خیبر پختون خوامیں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کے بعد ہری پور میں تحریک انصاف کے منتخب و غیر منتخب قائدین کے گھر اور ان سے متعلق افراد کے گھروں و دفاتر پر چھاپوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ان چھاپوں میں تاحال کوئی بڑی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے ۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ رات گئے ہری پور میں چھاپہ مار کر ہری پور پریس کلب کے صدر حنیف اختر کو حراست میں لے لیا گیا ۔ بعد ازاں انہیں تھانہ سٹی میں منتقل کر دیا گیا ہے ۔ تاہم ابھی تک کوئی بھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے ۔۔ دوسری جانب ہری پور پریس کلب کے صدر حنیف اختر کی مبینہ حراست پر مقامی صحافیوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی صورتحال کی آڑ میں صحافیوں کو حراست میں لینا یا ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو متاثر کرنا قابل مذمت ہے۔صحافتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ کسی بھی صحافی کے خلاف اگر کوئی قانونی شکایت یا الزام موجود ہے تو اسے قانون کے مطابق سامنے لایا جانا چاہیے اور متعلقہ شخص کو اپنے دفاع کا مکمل حق ملنا چاہیے۔ صحافیوں نے مطالبہ کیا کہ حنیف اختر کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور اگر ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی گئی ہے تو اس کی تفصیلات واضح کی جائیں۔مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں صحافیوں کی ذمہ داریاں پہلے ہی حساس نوعیت اختیار کرچکی ہیں، ایسے میں صحافتی نمائندوں کی گرفتاریوں یا حراست کے واقعات سے آزادیٔ صحافت اور صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے مزید خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔صحافتی حلقوں نے گورنر خیبر پختونخوا، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ہری پور پریس کلب کے صدر کی مبینہ حراست کا فوری نوٹس لیا جائے، ان کی قانونی حیثیت اور حراست کی وجوہات واضح کی جائیں اور کسی مقدمے یا قانونی جواز کی عدم موجودگی میں انہیں رہا کیا جائے۔تاحال حنیف اختر کی حراست کی وجوہات، ان کے خلاف کسی مقدمے کے اندراج اور ممکنہ رہائی کے حوالے سے پولیس کا باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
30
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل