کوئٹہ: این سی سی آئی اے کے صحافیوں کے گھر اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر چھاپے۔۔۔۔ 24

کوئٹہ: این سی سی آئی اے کے صحافیوں کے گھر اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر چھاپے۔۔۔۔

بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے صحافیوں کے گھروں اور ڈیجیٹل میڈیا اداروں کے دفاتر پر مبینہ چھاپوں کے بعد آزادیٔ صحافت اور صحافیوں کے تحفظ سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ صحافتی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم فریڈم نیٹ ورک نے ان کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے شفاف تحقیقات، قانونی تقاضوں کی پاسداری اور میڈیا کارکنوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق این سی سی آئی اے کی مبینہ کارروائیوں میں بلوچستان ڈیجیٹل میڈیا ایسوسی ایشن کے صدر اور سینئر صحافی آغا عبید کی رہائش گاہ، صحافی ثناء اچکزئی کے گھر، مقبول جعفر کے دفتر اور پاکستان امیج نیوز کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا۔بلوچستان ڈیجیٹل میڈیا ایسوسی ایشن کے مطابق آغا عبید کی رہائش گاہ پر رات تقریباً ایک بجے کارروائی کی گئی۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ 40 سے زائد گاڑیوں میں سوار اہلکار موقع پر پہنچے، جن میں انسدادِ دہشت گردی فورس کے اہلکار بھی شامل تھے۔ایسوسی ایشن کے مطابق اسی دوران دیگر صحافیوں کے گھروں اور دفاتر پر بھی چھاپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے مقامی صحافتی برادری میں تشویش پھیل گئی۔تاہم کارروائی میں شریک اہلکاروں کی تعداد، چھاپوں کے قانونی احکامات اور کارروائی کے دوران پیش آنے والے واقعات کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہوسکی۔مقامی میڈیا رپورٹس اور متاثرہ ادارے سے منسوب اطلاعات کے مطابق پاکستان امیج نیوز کے دفتر میں مبینہ کارروائی کے دوران لاکھوں روپے مالیت کے کیمرے، پوڈکاسٹ مائیکروفونز اور دیگر صحافتی آلات تحویل میں لیے گئے، جبکہ دفتر میں توڑ پھوڑ کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔صحافتی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر کسی قانونی تفتیش کے تحت آلات تحویل میں لیے گئے ہیں تو متعلقہ ادارہ ان کی تفصیلات، ضبطگی کی قانونی بنیاد اور متعلقہ دستاویزات فراہم کرے۔ان الزامات سے متعلق این سی سی آئی اے کی جانب سے کوئی تفصیلی باضابطہ وضاحت دستیاب نہیں ہوسکی۔فریڈم نیٹ ورک نے کوئٹہ میں صحافیوں اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کے خلاف مبینہ کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں کو ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے باعث دباؤ یا ہراسانی کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔تنظیم کے مطابق متاثرہ صحافی اور میڈیا ادارے ان کارروائیوں کو حکومت پر تنقید اور مبینہ بدعنوانی سے متعلق اپنی رپورٹنگ سے جوڑ رہے ہیں۔
فریڈم نیٹ ورک نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ آزاد صحافت کا احترام کیا جائے، صحافیوں اور ان کے اہلِ خانہ کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں آزادانہ رپورٹنگ محدود کرنے کا ذریعہ نہ بنیں۔دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت سوشل میڈیا پر جعلی اور گمراہ کن خبریں پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کر رہی ہے۔شاہد رند کے مطابق آغا عبید، ثناء اچکزئی اور مقبول جعفر کے خلاف مبینہ طور پر غلط خبریں نشر کرنے پر این سی سی آئی اے کے ذریعے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ واٹس ایپ، فیس بک اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے غیر مصدقہ اور غلط معلومات کا پھیلاؤ حکومت کے لیےایک بڑاچیلنج بن چکا ہے، جبکہ ملک میں موجود قوانین کے تحت ایسی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کا حق حاصل ہے۔شاہد رند نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ روایتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ صحافی عمومی طور پر پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی پاسداری کرتے ہیں، تاہم غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں