اقرارالحسن کا جسمانی ریمانڈ ختم کرنے کی درخواست مسترد۔۔۔ 15

اقرارالحسن کا جسمانی ریمانڈ ختم کرنے کی درخواست مسترد۔۔۔

کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت نے صحافی اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی ہے۔ اقرار الحسن اس وقت سائبر کرائم حکام کی تحویل میں چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔ اقرار الحسن کے خلاف خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر تنقید کرنے سے متعلق پیکا ایکٹ کے تحت ایک مقدمہ درج ہے۔جوڈیشل مجسٹریٹ کے اس فیصلے کے خلاف اقرار الحسن نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت کراچی شرقی میں ایک درخواست جمع کروائی تھی۔جمعرات کے روز درخواست کی سماعت کے دوران اقرار الحسن کے وکیل میاں علی اشفاق، این سی سی آئی اے کے پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوئے۔بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق عدالت کے روبرو ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق نے مؤقف اختیار کیا کہ اقرار الحسن کو 12 اکتوبر کی رات لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے میں ان کے گھر پر چھاپہ مار کر حراست میں لیا گیا، تاہم ایف آئی آر میں گرفتاری کا وقت درج نہیں۔ان کے مطابق اقرار الحسن لاہور کے مستقل رہائشی ہیں اور انھیں گرفتار کرنے کے لیے کراچی سے جانے والے تفتیشی افسر کے پاس اپنی ٹیم بھی موجود نہیں تھی۔
وکیل نے گرفتاری سے جسمانی ریمانڈ تک اختیار کیے گئے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔ انھوں نے عدالت سے استفسار کیا کہ کیا اقرار الحسن کو لاہور سے گرفتار کرنے کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب سے اجازت لی گئی اور کیا انھیں کسی عدالت سے راہداری ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد کراچی منتقل کیا گیا تھا۔انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گرفتاری کے وقت تفتیشی افسر موقع پر موجود نہیں تھے۔اقرار الحسن کے وکیل کے مطابق ’مقدمہ ایک ویڈیو سے متعلق ہے جو ان کے بقول اقرار الحسن کے سوشل میڈیا پیجز سے اپ لوڈ ہوئی۔وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ویڈیو میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے بارے میں بات کی گئی تھی، جو عوامی اور سیاسی بحث کا حصہ رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں کوئی شکایت کنندہ یا متاثرہ شخص سامنے نہیں آیا اور مقدمہ ایک ذرائع کی رپورٹ کی بنیاد پر درج کیا گیا۔وکیل نے عدالت میں متنازع ویڈیو کا ٹرانسکرپٹ بھی پیش کیا اور کہا کہ اقرار الحسن نے جو بات کی وہ پہلے بھی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر زیرِ بحث رہی ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار کو بھی روسٹرم پر بلا کر گرفتاری کے وقت کی صورتِ حال کے بارے میں پوچھا۔ فرح اقرار نے عدالت کو بتایا کہ گرفتاری کے موقع پر تفتیشی افسر موجود نہیں تھا۔دوسری جانب تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ اقرار الحسن کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور ان کے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیجیٹل آلات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق تقریباً 10 جی بی ڈیٹا کا تجزیہ کرنا باقی ہے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا جو بعد ازاں درخواست مسترد کرنے کی صورت میں سامنے آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں