تحریر: شاہد غزالی
جان نثار کرنے کی بات جب بھی ہوگی، جانثارانِ بے نظیر بھٹو کا ذکر ضرور آئے گا۔ 18 اکتوبر 2007ء پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جسے سانحۂ کارساز کے شہدا کی قربانیوں کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ دن تھا جب جمہوریت کی بحالی اور اپنی قائد محترمہ بے نظیر بھٹو کے استقبال کے لیے آنے والے سیکڑوں کارکنان نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس سانحے میں تقریباً 180 افراد شہید اور 500 سے زائد زخمی ہوئے۔ ان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان، جانثارانِ بے نظیر بھٹو اور دیگر شہری شامل تھے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو طویل جلاوطنی کے بعد وطن واپس پہنچیں تو کراچی ایئرپورٹ پر ان کا فقیدالمثال استقبال کیا گیا۔ لاکھوں کارکنان، جیالے اور جمہوریت کے حامی شاہراہِ فیصل پر اپنی محبوب قائد کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب تھے۔ ایئرپورٹ سے مزارِ قائد تک کا سفر کئی گھنٹوں پر محیط ہوگیا۔ ہر طرف ’’جئے بھٹو‘‘ اور ’’بے نظیر بھٹو ویلکم‘‘ کے نعرے گونج رہے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کراچی کی سڑکوں پر عوام کا سمندر امڈ آیا ہو۔
بے نظیر بھٹو ایک خصوصی ٹرک میں سوار تھیں اور ان کے جانثار کارکنان حفاظتی حصار بنائے ان کے ساتھ رواں دواں تھے۔ دوسری جانب مزارِ قائد کے قریب جلسہ گاہ میں بھی ہزاروں افراد اپنی قائد کے خطاب کے منتظر تھے۔ شام ڈھلنے لگی اور اندھیرا چھانے لگا، لیکن عوام کا جوش و خروش برقرار تھا۔
جلوس جب کارساز پل کے قریب پہنچا تو اچانک ایک زوردار دھماکے نے خوشیوں کے ماحول کو قیامت خیز منظر میں بدل دیا۔ ہر طرف چیخ و پکار، زخمیوں کی آہیں اور بھگدڑ تھی۔ لوگ اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے تھے اور امدادی کارکن زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے میں مصروف تھے۔
لیکن اس قیامت خیز لمحے میں بھی جانثارانِ بے نظیر بھٹو کی سب سے بڑی فکر اپنی قائد کی حفاظت تھی۔ پہلے دھماکے کے بعد انہوں نے حفاظتی حصار مزید مضبوط کردیا۔ ابھی لوگ پہلے دھماکے کے صدمے سے سنبھل بھی نہ پائے تھے کہ دوسرا انتہائی طاقت ور دھماکہ ہوگیا۔ اس دھماکے نے مزید جانیں لے لیں اور سینکڑوں خاندانوں کو غم میں مبتلا کردیا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب بے شمار کارکنان اپنی قائد کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ ان کے لیے اپنی جان سے زیادہ اپنی قائد کی سلامتی اہم تھی۔ وہ اپنی جگہ ڈٹے رہے اور بے نظیر بھٹو کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔ بالآخر زندہ بچ جانے والے کارکنان اور حفاظتی عملے نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو جلوس سے بحفاظت نکالا اور بلاول ہاؤس پہنچا دیا۔
شہید صحافی عارف خان اور زخمی صحافی
سانحۂ کارساز میں صرف سیاسی کارکنان ہی نہیں بلکہ صحافی برادری بھی متاثر ہوئی۔ اے آر وائی نیوز کے کیمرہ جرنلسٹ عارف خان بھی اس سانحے میں شہید ہوگئے۔ میرے لیے یہ واقعہ ذاتی دکھ کی حیثیت رکھتا ہے۔ پہلے دھماکے کے بعد عارف خان میڈیا کی گاڑی سے اتر کر دھماکے کی کوریج کے لیے جلوس کے اندر جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ دوسرا دھماکہ ہوگیا اور وہ جانبر نہ ہوسکے۔
اس سانحے میں ہمارے کئی صحافی دوست شدید زخمی بھی ہوئے، جن میں سینئر صحافی شاہد انجم شامل تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگی عطا فرمائی۔ عارف خان کی شہادت نے صحافتی برادری کو غمزدہ کردیا۔ وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران جان سے گئے۔ ان کی قربانی صحافت کی تاریخ کا ایک دردناک باب ہے۔
19 اکتوبر: بے نظیر بھٹو کی پریس کانفرنس اور کارکنان کو خراجِ تحسین
سانحے کے اگلے روز 19 اکتوبر کو محترمہ بے نظیر بھٹو نے پریس کانفرنس میں اس حملے کو جمہوریت اور پاکستان کے اتحاد و سالمیت پر حملہ قرار دیا۔ اس قیامت خیز واقعے کے باوجود ان کے عزم میں کمی نہیں آئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ جمہوریت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی اور دہشت گردی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گی۔ ان کا مؤقف تھا کہ پاکستان کو بچانے اور جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے قربانی دینے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے کارکنان کی بہادری، وفاداری اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کے لیے یہ کارکن محض سیاسی جماعت کے ارکان نہیں تھے بلکہ وہ ساتھی تھے جنہوں نے خطرات کے باوجود ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ سانحے کے بعد زخمی کارکنان کی عیادت اور ان کے اہلِ خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی ان کی ترجیحات میں شامل رہا۔
یہی وہ جذبہ تھا جس نے جانثارانِ بے نظیر بھٹو کو تاریخ میں ایک نمایاں مقام دیا۔ ان کی قربانیوں کو محض اعداد و شمار میں محدود نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ ہر شہید کے پیچھے ایک خاندان، ایک زندگی اور کئی خواب تھے۔
کارساز کی یادگار اور شہدا کو خراجِ عقیدت
آج شاہراہِ فیصل پر کارساز کے مقام پر سانحے کے شہدا کی یادگار قائم ہے۔ ہر سال 18 اکتوبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما، کارکنان، شہدا کے اہلِ خانہ اور عقیدت مند یہاں جمع ہوکر پھول چڑھاتے، دعائیں کرتے اور اپنے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ یہ یادگار ان قربانیوں کی علامت ہے جو جمہوری جدوجہد کے دوران دی گئیں۔
سانحۂ کارساز ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سیاسی اختلافات اور جمہوری جدوجہد کے دوران انسانی جانوں کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ شہدا کے خاندانوں کی قربانیوں اور دکھ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی یاد منانے کا حقیقی تقاضا یہ بھی ہے کہ ملک میں امن، برداشت، قانون کی بالادستی اور جمہوری اقدار کو مضبوط بنایا جائے۔
آج جب بھی وفاداری، بہادری اور جانثاری کی مثال دی جائے گی تو 18 اکتوبر 2007ء کے جانثارانِ بے نظیر بھٹو کا ذکر ضرور ہوگا۔ انہوں نے اپنی قائد کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اور تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔
سلام ہے سانحۂ کارساز کے تمام شہدا کو، سلام ہے شہید صحافی عارف خان کو، اور سلام ہے ان تمام جانثاروں کو جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر وفاداری اور قربانی کی لازوال داستان رقم کی۔اللہ تعالیٰ تمام شہدا کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔(شاہد غزالی)۔۔
8