخمی کو ایمبولینس کے لیے چندہ جمع نہ کرنا پڑے اور کسی باپ کو اپنی بیمار بچی کے علاج کے لیے سفارش تلاش نہ کرنی پڑے؟میری ٹانگ ٹوٹ گئی، مگر سوال کرنے کی ہمت نہیں ٹوٹی۔ میں سرکاری ملازم نہیں ،میں صحافی ہوں اور حکمرانوں سے سوال کرتا رہوں گا، ہر بچی کو سفارش نہیں، علاج چاہیے۔ بلوچستان کے عوام کو دعوے نہیں، صحت کی سہولیات چاہییں۔(اعظم الفت)۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں