تحریر : امریز خان
لاہور کے ایک نجی ہوٹل میں دو افراد کے درمیان ہونے والی تلخی اندھیرے اور نفرتوں کے سوداگروں کے لئے جیسے عید کا پیغام لائی ہو۔ ان کا تو جیسے کاروبار چل پڑا ہو۔ سوشل میڈیا پر بیہودگی اور گالم گلوچ کا ایک سیلاب سا امڈ آیا ہے۔ دو انسانوں میں اختلاف بہت ہی قدرتی امر ہے۔ دنیا کے مہذب ترین ممالک کے ایوانوں میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اختلاف کے بعد بات ایک حد سے آگے بڑھ جاتی ہے اور پھر سمیٹ بھی لی جاتی ہے۔ ادھر بھی کچھ ایسا ہی ہوا صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری اور کالم نگار کم سیاستدان حفیظ اللہ کے درمیان کسی بات پر اختلاف ہو گیا اور بات آپ سے تم اور تم سے تو ہونے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر بیچ بچاو ہو گیا۔ حفیظ اللہ صاحب سے بصد احترام گزارش ہے کہ سر "عزت پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی کمائی جاتی ہے"۔ آپ نے ارشد انصاری سے کوئی اختلافی بات کی اور ایک پرہجوم محفل میں کی اور اس کے بعد صدر کی کسی بات کو رد کرنے اور اپنی بات منانے کی کوشش کی۔ جس سے ماحول خراب ہوا اور بحث شروع ہوئی۔ میری دانست میں اختلافی بات ایسے سرہ راہ نہیں کرنا چاہئے تھی۔ اس کے لئے نہ وقت موزوں تھا اور نہ ہی جگہ۔ کہیں علیحدگی میں بیٹھ کر یہ بات بہت عمدہ انداز میں ہو سکتی تھی۔
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے؟
سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے؟
لیکن خیر اب تو ہو گیا جو ہونا تھا۔ آپ بھی قابل احترام ہیں اور ارشد انصاری بھی۔ اللہ کرے یہ معاملہ صلح جوئی کے ساتھ حل ہو۔
لیکن ایک بات میں آپ کو ضرور کہوں گا کہ یہ جو سوشل میڈیا پر چند ہارے ہوئے جرنیل آپ سے اظہار ہمدردی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ دراصل اپنی کڑ نکال رہے ہیں۔ یہ جو below the belt باتیں کر رہے ہیں یہ حب حفیظ سے زیادہ بغض ارشد میں کر رہے ہیں۔ لہذا اس مہم سے زیادہ حقائق کو سامنے رکھئیے گا۔ کہ غلطی انسان سے ہو جاتی ہے نہ آپ فرشتہ ہیں اور نہ ہی ارشد انصاری۔ اپنی اپنی غلطیوں کو سامنے رکھ کر دلوں کو صاف کیا جا سکتا ہے۔ امید ہے اپ کسی کی الیکشن مہم کا سامان نہیں بنیں گے۔ باقی آپ مجھ سے زیادہ سمجھدار ہیں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔۔(امریز خان)۔۔۔
31