جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اپنے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور جماعت کے خلاف مبینہ طور پر بے بنیاد پروپیگنڈے اور متنازع رپورٹنگ کے معاملے پر آزاد ڈیجیٹل میڈیا کے خلاف ہتکِ عزت کی قانونی کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔ جماعت کے سینئر رہنما اور سینیٹر کامران مرتضیٰ نے واضح کیا ہے کہ متعلقہ میڈیا ادارے کو ہتکِ عزت اور ہرجانے کے قانونی نوٹس جاری کیے جائیں گے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد ڈیجیٹل کی جانب سے مولانا فضل الرحمان سے منسوب اسلام آباد میں مبینہ جائیدادوں، تعمیرات، تجاوزات اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے سابقہ نوٹس سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔آزاد ڈیجیٹل کی 3 نومبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سینیٹر کامران مرتضیٰ سے جب ادارے کے نمائندے نے دریافت کیا کہ آیا جمعیت علمائے اسلام متعلقہ میڈیا رپورٹنگ کے خلاف قانونی کارروائی کرنے جا رہی ہے تو انہوں نے ہتکِ عزت اور ہرجانے کے نوٹس جاری کرنے کا عندیہ دیا۔رپورٹ کے مطابق کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اسی روز قانونی نوٹس جاری کیے جائیں گے، جس کے بعد معاملے کو قانونی طور پر دیکھا جائے گا۔تاہم دستیاب اطلاعات میں قانونی نوٹسز کی باقاعدہ ترسیل، کسی عدالت میں دعویٰ دائر کیے جانے یا مقدمے کا نمبر سامنے نہیں آیا۔قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی شخص یا ادارے کو اپنی ساکھ کے تحفظ کے لیے متعلقہ قوانین کے تحت ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔ دوسری جانب صحافیوں اور میڈیا اداروں کو بھی عوامی مفاد سے متعلق معاملات کی تحقیق اور رپورٹنگ کا آئینی و قانونی تحفظ حاصل ہے، بشرطیکہ وہ پیشہ ورانہ اصولوں اور متعلقہ قوانین کی پابندی کریں۔ایسے تنازعات میں عدالتیں دستیاب شواہد، شائع شدہ مواد، اس کے سیاق و سباق اور متعلقہ فریقوں کے مؤقف کا جائزہ لے کر قانونی ذمہ داری کا تعین کرتی ہیں۔
41
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل