کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت نے صحافی اقرار الحسن کو جسمانی ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے کیے جانے کے فیصلے کے خلاف این سی سی آئی اے کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔منگل کے روز اقرار الحسن کو کراچی میں ضلع شرقی کے جوڈیشل مجسٹریٹ ون کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں این سی سی آئی اے نے ان سے مزید تفتیش کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی اور عدالت نے ان کا چار روزہ ریمانڈ منظور کر لیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ کے اس فیصلے کے خلاف اقرار الحسن نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت کراچی شرقی میں ایک درخواست جمع کروائی تھی۔اقرار الحسن کے خلاف خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر تنقید کرنے سے متعلق پیکا ایکٹ کے تحت ایک مقدمہ درج ہے۔
اقرار الحسن کی جانب سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت میں دائر اپیل کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے جاری فیصلے میں قرار دیا گیا تھا کہ ’ایف آئی آر کے مندرجات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ بادی النظر میں قابلِ اعتراض مواد پر مشتمل ضبط شدہ شواہد برآمد ہو چکے ہیں جو ملزم کو مبینہ جرم سے جوڑتے ہیں، لہٰذا ملزم کے خلاف الزامات معقول بنیاد رکھتے ہیں اور اس کی گرفتاری بظاہر جائز معلوم ہوتی ہے۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ تفتیش ابتدائی مرحلے میں ہے اور تفتیشی افسر کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست بظاہر مناسب معلوم ہوتی ہے، لہٰذا ملزم کو چار روز کے لیے تفتیشی افسر/این سی سی آئی اے کی جسمانی تحویل میں دیا جاتا ہے اور ہدایت کی جاتی ہے کہ 17 اکتوبر 2026 کو ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے اور تفتیشی پیش رفت کی رپورٹ بھی جمع کروائی جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم نامے میں ایسی کسی ’ٹھوس اور غیر معمولی وجہ‘ کا ذکر نہیں کیا گیا جو درخواست گزار کو جسمانی تحویل میں دینے جیسے سخت اقدام کا جواز فراہم کرتا ہو۔'صرف یہ حقیقت کہ تفتیش ابتدائی مرحلے میں ہے، یا یہ کہ ملزم کا نام ایف آئی آر میں شامل ہے، اپنے طور پر جسمانی ریمانڈ کے لیے ’ٹھوس اور غیر معمولی وجہ‘ قرار نہیں دی جا سکتا۔اقرار الحسن کی جانب سے دائر درخواست میں اپیل کی گئی ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے درخواست گزار کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر تفتیشی افسر/این سی سی آئی اے کے حوالے کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دیا جائے۔عدالت سے مزید استدعا کی گئی ہے کہ یا تو ملزم کو بری کرنے کا حکم دیا جائے یا متبادل طور پر درخواست گزار کو جسمانی ریمانڈ کے بجائے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے۔اس کے علاوہ درخواست میں اپیل کی گئی ہے کہ عدالت ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت نے اقرار الحسن کی درخواست پر این سی سی آئی اے کے وکیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جمعرات 15 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
39