پیکا کیس، اقرار الحسن 26 اکتوبر تک جیل میں رہیں گے 19

پیکا کیس، اقرار الحسن 26 اکتوبر تک جیل میں رہیں گے

کراچی کی مقامی عدالت نے معروف ٹی وی اینکر، صحافی اور عوام راج تحریک کے سربراہ سید اقرار الحسن کی پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست مسترد کردی۔ اقرار الحسن پہلے سے جاری عدالتی ریمانڈ کے تحت 26 اکتوبر تک جیل میں رہیں گے۔ کراچی شرقی کے سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ اول گلریز میمن نے 22 اکتوبر کو فوجداری ضمانت کی درخواست نمبر 150/2026 پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل اور تفتیشی ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ مقدمے میں عائد الزامات کی نوعیت اور دستیاب ابتدائی شواہد کے پیش نظر ملزم کو اس مرحلے پر ضمانت دینے کا جواز موجود نہیں۔
اقرار الحسن کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی نے 10 اکتوبر 2026 کو مقدمہ نمبر 101/2026 درج کیا تھا۔ مقدمے میں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) 2016 اور اس میں 2025 کی ترامیم کے تحت مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں، جن میں سائبر دہشت گردی، جرائم کی تشہیر، سائبر اسٹاکنگ اور جھوٹی یا گمراہ کن معلومات کی اشاعت سے متعلق دفعات بھی شامل ہیں۔ استغاثہ کے مطابق اقرار الحسن نے مبینہ طور پر اپنے تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جن میں فیس بک، ایکس اور انسٹاگرام شامل ہیں، کے ذریعے ایسا مواد شائع کیا جس میں ریاستی اداروں اور حکومتی اقدامات کے خلاف مبینہ طور پر غلط، من گھڑت اور ہتک آمیز معلومات پھیلائی گئیں۔ تحقیقاتی ادارے کا مؤقف ہے کہ متعلقہ مواد سے عوام میں ریاستی اداروں کے خلاف جذبات بھڑکانے اور امن عامہ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔ این سی سی آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ تفتیش کے دوران متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے پوسٹس اور ویڈیوز کو بطور ثبوت محفوظ کیا گیا ہے، جبکہ ملزم کے قبضے سے چار موبائل فون اور ایک آئی پیڈ بھی تحویل میں لیا گیا۔ تحقیقاتی ادارے کے مطابق ڈیجیٹل آلات کے فرانزک تجزیے اور دیگر تکنیکی شواہد کی جانچ کا عمل جاری ہے۔
دوران سماعت اقرار الحسن کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے درخواست ضمانت کے حق میں دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل ایک معروف صحافی ہیں اور ان کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ وکیل کے مطابق مقدمے کی ایف آئی آر میں ایسے مخصوص الفاظ یا بیانات کی واضح نشاندہی نہیں کی گئی جنہیں قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت جرم قرار دیا جاسکے۔ وکیل صفائی نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ اقرار الحسن کے خلاف پیکا کی دفعہ 10، یعنی سائبر دہشت گردی، کا اطلاق نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ڈیجیٹل آلات پہلے ہی تحقیقاتی ادارے کی تحویل میں ہیں، لہٰذا ان کے مؤکل کی رہائی سے شواہد میں مداخلت کا خدشہ نہیں۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ مقدمہ مزید انکوائری کا متقاضی ہے، اس لیے اقرار الحسن کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔
دوسری جانب این سی سی آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل طارق ارباب نے درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کے خلاف سائبر دہشت گردی کی دفعہ بھی شامل ہے، جس کے تحت زیادہ سے زیادہ 14 سال قید اور پانچ کروڑ روپے جرمانے یا دونوں سزاؤں کی گنجائش موجود ہے۔ استغاثہ کے مطابق مقدمے کی تفتیش ابھی حساس مرحلے میں ہے اور بعض فرانزک رپورٹس اور تکنیکی ریکارڈ موصول ہونا باقی ہیں، اس لیے ملزم کی رہائی سے شواہد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ضمانت کی درخواست پر شواہد کا تفصیلی تجزیہ کرنے کے بجائے ابتدائی طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا ملزم کے خلاف الزامات کی حمایت میں معقول مواد موجود ہے یا نہیں۔ عدالت کے مطابق مقدمے میں سائبر دہشت گردی کی دفعہ شامل ہونے کے باعث ضمانت کے معاملے میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کی متعلقہ قانونی پابندیاں بھی زیر غور آتی ہیں۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت آزادی اظہار ایک بنیادی حق ہے، تاہم یہ حق ملکی سالمیت، سلامتی اور امن عامہ سمیت آئین میں بیان کردہ معقول پابندیوں سے مشروط ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ابتدائی ریکارڈ اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر اس مرحلے پر ضمانت کی درخواست منظور نہیں کی جاسکتی۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ ضمانت کی درخواست پر کیے گئے مشاہدات عارضی نوعیت کے ہیں اور ان سے مقدمے کے باقاعدہ ٹرائل یا ملزم کے حق دفاع پر کوئی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔ مقدمے میں عائد الزامات ابھی عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔ واضح رہے کہ اقرار الحسن کو 12 اکتوبر کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں کراچی منتقل کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں