تحریر: شیراز خان
صحافی کا مطلب صرف "خبر لگانے والا" نہیں تھا۔ صحافت کا مطلب تھا "آئینہ دکھانا"۔
یہ سب کچھ ہم نے عرصہ قبل اپنے استادوں سے سیکھا۔ لکھنے کا سلیقہ، بولنے کا ہنر، سچ سننے کا حوصلہ اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا ظرف۔ آج بھی میں ان اساتذہ کی دل سے عزت کرتا ہوں، احترام کرتا ہوں اور ان کے لیے دعائیں کرتا ہوں۔
وہ ہمیں سکھاتے تھے کہ صحافی کا کام 3 چیزیں ہیں:
1. مظلوم کی آواز بننا
صحافی طاقتور کا ترجمان نہیں، کمزور کا وکیل ہوتا ہے۔ جس کی کوئی نہ سنے، قلم اس کی آواز بنے۔
2. سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنا
چاہے سامنے والا کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ حقائق کو توڑنا مروڑنا صحافت نہیں تھی۔ تحقیق، تصدیق اور توازن اصل صحافت تھی۔
3. معاشرے کی اصلاح کرنا
خبر صرف چلانی نہیں تھی، کردار بنانا تھا۔ تعلیم، صحت، کرپشن، ظلم… ان موضوعات پر قلم چلانا تھا۔
مگر آج سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ صحافت کہاں سے کہاں پہنچ گئی؟
آج چند سو کا مائک، چند ہزار کا موبائل لیا، اور خود کو "صحافی" کہلوانے لگے۔
کام کیا؟ کردار کشی۔ الزام تراشی۔ بغیر تحقیق کے خبر۔ لائکس اور ویوز کے لیے سچ کا سودا۔
یہ صحافت نہیں ہے۔ یہ کاروبار ہے۔ یہ تماشا ہے۔
اصل صحافت کیا ہے؟
اصل صحافت وہ ہے جہاں قلم میں سیاہی کے ساتھ غیرت بھی ہو۔
جہاں سوال کرنے کا حوصلہ ہو، اور جواب سننے کا ظرف بھی۔
جہاں خبر کے پیچھے ایجنڈا نہ ہو، صرف حق ہو۔
جہاں یوٹیوبر ہو یا اخبار نویس، چینل والا ہو یا ویب سائٹ والا… فرق صرف نیت کا ہو۔
آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو ایمانداری سے کام کر رہے ہیں۔ جو مظلوم کے لیے بولتے ہیں، جو ظلم کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں۔ وہی اصل صحافی ہیں۔ چاہے ان کے پاس بڑا ادارہ نہ ہو۔
صحافت مر نہیں سکتی، بس صحافی کا معیار گر گیا ہے۔
ہمیں اسے دوبارہ اپنے استادوں والی "اصل صحافت" بنانا ہو گا۔ ( شیراز خان ) ۔۔۔
31