92 نیوزملازمین کے پرسنل انٹرویوز، خاتون ٹکرز ہیڈ، سابق شفٹ انچارج فارغ ۔۔۔ 193

92 نیوزملازمین کے پرسنل انٹرویوز، ٹکرز ہیڈ، سابق شفٹ انچارج فارغ ۔۔۔

92 نیوز میں ملازمین میں تشویش کی لہر، دس سال سے وابستہ سابق شفٹ انچارج کو فارغ کر دیا گیا۔ 92 نیوز میں ملازمین کے حوالے سے حالیہ پیش رفت کے بعد کارکنوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پپو کے مطابق 92 نیوز میں سوگ کا سماں ہے، مالک نے دفتر کے ایک ایک بندے سے میٹنگ کی ، میٹنگ میں ڈائریکٹر نیوز ، کنٹرولر نیوز ، ایچ آر اور اکاونٹس آفیسر کو بٹھایا گیا ، ایک ایک ملازم آتا اور مالک کے سوالوں کے جواب دے کر چلتا جاتا۔۔ سوال کچھ یوں تھے
کی کرداں ایں ( کیا کرتے ہو)
شادی شدہ ، کتنے بچے ؟ کتنی تنخواہ لے رہے ہو ، پچھلے ادارے میں کتنی تھی ؟ اچھا بہت زیادہ تنخواہ لے ریا اے؟ کل ڈگری لے کر آ۔۔ کسی کو کہا تو نوٹس دے دے۔۔ کنٹرولر کو کہا تسی مل جل کے کام چلا ۔۔
پپو نے انکشاف کیا ہے کہ ادارے سے تقریباً دس سال سے وابستہ رہنے والے سابق شفٹ انچارج کو ملازمت سے فارغ کیے جانے کے بعد دیگر ملازمین بھی اپنے مستقبل اور تنخواہوں کے حوالے سے فکرمند دکھائی دے رہے ہیں۔پپو کے مطابق دو روز قبل چینل کے مالک نے ادارے کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مارننگ اور ایوننگ شفٹ میں کام کرنے والے ملازمین سے انفرادی طور پر ملاقاتیں کیں اور ان سے مختلف سوالات کیے۔ ان سوالات میں ملازمین کے عہدے، سابقہ اداروں، موجودہ ادارے میں کام کی مدت، سابقہ اور موجودہ تنخواہ، تعلیمی اسناد، عمر اور بچوں کی تعداد سے متعلق سوالات شامل تھے۔بعض ملازمین جن میں ہیڈ لائنز پروڈیوسراور ٹکرز آپریٹروغیرہ کو اپنی تعلیمی ڈگریاں پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی، جبکہ بعض کی تنخواہوں اور ادارے میں ملازمت کے دورانیے کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق متعدد ملازمین جن میں دو این ایل ای بھی شامل ہیں کوتنخواہ میں ممکنہ کمی کا عندیہ دیا گیا، جبکہ ٹکرز ہیڈ کے معاملے میں کنٹرولر نیوز کو 30 تاریخ تک نوٹس دے کر تنخواہ کی ادائیگی کے بعد ملازمت ختم کرنے کی ہدایت دینے کی بات بھی سامنے آئی ہے، پپو کا کہنا ہے کہ چینل سے طویل عرصے تک وابستہ رہنے والے ایک سابق شفٹ انچارج کو بھی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ جنہیں کچھ عرصہ قبل عہدے میں تنزلی کے بعد اپنے جونیئرکو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ تاہم، اب دورانِ ڈیوٹی ایچ آر کے ایک نمائندے نے انہیں آگاہ کیا کہ ادارے میں ان کی خدمات مزید درکار نہیں اور وہ گھر جا سکتے ہیں۔اس پیش رفت کے بعد ادارے کے دیگر کارکنوں میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔ پپو کا مزید کہنا ہے کہ بدھ کے روز نیوز روم میں کچھ لوگ نہیں آئے جن کے متعلق افواہ یہ گرم رہی کہ شاید انہیں فارغ کردیاگیا، کوئی دس لوگ ہیں جن کا تعلق کری ایٹو، ڈیجیٹل ڈپارٹمنٹ سے ہے ۔ پپو نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ مبینہ طور پر یہ اطلاعات بھی نیوز روم میں گرم ہیں کہ ایک صحافی رہنما کی ٹیم کے کسی بندے کا انٹرویو نہیں لیا گیا اور مالک نے ایک بھی رپورٹر سے ملاقات نہیں کی۔
ملازمین کو خدشہ ہے کہ آیا حالیہ تبدیلیاں مزید برطرفیوں، عہدوں میں ردوبدل یا تنخواہوں میں کٹوتیوں کا پیش خیمہ ہیں۔ملازمین کی تشویش میں اس وجہ سے بھی اضافہ ہوا ہے کہ ان کے مطابق ستمبر کی تنخواہیں تاحال ادا نہیں کی گئیں۔ ایسے میں کارکنوں کے ذہنوں میں اپنی ملازمتوں کے تحفظ، تنخواہوں کی بروقت ادائیگی اور ممکنہ مالی کٹوتیوں سے متعلق متعدد سوالات جنم لے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں