ہری پور پریس کلب کے صدر اور سینئر صحافی حنیف اختر ہزاروی کی 3 ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف صحافی برادری نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پریس کلب کے ہنگامی اجلاس میں گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے متفقہ قرارداد منظور کی گئی اور متعلقہ حکام سے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی گئی۔اطلاعات کے مطابق حنیف اختر کو 14 اکتوبر کو پولیس نے ہری پور میں چھاپے کے دوران حراست میں لیا تھا، جس کے بعد انہیں تھانہ سٹی منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں 17 اکتوبر کو ان کی ڈیرہ اسماعیل خان جیل منتقلی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تاہم گرفتاری کی مکمل قانونی وجوہات اور متعلقہ کارروائی کی تفصیلات تاحال واضح نہیں ہوسکیں۔ہری پور پریس کلب کے ہنگامی اجلاس میں قائم مقام صدر ابرار تنولی، جنرل سیکرٹری ملک محمد اقبال، نائب صدر بخت زادہ خان، فنانس سیکرٹری یاسر خان، جوائنٹ سیکرٹری ملک ارشد اور دیگر سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ حنیف اختر نے اپنے صحافتی کیریئر کے دوران حقائق پر مبنی اور مثبت صحافت کے فروغ کے لیے خدمات انجام دی ہیں۔ ان کے مطابق پریس کلب نے ہمیشہ قومی اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کیا اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔مقررین نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر صحافی برادری اور ریاستی اداروں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ حنیف اختر کی گرفتاری کے فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے اور ان کی رہائی یقینی بنائی جائے تاکہ صحافی برادری میں پائی جانے والی بے چینی اور تشویش ختم ہوسکے۔اجلاس میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ حنیف اختر کی رہائی کے لیے خیبر پختونخوا کے دیگر پریس کلبوں اور صحافتی تنظیموں سے رابطے کیے جائیں گے اور ضرورت پڑنے پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ شرکاء نے کہا کہ صحافیوں کے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر دستیاب قانونی اور جمہوری فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔ صحافتی حلقوں نے گورنر خیبر پختونخوا، انسپکٹر جنرل پولیس اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتاری کی قانونی بنیاد اور الزامات کی تفصیلات سامنے لائی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی صحافی کے خلاف قانونی شکایت موجود ہے تو کارروائی شفاف طریقے سے کی جائے اور اسے دفاع کا مکمل قانونی حق فراہم کیا جائے۔صحافیوں نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے واقعات سے آزادیٔ صحافت اور صحافیوں کے تحفظ سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
20
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل