لاہور کے ہوٹل میں لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری سے ہونے والے جھگڑے سے متعلق معروف کالم نگار اور ٹی وی ٹودے کے صدر حفیظ اللہ نیازی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا ہے کہ ۔۔میرے پاس ایک جاننے والے تشریف لائے۔ انہوں نے بتایا کہ میری گلاس فیکٹری میں ایک ملازم کام کرتے ہیں، جو دوسری گلاس فیکٹری چھوڑ کر میرے پاس آئے تھے۔ کچھ عرصے بعد انہیں معلوم ہوا کہ اس ملازم کے خلاف 50 لاکھ روپے کے غبن کے الزام میں ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے۔ان کی کہانی سننے کے بعد میں نے متعلقہ پولیس افسران سے رابطہ کیا تو ان کے بقول معلوم ہوا کہ ایف آئی آر مبینہ طور پر جھوٹی تھی اور یہ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کے کہنے پر درج کی گئی تھی۔بعد ازاں ایک پروگرام میں ارشد انصاری سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں کہا کہ لوگوں کو مبینہ طور پر بلیک میل کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ اس بات پر وہ شدید برہم ہوگئے اور مغلظات بکنے لگے۔سوال یہ ہے کہ اگر کسی شہری کے خلاف ذاتی مفادات یا دباؤ کے تحت جھوٹا مقدمہ درج کرایا جائے تو اس کے ساتھ انصاف کون کرے گا؟پنجاب حکومت اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائیں۔ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو قانون کے مطابق ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، تاکہ کسی بااثر شخص یا مبینہ مافیا کو قانون سے بالاتر ہونے کا موقع نہ ملے اور عام شہریوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
31
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل