خاتون صحافی کو این سی سی آئی اے کا طلبی نوٹس۔۔۔ 51

خاتون صحافی کو این سی سی آئی اے کا طلبی نوٹس۔۔۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے صحافی عالیفیہ سہیل کو سوشل میڈیا پر مبینہ ریاست مخالف مواد شائع یا شیئر کرنے کے الزام میں 16 اکتوبر کو کراچی دفتر طلب کرتے ہوئے تمام متعلقہ ڈیجیٹل آلات، دستاویزات اور شواہد ساتھ لانے کی ہدایت کی ہے۔ صحافی نے نوٹس میں الزامات کی تفصیلات فراہم نہ کیے جانے پر شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے صحافتی آزادی اور آزادانہ رپورٹنگ کے لیے تشویش ناک قرار دیا ہے۔عالیفیہ سہیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں بتایا کہ این سی سی آئی اے نے انہیں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت طلبی نوٹس جاری کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ریاست مخالف مواد شائع یا شیئر کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔عالیفیہ سہیل کے مطابق نوٹس میں نہ تو کسی مخصوص سوشل میڈیا پوسٹ کی نشاندہی کی گئی ہے، نہ شکایت کنندہ کا نام بتایا گیا ہے اور نہ ہی الزامات کی حمایت میں کوئی ثبوت فراہم کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود انہیں اپنی صفائی میں شواہد پیش کرنے اور تمام متعلقہ ڈیجیٹل آلات ساتھ لانے کا حکم دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق 12 اکتوبر کو جاری ہونے والے نوٹس میں انکوائری نمبر 678/2025 کا حوالہ دیا گیا ہے اور صحافی کو 16 اکتوبر کی صبح ساڑھے 11 بجے این سی سی آئی اے کراچی کے دفتر میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نوٹس میں اصل قومی شناختی کارڈ، متعلقہ ڈیجیٹل آلات، دستاویزات اور اپنے دفاع میں دستیاب شواہد پیش کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ عدم پیشی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے جبکہ متعلقہ کارروائی ان کی غیر موجودگی میں بھی مکمل کی جاسکتی ہے۔صحافی عالیفیہ سہیل نے نوٹس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کسی شہری کو یہ بتائے بغیر کہ اس کے خلاف اصل شکایت کیا ہے اور کون سا مواد قابل اعتراض قرار دیا گیا ہے، اپنے دفاع میں ثبوت فراہم کرنے کا کہنا قانونی اصولوں کے منافی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدالتیں ماضی میں بھی سائبر کرائم اداروں کو غیر واضح الزامات پر مبنی طلبی نوٹس جاری کرنے کے حوالے سے خبردار کرچکی ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی شخص کو تحقیقات کے لیے طلب کرتے وقت متعلقہ شکایت، مبینہ جرم اور دستیاب شواہد کی مناسب تفصیلات فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے خلاف عائد الزامات کو سمجھ سکے۔عالیفیہ سہیل نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ پاکستان میں انسانی حقوق اور ریاستی اختیارات کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق صحافتی رپورٹنگ کرتی ہیں، تاہم اس نوعیت کی صحافت کو مجرمانہ سرگرمی تصور نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے ریاست مخالف مواد کی اصطلاح کے استعمال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نوٹس میں کسی واضح جرم کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
صحافی نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی مخصوص جرم کی وضاحت کیے بغیر صحافی کے ڈیجیٹل آلات طلب کرنا محض ایک معمول کی انکوائری کا معاملہ نہیں بلکہ اس سے دیگر صحافیوں کو بھی تشویش ناک پیغام ملتا ہے۔رپورٹ کے مطابق عالیفیہ سہیل کا اعتراض صرف الزامات کی غیر واضح نوعیت تک محدود نہیں بلکہ ان کے ڈیجیٹل آلات کی طلبی سے متعلق بھی ہے۔ تاہم دستیاب معلومات سے یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تحقیقاتی ادارہ ان آلات کا صرف معائنہ کرنا چاہتا ہے، ان میں موجود ڈیٹا کی نقول حاصل کرنا چاہتا ہے یا انہیں اپنی تحویل میں لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
جرنلزم پاکستان نے اس معاملے کے پس منظر میں اکتوبر 2025 کی ایک سابقہ عدالتی کارروائی کا بھی حوالہ دیا ہے، جس میں پشاور ہائی کورٹ نے تین صحافیوں کو جاری کیے گئے این سی سی آئی اے کے نوٹس عارضی طور پر معطل کیے تھے۔ مذکورہ صحافیوں نے بھی اپنی درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں جاری کردہ نوٹس میں الزامات اور شکایات کی مناسب تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔اس حوالے سے پاکستان پریس فاؤنڈیشن نے 7 اکتوبر 2025 کو ایک رپورٹ شائع کی تھی، جس میں صحافیوں کو غیر واضح بنیادوں پر جاری کیے گئے طلبی نوٹس سے متعلق عدالتی کارروائی کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں۔تاہم عالیفیہ سہیل کے معاملے میں کسی عدالت کی جانب سے نوٹس کو غیر قانونی قرار دیے جانے یا اس کے خلاف کوئی حکم جاری ہونے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں