ہری پور پریس کلب کے صدراورسینئرصحافی حنیف اختر ہزاروی کو گرفتاری کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان جیل منتقل کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ ان کی گرفتاری کے بعد دوسرے ضلع کی جیل میں منتقلی سے متعلق قانونی وجوہات اور مقدمے کی تفصیلات تاحال واضح نہیں ہوسکی ہیں۔اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ہری پور سمیت مختلف اضلاع میں پولیس کی کارروائیوں اور چھاپوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ اسی دوران ہری پور پریس کلب کے صدر حنیف اختر کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔14 اکتوبر کو ایک رپورٹ کے مطابق پولیس کی بھاری نفری نے رات گئے ہری پور میں کارروائی کرتے ہوئے حنیف اختر کو حراست میں لیا اور بعدازاں انہیں تھانہ سٹی منتقل کردیا گیا تھا۔ تازہ موصول ہونے والی اطلاع کے مطابق حنیف اختر کو ڈیرہ اسماعیل خان جیل منتقل کردیا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان کی منتقلی کس قانونی حکم کے تحت عمل میں لائی گئی، آیا ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا گیا ہے یا انہیں کسی انتظامی حکم کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔اس حوالے سے متعلقہ پولیس اور جیل حکام کا باضابطہ مؤقف بھی سامنے نہیں آسکا۔ حنیف اختر کی گرفتاری اور دور دراز جیل میں منتقلی کے قانونی پہلوؤں، اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات کی سہولت اور ان کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔واضح رہے کہ حنیف اختر کی ابتدائی گرفتاری کی خبر دستیاب ذرائع سے سامنے آئی ہے، تاہم ڈیرہ اسماعیل خان جیل منتقلی کی تازہ اطلاع کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
45
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل