صحافیوں کی جعلی وڈیوز انتہائی قابل مذمت ہے، پشاور پریس کلب۔۔۔۔ 21

صحافیوں کی جعلی وڈیوز انتہائی قابل مذمت ہے، پشاور پریس کلب۔۔۔۔

پشاور پریس کلب نے بھی ڈان نیوز کے بیورو چیف علی اکبر سے منسوب مبینہ جعلی ویڈیوز کی تیاری اور سوشل میڈیا پر تشہیر کی شدید مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض اور جنرل سیکرٹری عالمگیر خان نے اپنے مشترکہ بیان میں واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجی کو صحافیوں کی جعلی ویڈیوز تیار کرنے، ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔ پریس کلب کے عہدیداروں نے کہا کہ کسی صحافی کی شناخت، تصویر یا آواز کو غلط انداز میں استعمال کرکے اسے ایسی باتوں سے منسوب کرنا جو اس نے کہی ہی نہ ہوں، سنگین نوعیت کا معاملہ ہے۔ اس قسم کی سرگرمیوں سے صحافی کی پیشہ ورانہ زندگی متاثر ہونے کے ساتھ عوام کو بھی گمراہ کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ تحقیقاتی ادارے معاملے کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کریں اور جعلی ویڈیوز بنانے اور انہیں پھیلانے والے عناصر کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائیں۔اس واقعے نے صحافتی حلقوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار ہونے والی جعلی ویڈیوز، جنہیں عموماً ڈیپ فیک کہا جاتا ہے، کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق خدشات کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کردیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی شخص کی ظاہری شکل یا آواز کی نقل کرکے ایسا مواد تیار کیا جاسکتا ہے جو بظاہر حقیقی محسوس ہو۔خصوصاً صحافیوں کے حوالے سے ایسی ویڈیوز زیادہ حساس نوعیت اختیار کرسکتی ہیں کیونکہ ان کے نام سے منسوب جعلی بیانات نہ صرف عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرسکتے ہیں بلکہ متعلقہ صحافی کی پیشہ ورانہ ساکھ اور ذاتی تحفظ کے لیے بھی خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق متعلقہ ویڈیوز کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے کی تصدیق کے لیے کسی مکمل فرانزک تجزیے یا این سی سی آئی اے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ جعلی ویڈیوز سے متعلق الزامات فی الحال علی اکبر کی درخواست اور پشاور پریس کلب کے بیان پر مبنی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں