پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ملک بھر کے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز، بالخصوص نیوز اور کرنٹ افیئرز چینلز کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے دھماکوں، فائرنگ، دہشت گرد حملوں اور دیگر ناخوشگوار واقعات کی براہِ راست کوریج سے گریز کرنے کا حکم دیا ہے۔ اتھارٹی نے اس حوالے سے 20 فروری 2023 کو جاری کیے گئے حکم امتناع پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
پیمرا کی جانب سے 13 اکتوبر 2026 کو جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ تمام نیوز اور کرنٹ افیئرز چینلز کسی بھی دہشت گرد حملے، دھماکے، فائرنگ یا امن و امان کی سنگین صورتحال کے دوران غیر مصدقہ اطلاعات اور براہِ راست مناظر نشر کرنے سے گریز کریں۔ ایسے واقعات سے متعلق صرف متعلقہ سرکاری محکموں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تصدیق شدہ معلومات ہی نشر کی جائیں۔
پیمرا کے مطابق حساس اور ہنگامی صورتحال میں غیر مصدقہ خبروں، قیاس آرائیوں اور جائے وقوعہ سے براہِ راست نشریات کے باعث عوام میں خوف و ہراس پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے، جبکہ ایسی کوریج امدادی کارروائیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آپریشنز کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔
اتھارٹی نے واضح کیا کہ ٹی وی چینلز کے درمیان سب سے پہلے خبر نشر کرنے کی دوڑ میں صحافتی اصولوں اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس حوالے سے پیمرا نے فروری 2023 میں بھی ہدایات جاری کی تھیں جن میں دہشت گردی کے واقعات کے دوران غیر مصدقہ معلومات اور مسلسل براہِ راست نشریات پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔
نئی ہدایات کے تحت تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو اپنی براہِ راست نشریات میں ٹائم ڈیلے میکانزم مؤثر انداز میں استعمال کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے براہِ راست نشریات کو چند لمحوں کی تاخیر سے نشر کیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی غیر مناسب، غیر مصدقہ یا حساس مواد کو نشر ہونے سے قبل روکا جاسکے۔
پیمرا نے تمام چینلز کو آزاد ادارتی بورڈ تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ نشریاتی مواد کی نگرانی، صحافتی ضابطہ اخلاق کی پابندی اور حساس خبروں کی اشاعت سے قبل ادارتی جانچ پڑتال کو یقینی بنایا جاسکے۔
اتھارٹی نے چینلز کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے نیوز رومز، فیلڈ رپورٹرز، کیمرہ مینوں اور پروڈیوسرز کو متعلقہ ہدایات سے آگاہ کریں اور نشریات کے دوران ذمہ دارانہ صحافتی رویہ اختیار کریں۔
پیمرا کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ تمام لائسنس یافتہ سیٹلائٹ ٹی وی چینلز الیکٹرانک میڈیا ضابطہ اخلاق 2015 اور متعلقہ قانونی احکامات کی پابندی کے ذمہ دار ہیں۔ نشریاتی قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں پیمرا آرڈیننس کی دفعات 29 اے، 30 اور 33 کے تحت قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے، جس میں قانون کے مطابق جرمانے اور لائسنس سے متعلق کارروائی بھی شامل ہوسکتی ہے۔
یاد رہے کہ پیمرا نے 20 فروری 2023 کو دہشت گردی کے واقعات کی کوریج کے حوالے سے پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس وقت اتھارٹی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بعض نیوز چینلز دہشت گرد حملوں کے دوران مسلسل نشریات میں غیر مصدقہ معلومات نشر کرتے ہیں، جس سے نہ صرف عوام میں بے چینی پیدا ہوتی ہے بلکہ دہشت گرد عناصر کو غیر ضروری تشہیر ملنے کا خدشہ بھی ہوتا ہے۔اس فیصلے پر آزادیٔ صحافت کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے گئے تھے۔ بعض صحافتی حلقوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ غیر مصدقہ معلومات کی روک تھام ضروری ہے، تاہم دہشت گردی کے واقعات کی کوریج پر وسیع پابندیاں عوام کے حقِ معلومات کو متاثر کرسکتی ہیں۔
پیمرا کی تازہ ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ملک میں امن و امان اور سکیورٹی سے متعلق واقعات کی رپورٹنگ میں ذمہ دارانہ صحافت، اطلاعات کی تصدیق اور نشریاتی ضابطہ اخلاق کی پابندی کی اہمیت پر زور دیا جارہا ہے۔اتھارٹی نے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مذکورہ احکامات پر سختی سے عمل درآمد کریں، بصورت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
34